کراچی (نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پاناما لیکس اور کرپشن کے معاملے پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف تحریک چلاتی ہیں تو تحریک انصاف ان کا ساتھ دینے کے لےے تیار ہے۔ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ پاناما لیکس کے معاملے پر اگر انصاف نہیں ملا تو تحریک انصاف دوبارہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر آئے گی۔ حکومت مخالف تحریک کے لےے پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف سے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ جب رابطہ ہو گا تو مشاورت سے جواب دیںگے۔ لوگوں کو رینجرز اور ملٹری کورٹس سے بہت امید ہے۔ ملٹری کورٹس سے لوگوں کو انصاف ملے گا۔ تحریک انصاف کے کارکن فضل رحیم کے قاتل اگر گرفتار نہیں کےے گئے تو کراچی میںبھرپور احتجاج کیا جائےگا۔ جنید جمشید ایک عظیم انسان تھے۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ضلع وسطی میں تحریک انصاف کی رکنیت سازی مہم کے افتتاح ، امام بارگاہ باب العلم کے دورے تحریک انصاف کے مقتول کارکن فضل رحیم کے گھر پر پٹیل پاڑہ میں تعزیت اور معروف نعت خواں جنید جمشید کے گھر پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد مختلف مقامات پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عمران خان نے ضلع وسطی میں تحریک انصاف کی رکنیت مہم کے کیمپ کا افتتاح کیا۔ وہ افرا تفری کے سبب ضلعی دفتر کا افتتاح کےے بغیر ہی روانہ ہو گئے۔ بعدازاں عمران خان پٹیل پاڑہ میں پی ٹی آئی کے مقتول کارکن فضل رحیم کے گھر گئے ، جہاں انہوں نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ فضل رحیم شاہراہ فیصل پر فائرنگ کے ایک واقعہ میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ عمران خان ممتاز نعت خواں جنید جمشید کے گھر بھی گئے اور وہاں انہوں نے ان کے بھائی ہمایوں جمشید سے ملاقات کی اور جنید جمشید کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ مختلف مقامات پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ملک کے حکمران نا اہل اور بدعنوان ہیں۔ ملک میں جب تک عدل نفاذ نہیں ہو گا، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ملک سب کا گھر ہوتا ہے۔ جب کرپشن ہو گی اور پیسہ کیا جائے گا تو ملک غریب سے غریب تو ہو جائے گا۔ حکمران پاکستان کا یہی حال کر رہے ہیں۔ ملک چلانے کے لےے پیسہ نہیں ہے۔ حکمران قرضے پر قرضہ لے رہے ہیں اور قومی ادارے گروی رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف حکمرانوں کی کرپشن پر خاموش نہیں بیٹھ سکتی ہے۔ کرپشن صرف ہمارا نہیں ملک بھر کا مسئلہ ہے۔ ہم حکمرانوں کی کرپشن پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ سندھ میں پولیس سے لوگوں امید نہیں ہے۔ سندھ پولیس میں اصلاحات کی ضرورت ہے اگر پولیس ٹھیک ہو جائے گی تو رینجرز کی ضرورت نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں رینجرز کے ٹارگیٹڈ آپریشن سے جرائم میں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلرز کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جائے گا۔ ہمارے مقتول کارکن کے قتل کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلایا جائے۔ ہم پی ٹی آئی کی زہرہ آپا کا کیس فالو کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ان کے قاتلوں کو سزا ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنید جمشید ایک عظیم انسان تھے۔ ان کی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حویلیاں میں ہونے والے طیارہ حادثے شفاف تحقیقات ہونی چاہئےں۔ بعد ازاں عمران خان لیاری پہنچے جہاں انہوںنے ضلع جنوبی کے تحت پی ٹی آئی کے رکنیت سازی کیمپ کا افتتاح کیا۔انہوںنے کہا کہ کراچی میں پی ٹی آئی کو تنظیمی سطح پر بھرپور انداز میں منظم کررہے ہیں اور آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی لیاری سمیت پورے شہر میں حیرت انگیز نتائج دے گی۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی میں دسمبر 2019 تک پاکستان کا سب سے بڑا کینسرہسپتال فعال ہو جائےگا،پاکستان میں انصاف کا کوئی نظام موجود نہیں جبکہ ملک میں معاشی اور تعلیمی نا انصافی ہے، ہم نے قائد اعظمؒاور علامہ اقبالؒکے فلسفوں کو چھوڑ دیا ہے، ملک اس لئے نہیں حاصل کیا گیا تھا کہ ٹاٹا کی جگہ ہم پر شریف اور زرداری مسلط ہو جائیں، پاکستان کے 90فیصد لوگ کینسر کا علاج مہنگا ہونے کے باعث نہیں کراسکتے ہیں،عام افراد نے شوکت خانم اسپتال کےلئے دل کھول کر عطیات دیئے ہیں،ہسپتال کےلئے زمین کی فراہمی پر ڈی ایچ اے سٹی کا شکرگزار ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے ڈی ایچ اے سٹی کراچی میں ملک کے تیسرے شوکت خانم کینسر اسپتال کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں کینسر کا علاج بہت ہی مہنگا ہے اور اگر ابتدائی سطح پر اس علاج کی تشخیص نہ ہو تو کینسر کے علاج پر کروڑوں روپے لگ جاتے ہیں، اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب میں اپنی والدہ کو علاج کے لئے بیرون ملک لے کر گیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ زیادہ لاگت کی وجہ سے 90 فیصد پاکستانی کینسر کا علاج نہیں کرا سکتے لیکن شوکت خانم اسپتال میں 75 فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے اور اب تک صرف کینسر کے علاج پر 26 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، کراچی کے شوکت خانم اسپتال میں مریضوں کو کھانا بھی مفت ملا کرے گا، 29 دسمبر 2019 تک پاکستان کا سب سے بڑا شوکت خانم کینسر اسپتال فعال ہو جائے گا۔انہوںنے کہا کہ پاکستان میں چھوٹا سا طبقہ امیر اور باقی غریب ہو رہے ہیں، قائد اعظم اور علامہ اقبال کے فلسفے پر عمل کئے بغیر ہم اس ملک کو فلاحی ریاست نہیں بنا سکتے اور ملک کو فلاحی ریاست بنائے بغیر اسے نہیں چلایا جا سکتا۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنایا گیا تھا۔یہ ایک وژن تھا، ہم اس وژن سے ہٹ گئے ہیں۔وی آئی پی کلچرنہ ہوتوامیروں کواحساس ہوگاکہ غریبوں کاعلاج کیسے ہوتا ہے۔شوکت خاتم اسپتال میں انسانوں میں فرق نہیں کیاجاتا۔شوکت خانم اسپتال لاہور اور پشاور میں کررہا ہے۔اب ہم نے کراچی میں اس کا سنگ بنیا رکھا ہے۔کینسراسپتال میں علاج، کھانے اوردیگرتمام سہولیات مفت ہونگی۔۔عمران خان نے کہا کہ بڑے کام کے لیے کشتی جلانے کا مقصد پیچھے نہ ہٹنا ہے۔عام آدمی نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے دل کھول کر عطیات دیے ہیں۔اصل میں یہ اسپتال بچوں نے بنایا ہے بچوں کا جوش و جذبہ دیکھنے کے قابل تھا۔انہوںنے کہا کہ سب کہتے تھے کہ کینسر کا علاج مفت نہیں ہوسکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ 1990میں پنجاب حکومت کینسرہسپتال بنانے کی کوشش کررہی تھی اس منصوبے کا ناکام ہی ہونا تھا کہ کیونکہ وزیراعلیٰ میاں نواز شریف تھے۔عمران خان نے بتایا کہ جب کینسر ہسپتال بنانے لگے تو 20میں سے 19ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ ہسپتال نہیں بن سکتا تاہم جب بھی مشکل کام کیلئے انسان نکلے تو کشتیاں جلا کر نکلے۔”کراچی میں کینسر ہسپتال کے قیام سے کراچی والوں کا خواب پورا ہو رہا ہے‘پاکستان کے ہسپتالوں میں عام آدمی کا بر احال کیا جاتا ہے،ہسپتالوںم یں ساری توجہ وی آئی پی کی طرف ہوتی ہے،شوکت خانم کینسر ہسپتال میں مریضوں میں تفریق نہیں کی جاتی،غریب کو مفت علاج کے ساتھ ادویات اور کھانا بھی دیا جاتا ہے۔عمران خان نے کہاکہ پاکستان میں ناانصافی کانظام ہے،معاشی ناانصافی،تعلیمی ناانصافی،عدالتی ناانصافی ہے،ہمیں دوسرے ممالک میں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،چھوٹا سا طبقہ امیر تر ہوتا جارہا ہے،عوام غریب ہورہے ہیں،پانچ لاکھ بچے گندا پانی پینے کی وجہ سے مرتے ہیں،ہم ملک کو فلاحی ریاست بنائیں گے،ماضی میں ن لیگ نے شوکت خانم ہسپتال کو نشانہ بنایا،شوکت خانم کو نشانہ بنانے پر چندہ مہم متاثر ہوئی۔ عمران خان اظہار افسوس کے لئے جنےد جمشےد کے گھر گئے ان کے بھائی ہماےوں جمشےد سے تعزےت بھی کی۔ تفصےلات کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ جےند جمشےد بہت عمدہ کردارکے مالک تھے، انہوں نے ابتدائی دنوں مےںشوکت خانم ہسپتال کےلئے فنڈ رےزنگ بھی کی تھی طےارہ حادثے کی مکمل طور پر تحقےقات ہونی چاہےں تا کہ دوسرے مسافسروںکی جان کے تحفظ کو ےقےنی بناےا جا سکے۔ واضح رہے کہ چترال سے اسلام آبادآنے والا پی آئی اے کا طےارہ راستے مےں حادثے کا شکارہوگےا تھا جس کے نتےجے مےں جےند جمشےد سمےت جہاز مےںموجود تمام مسافر شہےد ہو گئے تھے۔
پولیس ناکام ، عوام کو رینجرز اور فوجی عدالتوں سے بڑی امید

