📌 اہم ترین پیشرفت اور عباس عراقچی کا دعویٰ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ جنیوا/سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں ایران پر عائد کئی اہم پابندیاں ہٹانے اور اثاثے بحال کرنے پر اتفاق ہو چکا ہے:
بحری ناکہ بندی کا خاتمہ: انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی اقتصادی ناکہ بندی (Blockade) کو ختم کر دیا گیا ہے۔
منجمد اثاثوں کی واپسی: ایران کے بیرونِ ملک روکے گئے کچھ منجمد مالی اثاثے (Frozen Assets) فوری طور پر جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ بقیہ اثاثے حتمی معاہدے پر دستخط کے بعد بحال ہوں گے۔
تیل اور پیٹروکیمیکلز کی برآمدات: ایران پر تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات بیچنے پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
تعمیرِ نو کا منصوبہ: ایران کے لیے ایک بڑے بین الاقوامی تعمیرِ نو اور ترقیاتی فنڈ کے آغاز پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
🤝 پاکستان اور قطر کا کلیدی کردار
اس تاریخی پیشرفت میں پاکستان اور قطر نے ثالث (Mediators) کے طور پر مرکزی کردار ادا کیا۔
مذاکرات کے پہلے دور کی کامیابی کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، جس میں حتمی امن معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ منظور کیا گیا ہے۔
عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی حکام کی ان سفارتی کوششوں کو دل کھول کر سراہا ہے۔
🔮 اگلا مرحلہ اور پہلا امتحان
عباس عراقچی کے مطابق، اب اس معاہدے کی کامیابی کا پہلا بڑا اور اصل امتحان "لبنان ڈیکفلیکشن سیل” (Lebanon Deflection Cell) کا قیام ہے، تاکہ خطے اور تمام محاذوں (بشمول لبنان) پر جنگ کا مکمل خاتمہ کر کے پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سفارتی میز ہو یا کوئی اور محاذ، ایران اپنے عوام کے وقار اور قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

