لاہور (خصوصی رپورٹ)سموگ کی خطرناک ہوتی صورتحال کے بعد شہر میں دھواں چھوڑنے والی 200 سے زائدفیکٹریوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لاہور شہر پر سموگ بدستور چھائی ہوئی ہے جس کی وجہ سے سانس ، آنکھ اور جلد کی بیماریوںمیں اضافہ ہوگیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں کم سے کم حدنگاہ 300 ریکارڈ کی گئی۔ فی الحال بارش کا کوئی امکان نہیں۔ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ شہری سانس کے امراض سے بچنے کے لیے ماسک اور آنکھوں کی حفاظت کے لیے عینک کااستعمال کریں اور پانی زیادہ سے زیادہ پئیں۔ محکمہ ماحولیات نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے مالکان کو جرمانے کرنے شروع کردئیے ہیں۔ گڑھی شاہو میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی نگران رکن صوبائی اسمبلی غزالی سلیم بٹ اور محکمہ ماحولیات کے چیئرمین شہبازجٹ نے کی۔محکمہ ماحولیات نے سموگ سے نمٹنے کےلئے دھواں چھوڑنے والی 235فیکٹریاں بند کرانے کا فیصلہ کیا ہے اس مقصد کیلئے پولیس سے مدد مانگ لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر میں 200 سے زائد ایسی چھوٹی بڑی فیکٹریاں موجود ہیں جو فضائی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں جن کی لسٹیں محکمہ ماحولیات نے تیار کرلی ہیں۔ پولیس محکمہ ماحولیات کی ان فیکٹریوں کو سیل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف قانونی کارروائی میں بھی تعاون فراہم کریگی۔ دریں اثناءامریکی ادارے ناسا کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں گزشتہ چند سال سے 70لاکھ ایکڑپر مشتمل فصلوں کو نذرآتش کرنے نتیجے میں فضائی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجے میں مہلک امراض بڑھے ہیں۔ فضائی آلودگی کے خاتمہ کیلئے اس عمل کو روکنا ہوگا۔
موٹروے بند، پروازیں متاثر، سموگ پھیلانے میںہمسایہ ملک کا پاکستان کیخلاف خوفناک اقدام

