ریلوے سٹیشن پر فائرنگ ‘ ایک شخص ہلاک‘ 3 زخمی

اٹلانٹا (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست جارجیا میں ریلوے سٹیشن میں فائرنگ‘ امریکی میڈیا کے مطابق فائرنگ سے ایک شخص ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے۔ فائرنگ کا واقعہ اٹلانٹا کے ویسٹ لیک سٹیشن پر پیش آیا۔ 30 سال کے بعد حملہ آور نے سٹیشن میں اندھادھند فائرنگ کی۔ واقعہ میں ملوث مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کرکے تحقیقات شروع کردیں۔ فائرنگ کے بعد ریلوے سٹیشن کو عارضی طور پر بند کردیا گیا۔

حساس اداروں کی بڑی کاروائی کلبھوشن کے بعد 3بھارتی ایجنٹ گرفتار

مظفرآ باد(ویب ڈیسک) آزاد کشمیر پولیس نے راولا کوٹ میں کارروائی کے دوران عباس پور دھماکے کے ماسٹرمائنڈ سمیت بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے 3 ایجنٹس کو گرفتار کرلیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں بھارتی مداخلت کا ایک اورثبوت سامنے آیا ہے، آزاد کشمیرپولیس نے حساس اداروں کے ساتھ مل کرخفیہ اطلاع پرکارروائی کی جس کے نتیجے میں عباس پورتھانے پربم دھماکے کے ماسٹرمائنڈ محمد خلیل سمیت 3 ملزمان کو گرفتارکرلیا۔ڈی آئی جی چوہدری سجاد حسین کے مطابق مرکزی ملزم محمد خلیل بھارتی فوج سے رابطے میں تھا اورتفتیش کے دوران تینوں ایجنٹس کا بھارتی فوجی افسران سے رابطوں کا انکشاف ہوا جب کہ ملزمان نے 13 سے 14 مرتبہ ایل او سی سے آرپارجانے کا اعتراف بھی کیا۔ڈی آئی جی چوہدری حسین کا کہنا ہے کہ ملزمان نے27 دسمبر2016 کوعباس پورتھانے پرآئی ڈی لگا کردھماکا کیا اور ملزمان کو دہشت گردی کے واقعہ پر 5 لاکھ روپے دیے جاتے تھے، ملزمان سے تفتیش کی جارہی ہے جس سے ملزمان کا پورا نیٹ ورک پکڑے جانے کی توقع ہے۔

بلجیم میں دنیا کا سب سے بڑا اور بدبودار پھول کھل اٹھا

برسلز (خصوصی رپورٹ) بلجیم میں دنیا کا سب سے بڑا اور بدبودار پھول کِھل اٹھا۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے بوٹینیکل گارڈن کا رخ کرلیا۔ یہ پھول قدرتی طور پر کسی مردہ جانور کی طرح بدبودار ہوتا ہے اور اس کی بو کیڑوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ پودے کی اس نایاب قسم کی مجموعی عمر چالیس سال ہوتی ہے جس پر صرف ایک پھول دو یا تین دِن کے لیے ہی کِھلتا ہے۔ یہ پودا درحقیقت انڈونیشیا میں پایا جاتا ہے جس کے پھول کو دنیا کا سب سے بڑا پھول تصور کیا جاتا ہے۔

رضا ربانی نے احتجاجاً بطور چیرمین سینیٹ کام بند کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومتی رویے سے نالاں ہو کر رضا ربانی نے احتجاجاً بطور چیرمین سینیٹ کام بند کردیا۔تفصیلات کے مطابق چیرمین سینیٹ مسلسل دو روز سے حکومتی وزرائ کے ایوان میں نہ آنے پر برہم تھے اور آج بھی جب صبح اجلاس شروع ہوا تو ایسا ہی ہوا جس پر انہوں نے 35 منٹ کے لئے سینیٹ کا اجلاس ملتوی کردیا تاہم اس کے بعد بھی وقفہ سوالات کا جواب دینے کے لئے کوئی بھی وزیر اور سیکرٹری نہ آیا تو رضا ربانی نے سینیٹ کے قاعدہ نمبر 23 کے تحت ایوان کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دیا۔رضا ربانی کے دفتر میں جب کچھ فائلیں بھیجی گئی تو وہ بھی انہوں نے واپس کر دیں اور کہا کہ جب اختیارات نہیں ہیں تو کام کا کوئی فائدہ نہیں، اس کے علاوہ انہوں نے اپنا دورہ ایران بھی منسوخ کردیا۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کو مجھ سے کوئی مسئلہ ہے تو میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جاتا ہوں لیکن ایوان کا وقار کسی صورت مجروح نہیں ہونے دیں گے، نا تو وزرائ اور نا ہی سیکرٹریز وقفہ سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔

وردی بدل گئی لیکن کام نہ بدلے, پولیس کا شہریوں پر وحشیانہ تشدد, ویڈیو نے بھانڈا پھوڑدیا

لاہور (کرائم رپورٹر) نصیر آباد تھانے کی پولیس کی جا نب سے ملزمان پر تشدد کی ویڈیو کا معاملہ ،انویسٹی گیشن پولیس 4ملزمان کو تشدد کا نشانہ بناتی رہی ، ایس ا یچ او نصیر آباد نے تمام حقائم ایس پی ماڈل ٹاﺅن کو بتادیے ، ایس ا یس پی انویسٹی گیشن نے اے ایس آئی اور2 پولیس اہلکاروں کو معطل اور انچارج انویسٹی گیشن کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روزتھانہ نصیر آباد میں پولیس تشدد کی وڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کی جانب سے ایس پی ماڈل ٹاﺅن اسماعیل کھاڑک کو واقعے کی انکوائری کر نے کے احکامات جاری کیئے تھے جس پر ایس پی ماڈل ٹاﺅن کی جانب سے ایس ایچ او عمران قمر پنڈانہ سے جب واقعے کے متعلق پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ یہ تشدد آپریشن پولیس نے نہیں بلکہ انویسٹی گیشن پولیس نے کیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تشدد ان افراد پر کیا گیا تھا جن کو آپریشن پولیس مختلف ہوٹلوں سے پکڑ کر تھانے لائی اور مقدمات درج کر کے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا تھا جہاں انویسٹی گیشن والے رات بھر ان کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور ان کے ہمرا گرفتار ہونے والی لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ خانی کر تے رہے ۔ویڈیو میں چھترول کا شکار بننے والوں میں اکبر علی ولد غلام رسول ،طلحہ ولد محمد سلیم ، عدنان سلیم ولد محمد سلیم خان اور ارشد خان شامل ہیں ۔واقع میں انویسٹی گیشن اہلکاروں کی جانب سے تشدد کیئے جانے کا علم ہوتے ہی ایس ایس پی انویسٹی گیشن غلام مبیشر میکن نے نوٹس لیتے ہوئے اے ایس آئی صادق ،کانسٹیبل مجاہد اور شبیر کو معطل کر دیا جبکہ انچارج انوسٹی گیشن کو شوکاز نوٹس دے دیا۔

زرداری کے دوست کو نوازنے کیلئے وزیراعلیٰ سندھ کا حیران کُن کارنامہ

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) آصف علی زرداری کے دوست کے پاور پلانٹ کو گیس فراہمی کیلئے پیپلزپارٹی نے سندھ کارڈ کھیلا‘ گیس کے عام صارفین کو گیس معمول کے مطابق مل رہی ہے تاہم انورمجید کے نوری آباد پاور پلانٹ کی طرف سے سوئی سدرن کو سکیورٹی ڈیپازٹ کی مد میں ایک ارب روپے ادا کئے جانے پر گیس نہیں دی جا رہی‘ آصف علی زرداری کے دوست کے پاور پلانٹ کو فائدہ پہنچانے کیلئے پیپلزپارٹی نے پہلے وزیراعلیٰ کے ذریعے بیان دلوایا پھر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے وفاق کو دھمکی دے کر ملک بھر میں کھلبلی مچا دی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کی طرف سے گیس کی عدم فراہمی کو بنیاد بنا کر سندھ حکومت اور وفاق ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے دھمکی آمیز بیان پر وفاقی وزارت پٹرولیم کا کہنا ہے کہ گیس کی فراہمی کیلئے کسی بھی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جا رہا۔
کراچی (خصوصی رپورٹ) سندھ حکومت کی وفاقی حکومت پر تلملاہٹ کی وجہ سندھ کے شہریوں کو درپیش مشکلات نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف زرداری کے دست راست اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کی شراکت میں بننے والے نوری آباد پاور پلانٹ کو گیس کی عدم فراہمی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تو ملک بھر کی گیس بند کرنے کی دھمکی دے دی مگر وفاق کا کہنا ہے کہ پاور پلانٹ کی انسپکشن این ٹی ڈی سی کے ماہین سے کرائی جائے جس کے بعد پلانٹ کی بجلی کو نیشنل گرڈ میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔ دوسری جانب سوئی گیس کمپنی کا مو¿قف ہے کہ آرٹیکل 158 کے تحت ہی بجلی اور گیس کے کنکشن کے لئے کچھ تقاضے پورکرنا ہوتے ہیں جسے سندھ حکومت پورا کرنے کو تیار نہیں۔ بیس ایم ایم سی ایف ڈی گیس کے لئے زر ضمانت ایک ارب بنتا ہے جسے بینک گارنٹی یا سکیورٹی ڈپازٹ کے تحت پورا کیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ اومنی گروپ کے پاور پلانٹ کو فعال کرنے اور اومنی گروپ کی ساکھ بچانے کیلئے پچھلے چار ماہ سے پھرتیاں دکھا رہے ہیں۔ جب دال نہ گلی تو ایوان میں خوب واویلا کیا مگر یہ نہیں بتایا کہ نوری آباد پاور کمپنی کا بڑا حصہ انور مجید کا اومنی گروپ ہے۔ یہ وہی اومین گروپ ہے جس کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے تھے۔ جب پچھلے برس آصف زرداری وطن واپس لوٹے تھے جبکہ اومنی گروپ کے ایڈوائزر اور زرداری کے قریبی دوست اشفاق لغاری ان تین افراد میں شامل ہیں جو ان دنوں غائب ہیں۔ نوری آباد پاور پلانٹ ابتدائی طور پر پچاس میگاواٹ کا تھا اور اس وقت کی پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے 20 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کرنے کی منظوری دی۔ اس وقت کے خزانہ سندھ مراد علی شاہ نے نیشنل بینک اور سندھ بینک سے تقریباً دو ارب 81 کروڑ کی بینک گارنٹی کا بھی انتظام کیا اور پلانٹ کی تعمیر شروع کردی گئی۔ جنوری 2014ءمیں سندھ حکومت نے موجودہ پاور پلانٹ کی پیداواری صلاحیت کو سومیگاواٹ تک بڑھا دیا اور اب پلانٹ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کا کہا گیا۔جس کے بعد اومنی گروپ کی شراکت دار سندھ نوری آباد پاور کمپنی نے کے الیکٹرک سے سپلائی کا معاہدہ کرلیا جس کے تحت اس نے اپریل 2017ءمیں کے الیکٹرک کو سو میگاواٹ بجلی فراہم کرنا تھی۔

مسلمانوں کی حمایت پر وزیراعلیٰ کے سر کی قیمت 11لاکھ مقرر

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ) مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی پر مسلمانوں کی حمایت کے الزام کے بعد بی جے پی کے انتہا پسند ارکان پارلیمنٹ نے ان کے سر کی قیمت 11لاکھ مقررکردی جس پر راجیہ سبھا میں خواتین ارکان نے شدید ہنگامہ آرائی کی۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق بی جے پی کے رکن نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بینرجی ہندوﺅں کی نہیں مسلمانوں کی حمایت کرتی ہیں اور ہندوﺅں کے تہوار منانے کی اجازت نہیں دیتیں۔ بی جے پی کے رکن یوگیش نے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ کے سرقلم کرنے والے کو 11 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ سماج وادی پارٹی کی رہنما اور معروف اداکارہ جیا بچن نے بی جے پی رہنما کی جانب سے اس اعلان پر بھرپور احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ لوگ گائے کی حفاظت کررہے ہیں لیکن بی جے پی کی جانب سے خواتین پر ظلم کیے جارہے ہیں۔ ایوان کو خواتین کے تحفظ کیلئے جارحانہ اقدامات اٹھانے کی فوری ضرورت ہے۔

وزیراعظم کا جلسہ عام سے خطاب, دیکھئے بڑی خبر

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وزیر اعظم نواز شریف آج جمعہ کو سندھ کے ایک روزہ دورے پر جیکب آباد پہنچیں گے۔ وزیر اعظم جیکب آباد میں جلسہ عام سے خطاب اور شہر کے لئے ہیلتھ کارڈز سکیم اور ہسپتال کے منصوبوں کا اعلان کرینگے ۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف آج جمعہ کو ایک روزہ دورہ پر جیکب آباد پہنچے گئے ۔ وفاقی وزراءبھی وزیر اعظم نواز شریف کے ہمراہ سندھ آئیں گے ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم جیکب آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرینگے اور شہر کے لئے ہیلتھ کارڈز سکیم اورہسپتال کے منصوبوں کا اعلان کرینگے ۔

زرداری کا لاپتہ دوست, 200افراد کے قتل کا ملزم نکلا

کراچی (خصوصی رپورٹ) یہ بات تو پاکستانی سیاست میں عام کہی اور سنی جاتی ہے کہ آصف زرداری دوستوں کے دوست ہیں لیکن اس کا دوسرا حصہ یہ بھی ہے کہ وہ دشمنوں کے دشمن بھی ہیں۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اس کی واضح مثال ہیں۔ آصف زرداری اپنے دوستوں کو دل کھول کر نوازتے ہیں اور جب اپنی مرضی اور ضد پر آتے ہیں تو انہیں دل کھول کر برباد کرتے ہیں۔ اس کی مثال انجم شاہ کی ہے جس نے طالبعلمی کے زمانے سے لے کر 93ءتک آصف زرداری کے ناز نخرے اٹھائے اور جب ان سے دشمنی کی تو پھر انجم شاہ کو برباد کر کے رکھ دیا۔ اویس مظفر ٹپی پر رحم کیا کہ ان سے سب کچھ چھین کر ان کو دبئی میں ایک فلیٹ اور ایک جنرل سٹور دے دیا جہاں وہ اللہ اللہ کرکے زندگی کی گاڑی کو دھکا دے رہے ہیں۔ آصف زرداری نے دوستی‘ دشمنی کا آغاز انجم شاہ سے کیا جس نے آصف زرداری کو چھوٹے بھائیوں کی طرح پالا پوسا اور جب ناراض ہوئے تو انجم شاہ پر اتنے مقدمات بنائے کہ ان کو کنگال کر دیا۔ 88ءمیں ستار کیریو کی شکل میں آصف زرداری کے نئے فرنٹ مین سامنے آئے اور ان کے نام اربوں روپے کی ملکیت خریدی۔ 2008ءمیں جب آصف زرداری ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے تو سب سے پہلے ستار کیریو کو محفوظ مقام پر منتقل کیا‘ ان سے سب کچھ چھین کر انہیں آزاد کر دیا۔ پھر ریاض لال جی کو بڑی کمال مہارت سے دبئی سے کراچی لائے اور ان کے بھی اغوا کا ڈرامہ رچایا اور دوسری شام ریاض لال جی کو مواج گوٹھ سے بازیاب کرانے کا ڈرامہ کر کے قصہ ہی ختم کر دیا۔ ریاض لال جی سے اگلے پچھلے حساب لے کر واپس دبئی بھیج دیا گیا اور پھر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے شوگر ملز چھین لیں۔ خالد شہنشاہ نے آصف زرداری کے کہنے پر بہت بڑے کام کئے‘ پھر ایک دن رحمان ڈکیت نے خالدشہنشاہ کو مار ڈالا۔ آگے چل کر رحمان ڈکیت کو چودھری اسلم نے ”مقابلہ“ میں مار دیا اور چودھری اسلم بھی پراسرار دھماکہ میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اویس مظفر ٹپی نے 2013ءکے عام الیکشن میں وزیراعلیٰ بننے کیلئے ٹھٹھہ سے الیکشن جیتا‘ اس کو 20گاڑیوں کا پروٹوکول ملتا تھا۔ اس نے کھربوں روپے کی جائیداد بنا ڈالی‘ ایک دن ان کو حفاظتی تحویل میں لے کر ان سے سب کچھ چھین لیا گیا۔ بس یہ احسان کیا گیا کہ دبئی میں ان کو ایک فلیٹ اور ایک جنرل سٹور دے دیا گیا۔ بلال شیخ چیف سکیورٹی گارڈ تھے۔ ایک دن پراسرار حملہ میں مارے گئے لیکن آج تک ان کا کیس آگے نہیں بڑھ سکا۔ محمد علی شیخ بھی اچانک اٹھالئے گئے، چار ماہ تک وہ بھی حفاظتی تحویل میں رہے۔ سب کچھ چھین کر اس کو امریکہ کا راستہ دکھا دیا گیا، حضور بخش کلوڑ، آفتاب پٹھان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ سب کچھ لے کر انہیں چھوڑ دیا گیا۔ اب نواب لغاری‘ اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کو چار روز میں پراسرار طور پر اٹھا لیا گیا ہے۔ نواب لغاری کون ہے؟ اس بارے میں حقائق کی چھان بین کی گئی تو حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔ 30 دسمبر 1988ءمیں حیدر چوک حیدر آباد میں ایک درجن مسلح افراد نے شام کے وقت فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ نواب لغاری اس کیس کے ملزم تھے، آگے چل کر نواب لغاری آصف زرداری کیمپ میں چلے گئے۔ اسٹیل ملز کے چیئرمین سید سجاد حسین کے قتل کیس، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس راشد عزیز کے بیٹے عمران عزیز پر قاتلانہ حملے، عالم بلوچ کے قتل کیس سمیت ہائی پروفائل مقدمات میں نواب لغاری کا نام بطور ملزم سامنے آیا۔ پچھلے سال جب ڈاکٹر نثار مورائی کو گرفتار کیا گیا تو اس نے جے آئی ٹی کے سامنے ہائی پروفائل مقدمات کا ذکر کیا تو پھر کیس میں نواب لغاری کا نام سامنے آیا۔ اب ان کو اسلام آباد سے اٹھالیا گیا ہے، عین اسی روز کراچی اور حیدرآباد کے درمیان اور منی گروپ میں مالی معاملات کے انچارج اشفاق لغاری کو اٹھا لیا گیا۔ یہ اتفاق نہیں طے شدہ منصوبہ بندی تھی ابھی یہ معاملہ ایک طرف ہوا ہی نہیں تھا کہ ٹنڈواللہ یار کے زمیندار غلام قادر مری کو بھی حیدرآباد سے اٹھا لیا گیا۔ اسی طرح آصف زرداری کے تین ساتھی چار روز میں اٹھالئے گئے۔ تعجب کی بات ہے کہ بلاول ہاﺅس نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان تینوں کے اٹھائے جانے سے آصف زرداری خاموش ہیں اور پانچ روز بعد خورشید شاہ اور مراد علی شاہ بول پڑے ہیں کہ تینوں افراد کو رہا کیا جائے۔ حکومت سندھ ان افراد کی بازیابی کے لئے کوشش کر رہی ہے لیکن ہماری اطلاع ہے کہ جس طرح اوپر سے پولیس پر کوئی دباﺅ نہیں ہے اس لئے پولیس بھی اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کی بازیابی کے لئے کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے تاہم نواب لغاری کی اسلام آباد سے گمشدگی پر ان کی اہلیہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔

امریکی اور جرمن این جی اوز سے رقم لے کرکیا کِیا؟, مولانا طاہر اشرفی بڑی مشکل میں پھنس گئے

لاہور (خصوصی رپورٹ) نیب اور ایف آئی اے نے مولانا طاہر اشرفی کے خلاف امریکی اور جرمن این جی اوز سے رقم لینے کی درخواستوں پر ابتدائی کارروائی شروع کر دی۔ نیب ذرائع کے مطابق مولانا طاہر اشرفی کے خلاف جرمن این جی او سے لاکھوں روپے لے کر سوشل میڈیا اور مدارس میں انتہاپسندی کے خلاف اقدامات کرنے کا پراجیکٹ شروع کرنے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ سے تعلق رکھنے والے ادارے دی انٹرنیشنل سنٹر فار ریلی جن اینڈ ڈپلومیسی سے لاکھوں روپے وصول کر کے فرقہ وارانہ انتہاپسندی کے خلاف ریپڈ ٹیم تیار کر کے دینے کا الزام ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان علماءکونسل کے سیکرٹری جنرل صاحبزادہ زاہد محمود اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے مولانا طاہر اشرفی پر مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے ایف آئی اے کو درخواست دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے اور نیب میں ان شکایات پر فوری کوئی بڑی کارروائی نہیں کی جائے گی بلکہ ابتدائی کارروائی کے بعد شواہد دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا کہ انکوائری کیلئے ایف آئی اے اور نیب کے تفتیشی افسران کو کیس سونپ دیا جائے۔
طاہراشرفی‘ تحقیقات