مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز بطور ثالث ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ تاریخی معاہدہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پایا ہے۔
اس اہم ترین دستاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط پہلے ہی ثبت ہو چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران اس یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ دوسری جانب، ایرانی سرکاری میڈیا کی طرف سے جمعرات کو ایک تصویر منظرِ عام پر لائی گئی جس میں صدر مسعود پزشکیان کو اس دستخط شدہ معاہدے کی کاپی تھامے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے جی سیون سمٹ کے اختتام پر پیلس آف ورسائی میں منعقدہ کینڈل لائٹ ڈنر کے دوران اس یادداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر میزبان فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور دیگر عالمی رہنماؤں نے تالیاں بجا کر اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔ محل سے روانگی کے وقت ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ انہوں نے ‘ابھی اس دستاویز پر دستخط کیے ہیں’۔
ادھر ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘ارنا’ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے صدور کے دستخطوں کے بعد اب یہ دستاویز مکمل طور پر حتمی شکل اختیار کر چکی ہے۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اس تاریخی کامیابی پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے پیغام میں لکھا: ”مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائی مسرت ہو رہی ہے کہ آج امریکہ اور ایران کے درمیان ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت’ پر الیکٹرانک طریقے سے دستخط ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے صدور نے اس پر دستخط کیے جبکہ بطور ثالث میں نے بھی اس کی توثیق کر دی ہے۔ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر ہونے والا یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں فریقین اس تنازع کو سفارتی اور پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔“

