Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • کراچی میں نو پارکنگ کی خلاف ورزی روکنے کے لیے اسمارٹ کیمرے نصب کیے جائیں گے
    • اتحاد ایئرویز نے ابوظہبی جانے والی پرواز واپس موڑنے کے بعد بحرین کی صبح کی پرواز منسوخ کر دی
    • سوات میں مہوڈنڈ جھیل کے قریب گلیشیئر گرنے سے سیاح جاں بحق
    • گوگل پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے لیے ساڑھے 3 لاکھ کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کرے گا
    • روس نے ایک ہی روز میں یوکرین کے تقریباً 800 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
    • برطانیہ اور سویڈن یوکرین کو 16 طیارے فراہم کریں گے
    • فرانس کراچی میں اپنا قونصل خانہ مستقل طور پر بند کر سکتا ہے
    • پاکستان میں سونے کی قیمت مسلسل دوسرے روز بھی بڑھ گئی
    • پاکستان بھر میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی
    • روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر، پاؤنڈ کے مقابلے میں 4 روپے سستا
    • امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی تیل بردار جہاز پاکستان کی جانب روانہ
    • نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے میں 5.6 شدت کا زلزلہ، شہریوں میں خوف و ہراس
    • تہران کی امریکا کو وارننگ، خطے کا انفراسٹرکچر بھی نشانے پر ہوگا
    • امریکی ایوانِ نمائندگان نے اسرائیلی فوج کی فنڈنگ روکنے کی تجویز مسترد کر دی
    • ایبولا کے خدشے پر امریکا نے ڈی آر کانگو میں موجود شہریوں کی وطن واپسی روک دی
    • امریکی فوج نے ایران پر حملوں کی تازہ لہر مکمل کرنے کا اعلان کر دیا
    • ایرانی فوج کا دعویٰ، اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا
    • امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً 2 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی
    • میانمار کے قریب دو کشتی حادثوں میں 500 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ: اقوام متحدہ
    • عراقی وزیراعظم الزیدی نے اربیل پر ڈرون حملے کی مذمت کی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    نواز شریف پر مقدموں کی بھر مار زداری کو کوئی نہیں پوچھتا: ضیا شاہد

    By Daily Khabrainنومبر 3, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میںمعروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میاں محمد نوازشریف نے ایک صحت مندانہ سوچ کا مظاہرہ کیا ہے اور عدالتوں سے ٹکراﺅ کی بجائے خود پیش ہونے کی روش کو قائم رکھا ہے۔ آج بھی ملک میں نوازشریف کی حکومت ہی قائم ہے۔ شاہد خاقان عباسی انہیں ہی اپنا وزیراعظم قرار دیتے ہیں۔ حکومتی ادارے ان کا احترام کرتے ہیں۔ انہیں پنجاب لیول پر ہی سہی مکمل پروٹوکول دیتے ہیں۔ یہ اچھا عمل ہے کہ میاں صاحب اپنی صاحبزادی کی طرح عدالتوں کا مذاق نہیں اڑاتے۔ بلاوجہ فوج کو سول معاملات میں نہ کھینچیں۔ اگر میاں صاحب کا فیصلہ فوجی عدالتوں نے کرنا ہوتا تو چند دن میں کر کے سائیڈ پر رکھ دیتے۔ یا بری ہو جاتے یا سزا مل جاتی۔ قانون دانوں کی اکثریت کہتی ہے۔ عدالتں نے نوازشریف کے معاملے پر بہت نرمی برتی ہے۔ شرجیل میمن درست شور مچا رہے ہیں کہ اسی قسم کا کیس میرا ہے۔ میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جاتا ہے جبکہ نوازشریف صاحب آن بان اور شان سے آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ میاں نوازشریف صاحب کا مقام دنیا میں کافی بڑا ہے۔ وہ سب سے بڑا سیاسی پارٹی کے سربراہ ہیں۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری صاحب کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ کتنے ہی مجرمان نے یہ اقرار کیا ہے کہ ہم دن بھر کی کمائی (بھتہ) اکٹھا کر کے بلاول ہاﺅس بھیج دیا کرتے تھے۔ مجال ہے بلاول ہاﺅس کو ایک بھی نوٹس گیا ہو۔ اسی طرح آصف زرداری کے خلاف ایک بھی نیا مقدمہ درج نہیں ہوا۔ شاید کوئی پچھلے مقدمات ہوں تو کیوں عزیر بلوچ نے کتنے ہی انکشافات کئے۔ ہماری عدالتیں معذرت کے ساتھ ملزمان خود چنتی ہیں۔ معلوم نہیں نوازشریف کی باری کس طرح آ گئی۔ وہی جرم آصف علی زرداری کرتے ہیں تو انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ وہی جرم نوازشریف کریں تو انہیں (11) نوٹس آ جاتے ہیں اسی طرح مریم بی بی کو ایئرپوٹ پر سمن پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ فریال تالپور کے خلاف کتنے نوٹس ہوئے۔ یا کرپشن کے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ ہمارے لندن کے نمائندے بتا رہے تھے کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ میاں صاحب کو اگر گرفتار کیا گیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ یہی آفر شہباز شریف صاحب نے بھی دی ہے۔ شیخ رشید کا شاہد خاقان عباسی پر ایل این جی کا الزام درست ہوتا تو اب تک وہ پکڑے جاتے۔ ہماری عدالتوں پر آفرین ہے۔ غلام اصحاق خان، پی پی پی کے وزیراعظم بینظیر کو فارغ کر دیتے ہیں، سپریم کورٹ کہتی ہے درست کام کیا۔ وہی الزام نوازشریف پر لگا۔ غلام اسحاق خان نے کہا آﺅٹ۔ سپریم کورٹ نے انہیں کھٹ سے بحال کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے کیس میں 4 کے مقابلے میں 3ججوں نے بتایا کہ انہیں پھانسی نہیں دینی چاہئے۔ 4 نے مخالفت کی اور انہیں پھانسی لگ گئی۔ ان چار میں چھوٹے قد کے نسیم حسن شاہ نے دو سال بعد عجیب بیان دے دیا کہ ہم پر بڑا دباﺅ تھا۔ حالانکہ اُردو ڈائجسٹ میں چھپنے والے ایک مضمون میں انہوں نے کہا کہ ضیاءالحق نے مجھ پر کبھی دباﺅ نہیں ڈالا۔ 8 یا دس سال کے بعد ان کا ضمیر جاگا۔ تو انہوں نے سچ بول دیا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ جب میں کراچی میں جاتا ہوں تو لوگ مجھے پکڑ کر کہتے ہیں کہ او پنجابیو! تم نے تو عدالتوں سے فیصلے لینے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ سندھی کے خلاف فیصلہ خلاف اور پنجابی کے حق میں آ جاتا ہے۔ پاک فوج، بہادر فوج نے آصف زرداری کے بیان پر انہیں کچھ بھی نہیں کہا، انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی۔ اور واقعی تین سال بعد راحیل شریف تو نوکری ختم کر کے سعودی عرب چلے گئے اور زرداری صاحب یہاں باقی رہ گئے۔ دبئی میں زرداری کا بہت خوبصورت گھر ہے۔ بینظیر بھی یہاں رہا کرتی تھیں۔ وہ پوش علاقے میں واقع ہے۔ ادارے عدالتوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہتے ہیں۔ کسی کو ریلیف مل جائے گا تو کیا ہو گا۔ کوئی نیب کے کہنے پر کیس کھول دے گا تو کیا ہو گا؟ میاں نوازشریف کے وارنٹ پر بہت شوروغوغا مچایا گیا ہوا کیا۔ قابل ضمانت فارنٹ تھے۔ وہ بیل کروا لیں گے۔ ایم کیو ایم ایک ایسی جماعت ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ ان کے منہ میں ان کے دودھ کا فیڈر ہوتا ہے۔ وگرنہ تو ان پر اتنے اتنے کیس ہیں کہ انتہا۔ 250 تو فاروق ستار پر ہوں گے۔ ان کے وارنٹ بھی نکلے ہوتے ہیں کوئی مائی کا لعل انہیں نہیں پوچھتا۔ پولیس کا نظام بھی عجیب ہے۔ ”میرا“ پر ایک کیس ہو گیا۔ تھانے والوں نے عدالت میں لکھ کر دیا کہ سمن کی تعمیل نہ ہو سکی۔ حالانکہ اسی دن وہ ایوانِ اقبال میں مجرا کر رہی تھی۔ ہمارے یہاں انصاف بکتا ہے۔ جس لیول پر چاہیں قیمت ادا کریں اور انصاف حاصل کر لیں۔ بھٹو دور میں ولی خان کو بین کیا گیا۔ اجمل خٹک افغانستان میں تھے۔ عطاءاللہ مینگل، شیر محمد مری کو بین کیا گیا۔ ان میں سے ایک آدمی کا ڈرائیور پشاور میں پکڑا گیا۔ اس کا نام ظفر اقبال تھا۔ اسے پولیس نے اتنا مارا کہ اس کی کمر سے خون بہہ رہا تھا۔ ڈرائیور کی گاڑی سے کوئی رسائے یا مواد ملا۔ باقی کے بارے پوچھتے ہوئے پولیس نے اس بیچارے کو اتنا مارا کہ اس کے جسم سے خون بہہ نکلا۔ جس لیڈر کا وہ ڈرائیور تھا۔ وہ حیدرآباد کی ٹربیونل عدالت میں A کلاس میں موجود تھا۔ اس لیڈر نے ایک دن شکایت کی کہ ہمیں جو جھینگے دیئے جا رہے ہیں وہ باسی ہیں۔ الفتح میں اس کی تفصیل چھپی۔ یہ بات آن ریکارڈ ہے کہ ان افراد کے لئے کراچی سے سپیشل ہیلی کاپٹر پر تازہ جھینگا اور مچھلی لائی جاتی اور انہیں دی جاتی۔ جس ملزم کی گاڑی سے مواد برآمد ہوا تھا وہ تو جھینگے کھا رہا تھا اور اس کا بدبخت ڈرائیور پولیس کے چھتر کھا رہا تھا۔ اسی طرح ان حکمرانوں پر اگر غداری ثابت بھی ہوئی تو انہیں اعلیٰ قسم کے ریسٹ ہاﺅس میں رکھا جائے گا۔ اے کلاس ملے گی تمام خواہشات کی تکمیل ہو گی۔ اس وقت عدلیہ کا ٹیسٹ ہے کہ وہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ لاہور شہر کی صدر کی عدالت میں میں نے دیکھا ملزمان کو چھ، چھ گھنٹے واش روم نہیں جانے دیا جاتا۔ میں نے اپنے دوست وزیر قانون سے کہہ کر وہاں واش روم بنوایا۔ کیمپ جیل کو میں نے اس وقت دیکھا جب فلش سسٹم موجود نہیں تھا۔ عدالتوں، انتظامیہ اور بار کونسلوں سے گزارش ہے کہ غریب کے بچے اگر پکڑے جائیں تو ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کا معائنہ کریں۔ اب بھی حوالاتوں میں واش روک تک نہیں ہے۔ بخشی خانوں میں 50 کی گنجائش والی جگہوں پر 100 ڈال دیئے جاتے ہیں۔ برائے مہربانی شرفاءکو دیئے جانے والی سہولتوں میں سے چند سہولتیں عوامی جیل خانہ جات اور بخشی خانوں کو بھی مہیا کر دیں۔ صدر نیشنل بینک وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں اصل قصور تو انہیں بنانے والوں کا ہے۔ نیشنل بینک تمام بینکوں کا سرکاری بینک ہے۔ اسے ہر دور میں لوٹا گیا۔ آخر سعید احمد کو کسی نے تتو بنایا ہو گا۔ سعید احمد کو کسی نے بتایا۔ ان سے کسی نے فائدہ اٹھایا۔ پی پی پی پی دور میں بینظیر وزیراعظم تھیں اور نوازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ اس دور میں بی بی نے نوازشریف کے جہاز کراچی میں روک لئے۔ دونوں پارٹیوں میں زبردست جنگ تھی۔ اس دور میں دونوں نے اپنے ایم پی اے کو نوازنا شروع کیا۔ اس کے لئے کوئی انہیں سوت لے گیا۔ کوئی انہیں مری لے گیا۔ کوئی انہیں چھانگا مانگا لے گیا۔ بینظیر دور میں عدم اعتماد کے وقت جہاں ایم این اے، ایم پی اے کو رکھا گیا کیا رونقیں ہوتی تھیں۔ کیا پینے پلانے کا سلسلہ ہوتا تھا۔ کیا ناچ گانوں کی محفلیں ہوا کرتی تھیں، لوگ تو اس کی دعائیں کرتے تھے کہ ایسا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ دو ایم پی اے کو ایک کمرے میں بند کیا گیا میں نے باہر سے کھولنا چاہا تو مجھے روک دیا گیا کہ یہ وہ ایم پی اے ہیں کہ یہاں سے پلال بھی لے گئے ہیں اور بی بی سے پیسہ بھی وصول کر لیا ہے۔ ہم نے انہیں پکڑ کر اندر دے دیا ہے۔ اب اس وقت نکالیں گے جب ان کی ضرورت ہو گی۔ دونوں جانب سے خوب نوازا جاتا تھا۔ لوٹنے والے بھی دونوں طرف سے لوٹتے رہے۔ دونوں طرف کی پارٹیوں کی لڑائی کی بدولت، ملک میں جمہوریت کا خانہ خراب ہو گیا۔ ایم این اے، ایم پی اے نوکریاں بانٹتے ہیں۔ بلکہ بیچتے ہیں۔ کسی کے اندر ہمت ہے کہ پیسے ادا کرنے کے بعد متعلقہ ایم این اے یا ایم پی اے سے پوچھ سکے کہ ہمارا کام کیوں نہیں ہوا۔

     

     

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کراچی میں نو پارکنگ کی خلاف ورزی روکنے کے لیے اسمارٹ کیمرے نصب کیے جائیں گے

      سوات میں مہوڈنڈ جھیل کے قریب گلیشیئر گرنے سے سیاح جاں بحق

      گوگل پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے لیے ساڑھے 3 لاکھ کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کرے گا

      تازہ ترین

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.