ایران اور امریکہ نے جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے 18 جون کو ایک معاہدے (MOU) پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد دونوں فریقین حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مستقل مذاکرات کے عمل میں مصروف تھے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنا اور محفوظ بنانا تھا۔ تاہم، حالیہ فوجی کارروائیوں نے اس نازک جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
حملے کا آغاز اور امریکی مؤقف: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘ٹرتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی کارگو جہازوں پر 4 خودکش ڈرونز فائر کر کے جنگ بندی معاہدے کی "احمقانہ خلاف ورزی” کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی فورسز نے 3 ڈرونز مار گرائے، جبکہ ایک ڈرون ایک قیمتی کارگو جہاز کے اوپری ڈیک پر لگا جس سے جہاز کو نقصان پہنچا۔
امریکہ کی جوابی کارروائی: اس حملے کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے جمعہ کی رات جنوبی ایران میں واقع ایرانی میزائل، ڈرون ذخیرہ کرنے والے ٹھکانوں اور ساحلی ریڈار سائٹس پر شدید فضائی حملے کیے۔
ایرانی عہدیدار ابراہیم عزیزی کا بیان: ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے امریکی حملوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایک بار پھر مذاکرات کے عین درمیان میں ایران پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ "ناکام امریکی صدر نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات یا جنگ بندی کے کسی اصول پر قائم رہنے کی اہلیت یا وابستگی نہیں رکھتے”۔ انہوں نے مزید انتباہ دیا کہ جنگ بندی کی یہ "غیر ذمہ دارانہ اور کھلی خلاف ورزی” ماضی کی طرح بالآخر امریکی افواج کے لیے صرف پچھتاوا اور پسپائی (Retreat and Regret) لائے گی۔
ایران کا فوجی ردِعمل: ابراہیم عزیزی کے اس بیان کے ساتھ ہی، ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی بحریہ نے تصدیق کی کہ انہوں نے جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے کے متعدد مقامات پر تعینات امریکی فوجی اڈوں اور پوزیشنوں کو جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکہ کی مزید دھمکی: دوسری جانب، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر CENTCOM کے حملوں کی پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے ایران کو سخت وارننگ دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کو معاہدے پر کوئی اعتراض تھا تو وہ فون اٹھا کر بات کر سکتے تھے، لیکن اب کسی بھی مزید تشدد کا جواب سخت تشدد سے ہی دیا جائے گا۔

