رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے پہلے پانچ ماہ (مئی 2026 تک) کے دوران 2 لاکھ 78 ہزار 536 پاکستانیوں نے بیرون ملک ملازمتوں کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن کروائی اور روزگار کے لیے دیارِ غیر روانہ ہوئے۔
📊 شعبہ جات کے لحاظ سے جانے والے پاکستانی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہنرمند اور غیر ہنرمند افراد نے بیرون ملک کا رخ کیا:
مزدور (Labors): 1 لاکھ 72 ہزار 6 افراد (سب سے زیادہ تعداد)
ڈرائیورز (Drivers): 52 ہزار 652 افراد
انجینئرز (Engineers): 2 ہزار 341 افراد
ڈاکٹرز (Doctors): 1 ہزار 284 افراد
نرسز (Nurses): 487 افراد
🌍 سب سے پسندیدہ ممالک (خلیجی اور مغربی ممالک)
ڈیٹا کے مطابق، پاکستانیوں کی اکثریت روزگار کے لیے خلیجی ممالک (Gulf Countries) گئی، جبکہ کچھ تعداد یورپی اور مغربی ممالک کی طرف بھی گئی:
خلیجی ممالک:
سعودی عرب: 1 لاکھ 59 ہزار 144 افراد (سب سے مقبول ترین ملک)
متحدہ عرب امارات (UAE): 50 ہزار 574 افراد
قطر: 30 ہزار 312 افراد
ایران: 23 افراد
دیگر ممالک:
برطانیہ (UK): 1 ہزار 234 افراد
امریکا (USA): 357 افراد
ہانگ کانگ: 86 افراد
📈 معیشت پر اثرات (ترسیلاتِ زر کا نیا ریکارڈ)
ماہرینِ معیشت کے مطابق، خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باوجود پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے لیے بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے۔ اس افرادی قوت کی منتقلی کی بدولت پاکستان کی ملکی معیشت کو بڑا سہارا ملا ہے اور مئی 2026 میں پاکستان کو 4.2 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر (Remittances) موصول ہوئیں، جس سے رواں مالی سال کا 40 ارب ڈالر کا ہدف پورا ہونے کی امید روشن ہو گئی ہے۔

