چین سے ملاقات میں ایران کا امریکا پر الزام، آبنائے ہرمز کشیدگی بڑھ گئی
ایران نے چین کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں آبنائے ہرمز کی موجودہ کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے باعث خطے میں صورتحال خراب ہوئی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق امریکا کے اقدامات نے آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ پیدا کیا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ امریکی پالیسیوں اور فوجی کارروائیوں نے کشیدگی میں اضافہ کیا، جبکہ ایران اپنے مفادات اور سمندری حدود کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
چین نے بھی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ بیجنگ کے مطابق خلیج میں امن و استحکام عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں۔

