Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • افسوسناک خبر؛ بلوچستان میں دہشتگردوں نے 5 پنجابی مزدوروں کو شہید کردیا، شہداء کا تعلق پسرور، نارووال اور خان پور سے تھا
    • کامیڈین اللہ رکھا کو لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران دل کا دورہ پڑ گیا
    • سابق ایتھوپیئن ایئر ویز چیف پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے نئے سی ای او مقرر
    • پاکستان نے 56ویں بین الاقوامی فزکس اولمپیاڈ میں 3 کانسی کے تمغے اپنے نام کر لیے
    • برینڈن میک کولم کو انگلینڈ کی مردوں کی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا
    • "ہم آبنائے ہرمز کو طاقت کے ساتھ محفوظ رکھیں گے”: ابراہیم رضائی
    • ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا
    • قطر میں ملبہ گرنے سے ایک بچے سمیت 3 افراد زخمی
    • امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے
    • جنوبی افریقہ کے ورلڈ کپ اسٹار جیڈن ایڈمز 25 سال کی عمر میں انتقال کر گئے
    • چین نے سی پیک کے اربوں روپے کے اجبات معاف کرنے سے انکار کر دیا
    • ریٹائرڈ پاکستانی بحریہ کے افسر برطانیہ کے میئر منتخب
    • چین کا نیا اے آئی: GPT-5.5 سے سستا اور زیادہ شفاف
    • این ڈی ایم اے کا سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ الرٹ
    • اسپین میں تباہ کن جنگلاتی آگ، 11 افراد ہلاک، 19 لاپتہ
    • خامنہ ای اور چار اہلخانہ افراد کی امام رضاؑ مزار میں تدفین
    • پنجاب حکومت کا ریسٹورنٹس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں پر 50 فیصد ٹیکس ریلیف کا اعلان
    • ایران کے خلاف آپریشن کی خفیہ حمایت پر یو اے ای پر الزام
    • رونالڈو نے نایاب CR7 بوٹس IShowSpeed کو تحفے میں دے دیے
    • اسرائیل نے مفتی اعظمِ القدس کو مسجد اقصیٰ سے ایک ہفتے کے لیے روک دیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ”وزیراعظم کی تقریری پر انکے وکیل نے استثنیٰ مانگا بات کھل گئی کہ پارلیمنٹ میں غلط بیانی کی“ نامور تجزیہ کار ضیا شاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

    By Daily Khabrainجنوری 18, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    zia shahid
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پانامہ کیس پر کئی سینئر قانونی ماہرین سے بات چیت کی لیکن سچ ہے کہ کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔ ایسا لگتا ہے کہ صرف ذہنی کشتی ہو رہی ہے۔ دونوں فریقوں کے وکلا ایک دوسرے کو صرف اول موضوع سے ہٹاتے نظر آتے ہیں۔ کافی عرصہ قبل کالا باغ ڈیم پر تنازعات دور کرنے کے حوالے سے الحمرا میں ایک اجلاس بلایا جس میں چاروں صوبوں کی قیادت کو شرکت کی دعوت دی۔ سارا دن بحث کے بعد شام کو سرحد سے آنے والے عبدالولی خان اٹھے اور بولے کہ بڑے بڑے دلائل دیئے گئے لیکن میں کسی دلیل کو نہیں مانتا صرف اپنے دل کی آواز مانتا ہوں ہم نے کالا باغ ڈیم نہیں بننے دینا اور خدا حافظ کہہ کر چلے گئے۔ پانامہ مقدمہ میں بھی کچھ ایسے ہی حالات نظر آ رہے ہیں۔ جب کوئی طے ہی کر لے کہ ہم نے نہیں ماننا تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ مقدمے کا کوئی نتیجہ نکلتا دکھائی نہیں دے رہا صرف کارروائی برائے کارروائی جاری ہے۔ صرف ایک فیصد ہی امکان ہو سکتا ہے کہ عدالت فیصلہ کر دے۔ یہی ہو سکتا ہے کہ کمیشن بنا دیا جائے۔ جو ان امور پر تحقیقات کرے۔ یہاں رونق میلہ خوب لگا ہوا ہے۔ روزانہ بڑی دلچسپ باتیں سننے میں آتی ہیں۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ تقریباً ساری دنیا پھر چکاہوں اور دیکھا ہے کہ کہیں بھی سربراہ مملکت، وزیراعظم یا کسی بھی عہدیدار کو کوئی رعائت نہیں دی جاتی۔ وزیراعظم نوازشریف کے وکلا بھی سیدھا سیدھا جواب دینے کے بجائے ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیتے ہیں۔ سیدھا سیدھا مقدمہ ہے، الزامات کا جواب عدالت کو دیں تا کہ بات کسی نہج تک پہنچ سکے۔ معروف قانون دان اور سنیٹر اعتزاز احسن نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ مقدمہ بڑا سادہ اور سیدھا ہے، اس میں کوئی ابہام کی گنجائش نہیں ہے۔ شریف فیملی نے تسلیم کیا ہے کہ لندن میں مہنگی جائیداد کے وہ مالک ہیں۔ اس اعتراف کے بعد سپریم کورٹ نے صرف یہ پوچھنا ہے کہ اپنے وسائل اور آمدن جو اس جائیداد کی خرید میں استعمال ہوئی کیا وہ جائز ذرائع سے حاصل کی گئی، ٹیکس کتنا دیا گیا، 1978ءسے 2006ءتک جس طرح شریف فیملی کی دولت میں اضافہ ہوا اس کا سارا کھاتہ بتانا ہے صرف اتنی سی بات ہے۔ نوازشریف یہ بتا دیں تو وہ مقدمہ میں بڑی آسانی سے سرخرو ہو سکتے ہیں شریف فیملی کا موقف ہے کہ قطر بچوں کے ساتھ کاروبار کیا۔ اس کے کھاتے دکھا دیں۔ پاکستان دنیا میں کہیں بھی کاروبار کرے اسے پاکستان میں ٹیکس دینا ہوتا ہے اس لئے بتایا جائے کہ کتنا ٹیکس دیا۔ نوازشریف کے وکیل کے اب عدالت میں وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں تقریر پر استثنیٰ مانگا ہے۔ اس استثنیٰ کے مانگنے سے یہ تو ظاہر ہو گیا کہ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں غلط بیانی کی جس کا انہیں اب احساس ہو گیا ہے کہ جھوٹ بولنے پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی ہو سکتی ہے اس لئے اس سے بچنے کے لئے اب آرٹیکل 66 کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ کئی فیصلے کر چکی ہے جس میں رینٹل پاور اور حج کرپشن کیسز بھی شامل تھے۔ حج کیس میں وفاقی وزیر حامد کاظمی کا جیل جانا پڑا۔ اگر لاڑکانہ اور پنجاب کے وزیراعظم کے درمیان امتیاز برتا جائے تو عدالت اس مقدمہ میں بہت کچھ کر سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوہں کہ موجودہ بنچ فیصلہ کرے گا کیونکہ اس میں بڑے زیرک جج صاحبان بیٹھے ہیں۔ وزیراعظم اور ان کے بچے اگر لندن میں مہنگی ترین جائیداد بارے نہ بتا سکے کہ کس ذرائع آمدن سے حریدی گئی، منی ٹریل اور ٹیکس دستاویزات نہ دکھا سکے تو یاد رہے کہ حامد سعید کاظمی بھی وفاقی وزیر تھے جسے سنگین حالات سے دوچار ہونا پڑا۔ سابق وزیرخزانہ سلمان شاہ نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم رپورٹ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پر نہیں بلکہ جامع ترقی بارے رپورٹ ہے جس میں 79 ممالک کے سروے میں پاکستان 52 اور بھارت 60 ویں نمبر پر ہے۔ اس کا عام مطلب یہ ہے کہ بھارت میں امیر لوگ زیادہ امیر ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان میں امیر لوگ اتنے زیادہ امیر نہیں ہو رہے پاکستان میں حقیقی صورتحال دیکھی جائے تو پھر ہمارا اس میں نمبر52 ویں کے بجائے پانچواں یا چھٹا ہونا چاہئے۔ سب سے اہم سروے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کا ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ عام آدمی نے کتنی ترقی کی ہے اس میں پاکستان 147 ویں نمبرپر ہے جو شرمناک ہے۔ ہم سے بہتر ترقی تو نیپال اور بنگلہ دیش جیسے ممالک نے کی ہے۔ ملکی برآمدات کم ہو رہی ہے، زراعت تباہ ہو چکی ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بچانے کیلئے 180 ارب کا ٹیکہ لگایا گیا لیکن کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔ پاکستان میں زرعی پیداوار حاصل کرنے کا طریقہ کار دقیانوسی ہے۔ دنیا اس فیلڈ میں بہت آگے جا چکی ہے۔ ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ خوراک کی کمی کے باعث بچے ذہنی و جسمانی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      افسوسناک خبر؛ بلوچستان میں دہشتگردوں نے 5 پنجابی مزدوروں کو شہید کردیا، شہداء کا تعلق پسرور، نارووال اور خان پور سے تھا

      ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا

      این ڈی ایم اے کا سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ الرٹ

      تازہ ترین

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      یورپ ‘اومیگا بلاک’ کی گرفت میں، عالمی ادارہ صحت نے 1,300 اموات کی سنگین حقیقت کا انکشاف کیا

      کامیڈین اللہ رکھا پیپسی شو کی ریکارڈنگ کے دوران انتقال کرگئے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.