عزیربلوچ کیخلاف شکنجہ تیار….کیا کِیاکرتارہا؟ تہلکہ خیزانکشافات سے سیاستدانوں کی نیندیں حرام

راولپنڈی (خصوصی رپورٹ) فوج نے لیاری گینگ کے سربراہ عزیر بلوچ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ عزیر بلوچ نے حساس سکیورٹی معلومات غیرملکی ایجنسیوں کو دیں۔ جاسوسی کے جرم میں تحویل میں لیاگیا عزیر بلوچ کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گا۔ادھرعزیر بلوچ کے فوج کی تحویل میں جانے کی خبرنے متعدد سیاسی رہنماﺅں کی نیندیں اڑا دیں۔ عزیر بلوچ کے بھارتی ایجنسی ”را“ اور ایرانی خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعلقات تھے، کلبھوشن یادیو کے نیٹ ورک سے بھی روابط تھے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی نے مزید بتایا کہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں کئی پردہ نشینوں کے نام ہیں۔ 3 گھنٹے کی ویڈیو حساس اداروں کے پاس موجود ہے۔ عزیر بلوچ کراچی میں بھی سنگین جرائم میں ملوث رہا۔ آنے والے دنوں میں سامنے آئے گا کہ عزیر بلوچ کے خلاف ملک دشمنی اور جاسوسی کے جرم میں ہی کارروائی آگے بڑھے گی یا دیگر جرائم جن میں قتل و غارت، بھتہ خوری ووغیرہ شامل ہیں میں بھی اس کی معاونت کرنے والے قابو میں آئیں گے۔
عزیربلوچ

آرمی چیف سے امریکی سفیر کی ملاقات, اہم معاملات سامنے آگئے

راولپنڈی (آن لائن) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے ملاقات کی جس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال ، اپریشن رد الفساد اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گذشتہ روز پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی سفیر نے خطے میں دہشتگردی کے خاتمے اور قیام امن کے لئے پاک فوج کی کاوشوں کو سراہا۔ ڈیوڈ ہیل نے انسداد دہشتگردی کے خاتمے کے لئے آپریشن رد الفساد کو سراہا اور تعریف کی۔ ڈیوڈ ہیل نے کہا کہ آپریشن سے دہشتگردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

شادی کی سالگرہ پر ملک کی سینچری, ویسٹ انڈیز کو ایک اور بڑی شکست

گیانا (خصوصی رپورٹ) پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں 6وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-2سے جیت لی۔ پاکستان نے234 رنز کا ہدف 44ویں اوور میں عبور کرلیا۔شعیب ملک نے شاندار بیٹنگ کی اور101 رنز بنائے جس میں 2چھکے اور 10چوکے شامل ہیں ۔انہوں نے میچ کے آخر میں چھکا لگا کر ٹیم کو فتح دلائی ۔وہ مین آف دی میچ اورمین آف دی سیریزقرارپائے۔ پاکستان کی جانب سے محمد حفیظ81 رنز اور سرفراز احمد24 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔ میچ میں پاکستان کے اوپنرز نہ چل سکے ۔کامران اکمل صفر اور احمد شہزاد 3 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے جبکہ بابر اعظم 16 رنز ہی بناسکے۔ ویسٹ انڈیز کے شینن گیبریل نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو میچ جیتنے کے لئے 234رنز کا ہدف دیا تھا، ویسٹ انڈیز کی جانب سے شائی ہوپ نے سب سے زیادہ 71رنز جبکہ جیسن محمد نے ایک مرتبہ پھر عمدہ بیٹنگ کی اور 59رنز بنائے۔ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر بیٹنگ شروع کی ، اس کی پہلی وکٹ 31 رنز پر گر ی جب لیوس 16 رنز بناکر آوٹ ہوئے، والٹن 19 اور پاول 23 رنز بناکر چلتے بنے،چوتھی وکٹ پر شائی ہوپ اور جیسن محمد نے 101 رنز کی شراکت بنائی۔ویسٹ انڈیز کے جیسن محمد 59 اور شائی ہوپ 71 رنز بناکرنمایاں رہے، اس طرح ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے 9 وکٹوں کے نقصان پر 233 رنز بنائے ۔محمد عامر ،جنید خان اور شاداب خان نے دو دو کھلاڑیوں کو آوٹ کیا جبکہ حسن علی اور عماد وسیم نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

”سشما سوراج کے بیان سے پتہ چلتا ہے کلبھوشن کی سزا پر بھارت کو کتنی تکلیف ہے“ نامورتجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں وتبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی وتجزیہ کار ضیا شاہد نے کلوبھوشن کے حوالے سے بھارتی بیان پر کہا ہے کہ بھارتی وزیرخارجہ متعصب ذہنیت کی مالک ہیں، ان سے کوئی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ میری سشما سوراج سے تین ملاقاتیں ہوئی ہیں ان کے خیالات سے زیادہ واقف ہوں۔ پہلے وہ بڑے پیار سے ملتی ہیں پھر ان کے اندر کا بغض سامنے آ جاتا ہے۔ یہ ہندو لیڈروں کا مخصوص طریقہ کار ہے جبکہ ہمارے بہت سارے بےوقوف اس گھڑے میں گر پڑتے ہیں۔ سشما سوراج نے آگرہ میں ہونے والی ملاقات میں مجھ سے کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان ہمارا نقطہ نظر سمجھے۔ تب تک کوئی مذاکرات کامیاب نہیں ہونگے۔ پاکستان کے مطابق کشمیر میں رائے شماری جبکہ ہمارے نزدیک وہاں انتخابات کروانا اٹوٹ انگ ہے جو ہمارے آئین میں شامل ہے۔ پاکستان نے وہاں ایک حصے پر قبضہ جما رکھا ہے وہ چھوڑ دیں۔ تاکہ ہم وہاں بھی انتخابات کروائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ نے گلگت، بلتستان کو الگ کر کے وہاں بھی قبضہ کر رکھا ہے جو کشمیر کا اہم حصہ ہے۔ چینی دوستوں سے بھی کہتے ہیں کہ وہ گلگت وبلتستان کو متنازعہ علاقہ سمجھیں وہی ہوا سی پیک کے بعد بھارت نے کہا کہ چین متنازعہ علاقے میں سڑک بنا ہی نہیں سکتا جس پر چین نے بھارت کو شیٹ اپ کال دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمان جن کو بنگلہ قوم کا باپ قرار دیتے تھے ان کو انہی کی بنائی گئی فوج نے بیٹے، داماد اور 12 سالہ نواسہ اَسل سمیت فائرنگ کر کے مار دیا تھا اور تین دن انکی لاشیں ان کے گھر میں ہی پڑی ہی تھیں کیونکہ تدفین کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ حسینہ واجد اس وقت اپنے شوہر کے ساتھ یورپ کے دورے پر تھیں ورنہ وہ بھی ماری جاتیں۔ فوج کے اجازت دینے پر شیخ مجیب الرحمان اور ان کے اہلخانہ کی تین دن پرانی لاشوں کی گاﺅں والوں نے تدفین کی۔ بنگلہ دیش کی علامت پاکستانی افواج کا بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دینا ہے۔ ملک میں ایسے غداروں، وطن فروشوں اور جھوٹے دانشوروں کی کمی نہیں جو بنگلہ دیش میں ہونے والی تقاریب میں ہاتھ پھیلائے جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد پراپیگنڈا ہوا کہ پاک فوج کے جوانوں نے بہت سی لڑکیوں کو بے آبرو کیا جبکہ پاکستانی فوج چاروں طرف سے گھری ہوئی تھی یہ ممکن ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے دوست مقبول بٹ شہید نے مسئلہ کشمیر پر لوگوں کی توجہ دلانے کیلئے گنگا ہائی جیکنگ کیس آرگنائز کیا تھا۔ پاکستان میں ان پر بھارتی جاسوس ہونے کا کیس چلا بڑی مدت بعد وہ رہا ہوئے تو دوبارہ مقبوضہ کشمیر چلے گئے اور دینی آزادی کی تحریک چلانا شروع کر دی۔ بھارت نے متنازعہ علاقے میں آزادی کی تحریک چلانے پر انہیں دہشت گرد قرار دیتے ہوئے پھانسی دےدی۔ اس وقت کی حکومت پاکستان سوئی ہوئی تھی کوئی اعتراض نہیں کیا متنازعہ علاقے میں آزادی کی تحریک چلانے والوں کو دہشت گرد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حریت پسندی دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی۔ تجزیہ کار نے کہا کہ ایک نجی ایجنسی کی خبر پڑھی جس میں آصف زرداری کے حوالے سے ایسی بہت سی مثالیں تھیں کہ جب وہ مہربان ہوتے ہیں تو بہت نوازتے ہیں جب ناراض ہوتے ہیں تو ککس بل نکال دیتے ہیں۔ لگتا ہے کہ ان کے لاپتہ ہونے والے قریبی ساتھی اس رگڑے میں آ گئے۔ لاپتہ افراد بارے آصف زرداری ہی انکا قصور بتا سکتے ہیں کوئی اور اس پر روشنی نہیں ڈال سکتا۔ سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ”جسے پیا چاہے وہی سہاگر“۔ انہوں نے کوئی اچھے کام کیے ہونگے تو ہی وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ان کو آئی جی بنایا۔ اگرچہ انکے ریکارڈ میں کوئی کارکردگی ملتی نہیں۔ جنوبی پنجاب میں ایک بار بھیجا گیا تھا جہاں انکی ساری کارکردگی ٹھس ہو گئی تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد نعیم لودھی نے کہا ہے کہ کلبھوشن کے حوالے سے بھارتی وزیرخارجہ کے بیان نے ثابت کر دیا کہ انکا بہت ہی ہائی پروفائل افسر پکڑا گیا ہے۔ بھارت جو کر سکتا ہے وہ پورا زور لگا کر کر رہا ہے اس سے آگے وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو نقصان پہنچانے اور دنیا میں امیج خراب کرنے میں بھارت نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ہمارے لیڈروں کو اب سمجھ جانا چاہیے۔ بھارت کے ساتھ اسی کی زبان میں بات کرنے کی ضرورت ہے۔ کلبھوشن کے حوالے سے بھارت امریکہ کا دباﺅ ڈلوانے کی کوشش کر سکتا ہے جو عام نہیں کیس پر وہ ہو گا۔

میرے دوستوں کو کس نے اغوا کروایا؟, زرداری نے راز سے پردہ اُٹھادیا

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کا فیصلہ درست ہے مکمل حمایت کرتے ہیں، میرے دوستوں کے اغواءمیں وفاقی حکومت کا ہاتھ ہے، چوہدری نثار بے بس ہیں تو عہدہ چھوڑ دیں۔ وہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کا فیصلہ درست ہے۔ کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں تباہی پھیلاہی اسی بھارتی جاسوس کو اگر ہم اپنی سرزمین سے پکڑیں گے تو سزا تو دینگے۔ سوال یہ ہے کہ کلبھوشن پاکستان آیا ہی کیوں۔ بھارتی جاسوس کو سزا دینا ہمارا حق ہے۔ ملک دشمنوں کو پھانسی کی سزا کے حق میں ہےں۔ ملک کے دشمن کو میں نے بھی پھانسی دی حالانکہ باقی پھانسیاں روک دی تھیں۔ ہماری پارٹی کی جنرل پالیسی یہ ہے کہ ملک کے شہری کو پھانسی نہ دی جائے عمر قید دے دی جائے تاہم غیر ملکی جاسوس کو سزا دینا بلکہ جائز ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت میرے دوستوں کو اغواءکررہی ہے اس اغواءمیں وفاقی وزیرداخلہ کا ہاتھ ہے۔ انہیں کے خلاف ایف آئی آر کٹواﺅں گا۔ چوہدری نثار بے بس ہیں تو عہدہ چھوڑ دیں۔
حیدرآباد (بیورو رپورٹ) پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے تین انتہائی قریبیساتھیوں کی گمشدگی تاحال معمہ بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی قیادت اضطرابی کیفیت کا شکار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پراسرار طور پر غائب ہونے والے تینوں افراد آصف زرداری کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ غلام قادر مری ضلع ٹنڈوالہیار کی اہم شخصیت تصور کئے جاتے ہیں، ان کا پیپلز پارٹی سے واجبی مگر آصف زرداری سے گہرا تعلق بتایا جاتا ہے، وہ سابق صدر کے ہم راز تصور کئے جاتے ہیں۔ غلام قادر مری کی اہم ترین ذمہ داری آصف علی زرداری کی ٹنڈوالہیار میں موجود زرعی زمینوں کی دیکھ بھال ہے، انہیں آصف زرداری کے کاروباری معاملات کا نگراں بھی تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی سیخ پا نطر آتی ہے۔ دوسری جانب نواب لغاری کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ڈاکٹر قادر مگسی کے قریبی ساتھی رہے ہیں اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے طلبہ ونگ کے اہم ذمہ دار کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ حیدرآباد کی تاریخ کے بدترین سانحہ 30ستمبر میں وہ گرفتار رہے ہیں، دورانِ قید ان کے مراسم آصف علی زرداری سے قائم ہوئے جو مضبوط رفاقت میں تبدیل ہوگئے۔ ان کی گمشدگی کو آصف زرداری کے لئے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جارہا ہے، وہ سندھ کابینہ میں مشیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ پراسرار طور پر غائب ہونے والی تیسری شخصیت اشفاق لغاری اومنی گروپ کے کنسلٹنٹ رہے ہیں، وہ بھی آصف رزداری کے قریبی ساتھیوں میں شامل ہیں اور ان کی کاروباری ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔

سرکاری محکموں میں بھرتیاں, دیکھئے بڑی خبر

اسلام آباد(ملک منظور احمد)باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لےگ ن کی حکومت نے سرکاری محکموں مےں بھرتےوں پر سے عائد پابندی اٹھانے کا فےصلہ کر لےا ہے اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ آج وفاقی کابےنہ کے اجلاس مےں سرکاری نوکری پر پابندی کے حوالے سے پابندی اٹھالی جائے گی۔عام انتخابات سے پہلے حکومت نے ہزاروں خالی اسامےوں کو پر کرنے کا فےصلہ کےا ہے تاکہ آنے والے انتخابات کے لےے ووٹ بےنک مےں اضافہ کےا جاسکے ۔اس کے علاوہ وزےراعظم مےاں محمد نواز شرےف کی ہداےات پر ارکان پارلےمنٹ کو ترقےاتی فنڈز بلاتاخےر جاری کرنے کا فےصلہ کےا گےا ہے۔

عزیربلوچ کو فوج نے تحویل میں لے لیا, اندرونی کہانی سامنے آگئی

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج نے عزیر بلوچ کو اپنی تحویل میں لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق عزیربلوچ کو پاکستان آرمی ایکٹ1923 کے تحت تحویل میں لیاگیا۔عزیر بلوچ پر حساس معلومات غیر ملکی ایجنسیوں کو دینے کا الزام تھا۔ وہ بلوچستان میں غیر ملکی خفیہ اداروں کو کارروائی کے لئے خفیہ معلومات دیتا رہا ہے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کسی ملک کی نشاندہی کیے بغیر بتایا کہ عزیر بلوچ پر حساس معلومات غیر ملکی خفیہ ایجنسی کو فراہم کرنے کا الزام ہے۔عزیر بلوچ 2013 میں ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کراچی میں رینجرز آپریشن شروع ہونے پر بیرون ملک فرار ہوئے تھے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لیاری گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ابتدا میں عزیر بلوچ کو رینجرز نے 90 روز تک حراست میں رکھا اور تفتیش کے بعد پولیس کے حوالے کردیا تھا، ملزم کو بعد ازاں کراچی کی سینٹرل جیل میں قید رکھا گیا جہاں عزیز بلوچ کو متعدد ٹرائل کا سامنا تھا۔ اس سے قبل عزیر بلوچ کوانسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے 40 مقدمات میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔لیاری میں 2012 میں ہونے والے پولیس آپریشن کے دوران عزیر بلوچ اور ان کے دیگر ساتھیوں پر قتل، اقدام قتل اور پولیس حملوں سے متعلق 35 مقدمات درج کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ وہ لیاری سے تعلق رکھنے والے پی پی پی کے ایک رکن قومی اسمبلی اور کچھ پولیس افسران کے ساتھ ارشد پپو، اس کے بھائی یاسر عرفات اور ساتھی جمعہ شیرا قتل کیس کے ٹرائل کا سامنا بھی کررہے ہیں، انھیں مارچ 2013 میں ڈیفنس سے اغوا کے بعد لیاری میں قتل کردیا گیا تھا۔ سردار عزیز جان بلوچستان کے مختلف علاقوں سے اسلحہ کراچی لاتا تھاجو کراچی کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جبکہ گذشتہ دنوں عدالت میں لیاری میں پولیس پر حملے کے مقدمے سے بری کردیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق جیل میں ہونے کے باوجود عزیر بلوچ لیاری اور اس سے جڑے علاقوں میں بھتا وصول کر رہا تھا ۔

کلبھوشن کو بچانے کیلئے ہر حد تک جائینگے, سشما سوراج کی بڑھک

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ ہمسایہ ملک کا یہ اقدام دو طرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سیاسی جماعتوں کی جانب سے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر پاکستان کے خلاف سخت ایکشن کے مطالبے کے بعد بھارتی پارلیمان کی راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کلبھوشن اس ملک کا بیٹا ہے اور وہ اس کے خاندان سے مکمل رابطے میں ہیں۔ وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ کلبھوشن یادیو پر لگائے گئے الزامات من گھڑت ہیں، اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ اس نے پاکستان میں کچھ غلط کیا۔ سشما سوراج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں سنائی گئی سزا کے فیصلے سے نمٹنے کے لیے بہترین وکیل فراہم کیے جائیں گے اور کلبھوشن یادیو کی حفاظت کے لیے ہر فورم پر لڑا جائے گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پارلیمانی رہنماو¿ں کی جانب سے کیے گئے اس سوال میں کہ کیا بھارتی حکومت پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں یہ مقدمہ لڑے گی، سشما سوراج کا کہنا تھا کہ ہم اس سے آگے جائیں گے اور پاکستانی صدر سے اس معاملے پر بات کریں گے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ ’کلبھوشن یادیو ایران میں اپنا کاروبار کرتا تھا اور اسے اغوا کر کے پاکستان لایا گیا، بھارت نے قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا تاہم اس سے انکار کر دیا گیا۔ سشما سوراج نے روایتی ہرزہ سرائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ کلبھوشن یادیو بےگناہ ہے، پاکستان کلبھوشن کے ذریعے بھارت کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ دہشت گردی میں اپنے کردار کو مخفی رکھ سکے۔ دوسری جانب بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا تھا حکومت کلبھوشن یادیو کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔ راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے پاس بھارتی ویزا موجود تھا وہ جاسوس کیسے ہو سکتا ہے؟۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سبرامینیم سوامی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے کلبھوشن کو پھانسی دے دی تو ہمیں پھر بلوچستان کو ایک آزاد ملک سمجھنا چاہئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سبرامینیم سوامی نے کہا کہ اگر پاکستان نے یادیو کو پھانسی دے دی تو بھارت کو بلوچستان کو ایک آزاد ملک سمجھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان یہی کرتا رہا تو ایک دن سندھ بھی کھو دے گا اور پھر اس کے بعد اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے پاکستان کو سنگین نتائج بھگتنا ہونگے۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے کلبھوشن یادیو کو موت کی سزا سنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت سے کلبھوشن کے لیے جو ہو سکے گا کرے گی۔ بھارتی وزیر داخلہ نے منگل کے روز نئی دہلی میں کلبھوشن کے حوالے سے لوک سبھا میں اپنے بیان میں کہا کہ کلبھوشن یادیوکو پاکستان میں ایک جاسوس کے روپ میں پیش کیا گیا اور بعد ازاں انصاف کے تقاضے مدنظر رکھے بغیر اس کو سزائے موت کی سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا جس کی بھارتی حکومت شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہے بھارتی حکومت سے جو ہوسکے گا وہ کرے گی۔ راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ کلبھوشن جاسوس نہیں بلکہ سابق آرمی افسر تھا اور اس کا ایران کے علاقے چہار باغ میں ایک چھوٹا سا کاروبار تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی سکیورٹی اداروں نے اسے اغوا کیا اور بعد میں بھارتی جاسوس کے طور پر پیش کیا گیا کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور اور دیگراراکین نے بھی کلبھوشن کو سزائے موت سنائے جانے کی مذمت کی خیال رہے کہ پیر کے روز فوجی عدالت نے بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر اور بارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو موت کی سزا سنائی تھی۔بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف دونوں ایوانوں میں قرارداد لانے کا فیصلہ کر لیا ¾بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کانگریس کے رہنما ششی تھرور سے قرارداد کا متن تیار کرنے کی اپیل کر دی ¾بھارتی جاسوس کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد رکوانے کےلئے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے بھی رجوع کیا جائیگا ۔بھارتی میڈیاکے مطابق بھارتی رہنماﺅں نے بھارتی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن یادیوکو پاکستان کی طرف سے موت کی سزا سنانے کی سخت مذمت کی ہے،تمام سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ میں مودی سرکار سے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو بحفاظت بھارت واپس لانے کےلئے اقوام متحدہ میں پاکستانی عزائم کو بے نقاب کیا جائے ۔ دوسری طرف بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کانگریس لیڈر ششی تھرور سے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف دونوں بھارتی ایوانوں میں قرارداد لانے کےلئے ڈرافٹ تیار کرنے کی اپیل کی ہے جس پر ششی تھرور نے پارٹی لیڈر کی اجازت ملنے پر ڈرافٹ تیار کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے معاملہ پر بھارت دھونس دھمکیوں پر اتر آیا، نئی دلی میں انتہا پسند ہندوو¿ں نے پاکستانی سفارتخانے کا گھیراو¿ کرلیا، نجی ٹی وی کے مطابق انتہا پسند ہندو گروپ نے نئی دلی میں پاکستانی سفارتخانے کا گھیراو¿ کرلیا، پیراملٹری فورسز وہاں پہنچ گئیں،ملکی اور غیرملکی میڈیا ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں، یہ صورتحال دیکھتے ہوئے انتہا پسند گروپ کو سفارتخانے پر حملے کی جرا¿ت نہ ہوئی اور وہ وہاں سے کھسک گیا۔

ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش, وزیراعظم کا مسئلہ کشمیر بارے بڑا اعلان

اسلام آباد، رسالپور، نوشہرہ (اے پی پی‘ اے این این) وزیراعظم محمد نواز شریف نے تنازع کشمیر کے حل میں امریکہ کے کلیدی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں نئی امریکی انتظامیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازع کشمیر کے حل میں معاونت کے لئے اپنا فعال کردار ادا کرے گی جو جنوبی ایشیا کے خطے میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے یہ بات وزیراعظم ہاﺅس میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے امریکہ بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے جو اس نے ابھی تک ادا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت پوری دنیا اس تنازع کے باعث عالمی امن اور خطہ میں استحکام کو لاحق خطرہ سے آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تنازع کشمیر کے حل کے حوالے سے پیشرفت دیکھنے کے خواہاں ہیں جو خطے میں امن و ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور امریکہ سمیت پوری دنیا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جنوبی ایشیاءمیں امن و سلامتی کے مسئلہ کو حل کرنے میں معاونت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور بعد ازاں ان کے نائب صدر مائیک پنسی اور رواں ماہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے بارے میں فکر مند ہے۔ نکی ہیلی نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کے عمل میں بھی شریک ہو سکتے ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے دیرینہ مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کے حوالے سے مختلف ممالک کی طرف سے ثالثی کی کاوشوں کا ہمیشہ خیرمقدم کیا ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کو اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہئے۔ ایسا نہ ہونے سے پہلے ہی اس کی ساکھ کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کی طویل تاریخ کے حامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ سے امداد نہیں، تجارت کے خواہاں ہیں اور پاکستان امریکہ سمیت تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے وسیع تر اقتصادی اصلاحات اور پرکشش مراعات کے نتیجہ میں پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے ایک پرکشش مقام بن چکا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر سے کاروباری ادارے مختلف شعبوں میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں جبکہ ملک میں پہلے سے کاروبار کرنے والی غیر ملکی کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری پر اچھا منافع کما رہی ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت بڑے بڑے منصوبہ جات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک پورے خطے میں اقتصادی سرگرمیاں پیدا کرنے اور ان کے فروغ کی بہت زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان دیگر ممالک کی طرف سے اس شاندار منصوبے میں شمولیت اور اربوں ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کے فوائد سے مستفید ہونے کا خیرمقدم کرے گا۔ وزیراعظم نے امریکی کمپنیوں پر بھی زور دیا کہ وہ نئے مواقع سے استفادہ کریں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کریں جہاں سب کے لئے سود مند سرمایہ کار دوست ماحول موجود ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت ملک کی ترقی و خوشحالی اور عام آدمی کی بہبود کو یقینی بنانے کے یک نکاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور ہماری تمام تر کاوشیں اس ایجنڈے کے حصول پر مرکوز ہیں۔ تاہم انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض عناصر نہیں چاہتے کہ عام آدمی کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے موجودہ حکومت کی کاوشیں کامیاب ہوں اور وہ اس کی راہ میں ہر قسم کی رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پوری قوم ہمارے ساتھ ہے اور ہم نہ صرف ان رکاوٹوں پر قابو پالیں گے بلکہ ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر اپنے سفر کو مزید تیز کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کو قوم کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ وہ مادر وطن کی ترقی اور فلاح و بہبود میں اپنا مناسب کردار ادا کریں اور ملک کو نئی بلندیوں سے روشناس کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں میں حکومت کا ہاتھ بٹائے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ملکی دفاع پر سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،مسلح افواج ہر چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ،پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں ،امن کی خواہش ہماری کمزوری نہیں ،تنازعہ کی بجائے تعاون اور باہمی خدشات کی بجائے خوشحالی ہماری پالیسی کا طرہ امتیاز ہے،آپریشن ضرب عضب میں پاک فضائیہ کا اہم کردار ہے،کامیابی کے لیے کوئی مختصر راستہ نہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے رسالپور میں پاکستان ایئرفورس اکیڈمی اصغر خان میں 137ویں جی ڈی پی، 83 ویں انجینئرنگ کورس کی گریجویشن پریڈ سے خطاب میں کیا۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ رسالپور اکیڈمی کیڈٹس کو اعلی معیار کی تربیت فراہم کررہی ہے جب کہ کامیابی کے لیے کوئی مختصر راستہ نہیں اور آپ پر ملک کے دفاع کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر امن اور ذمہ دار ملک ہونے کے ساتھ ساتھ امن پالیسی پر عمل پیرا ہے، پاکستان خطے کے تمام ممالک سمیت دنیا سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے بالخصوص ہمسایوں سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہیں تاہم ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔امن کی خواہش ہماری کمزوری نہیں ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ آزادکشمیر اور ایل او سی پر او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ سے دنیا کو آگاہ کیا جائے،علاقائی عالمی سطح پر او آئی سی کو اہم کردار ادا کرنا ہے،علاقائی امن و خوشحالی حکومت کی ترجیح ہے،پاکستان باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی ترقی کیلئے مسلم ملکوں کے ساتھ شراکت داری چاہتا ہے۔منگل کو سیکرٹری جنرل او آئی سی ڈاکٹر یوسف احمد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ علاقائی عالمی سطح پر او آئی سی کو اہم کردار ادا کرنا ہے،کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی پر او آئی سی اور مسلم ملکوں کے شکرگزار ہیں،آزادکشمیر اور ایل او سی پر او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ سے دنیا کو آگاہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ علاقائی امن و خوشحالی حکومت کی ترجیح ہے،پاکستان باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی ترقی کیلئے مسلم ملکوں کے ساتھ شراکت داری چاہتا ہے،وزیراعظم نے او آئی سی کے اہداف کے حصول میں سیکرٹری جنرل کو پاکستان کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر یوسف احمد نے کاہ کہ پاکستان او آئی سی کا اہم رکن ہے،پاکستان نے او آئی سی کے ذریعے علاقائی امن و سلامتی کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے،ڈاکٹر یوسف نے 13ویں ای سی او سربراہ اجلاس کے کامیاب انعقاد پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔

گورنر پنجاب سے ملاقات, کرپشن کے بت توڑنے کا عزم

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوجوان نسل پاکستان کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہے اورنوجوانوں کو جدےد علوم سے آراستہ کرنے کےلئے وسائل کی فراہمی قوم کے روشن مستقبل کےلئے سود مند سرماےہ کاری ہے اوراس مقصد کےلئے وسائل کی کمی نہےں آنے دےں گے۔پنجاب حکومت طلبا و طالبات کو چےنی زبان سےکھنے کےلئے چےن بھجوا رہی ہے اوران طلبا و طالبات کےلئے وسائل مہےا کرنا اخراجات نہےں بلکہ پاکستان کے روشن مستقبل پربہت بڑی سرماےہ کاری ہے کےونکہ پاکستان کا مستقبل انہی نوجوانوں سے جڑا ہوا ہے ۔وزےراعلیٰ محمد شہبازشرےف نے ان خےالات کا اظہار چےنی زبان سےکھنے کےلئے چےن جانے والے تےسرے بےچ کے طلباءکے وفد کےساتھ ملاقات کے دوران اپنے خطاب مےں کےا ۔ 39طلباءپرمشتمل وفد 13اپرےل کو چےنی زبان سےکھنے کےلئے لاہور سے چےن روانہ ہوگا۔وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے چےنی زبان سےکھنے کے کورس کےلئے چےن جانے والے طلباءکو لےپ ٹاپ بھی دےئے۔چین کے قونصل جنرل لانگ ڈنگ بن بھی اس موقع پر موجود تھے -انہوں نے بھی طلباءمیں لیپ ٹاپ تقسیم کئے -وزےراعلیٰ نے اپنے خطاب مےں چےن جانے والے طلباءکو مبارکباد دےتے ہوئے کہا کہ آپ کا انتخاب سو فےصد مےرٹ پر کےاگےا ہے اورمےرٹ ہی پنجاب حکومت کا طرئہ امتےاز ہے ۔انہوںنے کہا کہ پاکستان اورچےن کی دوستی بے مثال ہے ۔پاکستان اورچےن کے تعلقات اقوام عالم کے دےگر ممالک کے تعلقات سے منفرد اورلازوال ہےں۔چےن معاشی ، تجارتی اوردےگرشعبوں مےں پاکستان مےں عظےم سرماےہ کاری کررہا ہے جس کی دنےا مےں کوئی مثال نہےں ۔چےن کی ےہ سرماےہ کاری کسی بھی ملک مےں کی جانے والی دنےا کی سب سے بڑی سرماےہ کاری ہے ۔سی پےک کے تحت چےن پاکستان مےں 51ارب ڈالر سے زائد کی سرماےہ کاری کررہا ہے جس مےں 36ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں کےلئے ہےں۔حکومت مختلف ذرائع سے توانائی کے منصوبوں کو تےزی سے آگے بڑھارہی ہے تاہم جو لوگ پاکستان کی ترقی اورخوشحالی نہےں چاہتے وہ توانائی خصوصاً کوئلے سے بجلی پےدا کرنے والے منصوبے سے کےڑے نکال رہے ہےں ۔کوئلے سے بجلی پےدا کرنے کے پاور پلانٹ کےلئے سپر کرےٹےکل بوائلرز لگائے جارہے ہےں جو کہ بےن الاقوامی معےار کے ہےںاوراس منصوبے مےں ہر طرح کے ماحولےاتی سٹےنڈرز کا خےال رکھا گےا ہے جبکہ دوسری طرف امرےکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ فوسل انرجی کو فروغ دےں گے اوروہ بھی کوئلے سے بجلی پےدا کرنے کی جانب جارہے ہےں،اسی طرح بھارت مےں کوئلے سے ہزاروں مےگاواٹ بجلی پےدا کی جارہی ہے اور ہمارے پاس تھر کول جےسے بہترےن ذخائر موجود ہےں،ہمےں ان سے فائدہ اٹھانا ہے نہ کہ ان کو بند کرنا ہے لےکن ہم نے ماحولےاتی چےلنجزکا خاص خےال رکھنا ہے اورکوئلے کے پاور پلانٹ مےں اس بات کو ےقےنی بناےا گےاہے ۔انہوںنے کہا کہ ہم 70برس سے ےہ کہتے آرہے ہےں کہ پاک چےن دوستی ہمالےہ سے بلند،سمندر سے گہری ،شہد سے مےٹھی اورفولاد سے زےادہ مضبوط ہے اورچےن نے اپنے عمل سے اس بات پر مہرثبت کردی ہے اور سی پےک کے ذرےعے ےہ کردکھاےا ہے۔ چےن کی پاکستان مےںسرماےہ کاری سے لاکھوں افراد کو ر وزگار ملے گا،معاشی ترقی ہوگی،خوشحالی آئے گی اورترقی کاپہےہ تےز ہوگا ،ےہ وہ تمام فوائد ہےں جن سے استفادہ کرنے کےلئے زبان پر عبور بہت ضروری ہے تاکہ ہم پاک چےن تعلقات مےں وسعت سے فائدہ حاصل کرسکےں ۔سی پےک کے منصوبوں سے استفادہ کرنے کےلئے چےنی زبان سےکھنا ضروری ہے ،اسی مقصد کو مدنظر رکھ کر وزےراعظم محمد نوازشرےف کی قےادت مےں پنجاب حکومت نے نوجوانوں کو چےنی زبان سےکھانے کےلئے چےن بھجوانے کا پروگرام بناےاہے،جس کے تحت اس وقت بےجنگ ےونےورسٹی مےں190طلباءو طالبات چےنی زبان سےکھ رہے ہےں اورمستقبل مےں اس پروگرام کے بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے اورچےنی زبان سےکھ کر واپس آنے والے طلبا و طالبات اسلام آباد اوربےجنگ مےں اےک پل کا کردارادا کرےں گے۔پاکستان اورچےن کے درمےان سرماےہ کاری کو فروغ دےں گے اوراپنے ہنر کے ذرےعے سی پےک کی سرماےہ کاری مےں مزےد اضافہ کرےں گے۔انہوںنے کہا کہ جدےد ٹےکنالوجی کے ذرےعے اب فاصلے سمٹ گئے ہےں اور آپ بےجنگ مےں بےٹھ کر اپنے گھر والوں کے ساتھ ٹےکنالوجی کے ذرےعے باقاعدگی سے رابطے مےں رہ سکتے ہےں ۔انہوںنے کہا کہ تارےخ نے آپ کو اےک سنہری موقع عطا کےا ہے آپ نے اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھانا ہے کےونکہ آپ کا چناو¿صرف اورصرف مےرٹ پر کےاگےا ہے اور پنجاب مےں صرف مےرٹ ہی چلتا ہے اور مےرٹ ہی سکہ رائج الوقت ہے۔پنجاب مےں سفارش ،دھونس دھاندلی ،اقرباءپروری اورکرپشن کے بتوں کو توڑ دےاگےا ہے۔پنجاب حکومت مےرٹ پالےسی پر عمل پےرا ہے اور صوبے مےں کرپشن کی کوئی گنجائش نہےں۔پاکستان کی ترقی نہ چاہنے والے بلاجواز تنقےد کررہے ہےں ۔وزےراعلیٰ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مےری آپ کو نصےحت ہے کہ آپ پاکستان کے سفےر ہےں اور آپ نے چےن مےں پاکستان کے سفےر بن کر ملک اورقوم کا نام روشن کرنا ہے ۔محنت ،دےانت اورامانت کے ساتھ وقت کی پابندی کرنی ہے ۔اپنے حسن اخلاق سے دل جےتنے ہےں اورمجھے ےقےن ہے کہ جس مےرٹ کی بنےاد پر آپ کا انتخاب ہوا ہے اسی مےرٹ کے تحت آپ اپنے کردارسے پاکستان کا نام روشن کرےںگے۔انہوںنے کہا کہ جو نوجوان چےنی زبان کے کورس مےں اچھے نمبر لےں گے انہےں واپسی پر خود بخود ملازمتےں ملےں گی اوراس سلسلے مےں ہم نے مکمل انتظام کرلےاہے ۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ چےن جانے والے وفد مےں گلگت بلتستان اور بلوچستان کے بچے بھی شامل ہےں اور ہم نے خےبر پختونخواہ اور سندھ کے بچوں کو بھی دعوت دی ہے لےکن شاےد ا ن کے بچے نہےں آئے لےکن ےہ وفد بھی پاکستان کی جھلک لئے ہوئے ہے۔انہوںنے کہا کہ قومےںصرف محنت سے بنتی ہےں ،اس ضمن مےں کوئی مختصر راستہ نہےں ۔پاکستانی قوم کو آپ سے بہت امےد ےں وابستہ ہےں اور آپ نے ان امےدوں پر پورا اترنا ہے ۔آپ نے چےن مےں محنت،دےانت ،امانت ،اخلاق اوراپنے شعور کے جھنڈے گاڑنے ہےں ۔پنجاب حکومت مجموعی طورپر 500طلباءو طالبات کو چےنی زبان سےکھانے کےلئے چےن بھےج رہی ہے ۔انشاءاللہ وہ وقت بھی آئے گا جب ہم 5 ہزارطلبا و طالبات کو چےن بھجوائےں گے۔اےک سوال کے جواب مےں وزےراعلیٰ نے کہا کہ اس سے قبل کسی حکومت کو پانچ طلبا و طالبات کو بھی چےنی زبان سےکھانے چےن بھجوانے کی توفےق نہےں ہوئی بلکہ ماضی کے ادوار مےں وسائل پر بدترےن ڈاکہ زنی کی گئی۔ اگر ےہ ڈاکہ زنی نہ کی جاتی تو ےہ پروگرام کہےں پہلے شروع ہوجاتا۔انہوں نے کہا کہ چےنی زبان سےکھنے کے لئے چےن جانے والے طلباءو طالبات پر مجموعی طورپر 2ارب 28کروڑ روپے کی سرماےہ کاری کی جارہی ہے اورےہ وسائل پنجاب حکومت نے خود فراہم کےے ہےں جبکہ اےک بچے پر 45لاکھ روپے سرماےہ کاری ہورہی ہے ۔پاکستان جےسے غرےب ملک مےں چےرہ دستیوں کے باوجود ہم نے اپنے نوجوانوں کےلئے وسائل فراہم کےے ہےں اور آئندہ بھی انہےں بااختےار بنانے کےلئے وسائل فراہم کرےں گے۔ہم نے کسی سے قرض لےا ہے نہ امداد بلکہ تمام وسائل پنجاب حکومت نے فراہم کےے ہےں اور ےہ ہم اپنے مستقبل پر سرماےہ کاری کررہے ہےں ۔وسائل ہمےشہ موجود رہے ہےں تاہم وےژن اورعزم کی کمی رہی ہے ،اب وےژن بھی ہے اورعزم بھی اوروسائل بھی۔اےک اورسوال کے جواب مےں انہوںنے کہا کہ پاکستان کا نظام بدل رہا ہے ،خوشگوارتبدےلی آرہی ہے اور پاکستان آگے بڑھ رہا ہے ، جس کی گواہی اس ہال مےں بےٹھے مےرٹ پر منتخب ان بچوں کے دمکتے چہرے او رروشن اذہان دے رہے ہےں ۔ان نوجوانوں کے جذبے صادق ہےں اورمجھے ےقےن ہے کہ پاکستان آگے جائے گا ،عظےم ملک بنے گا،دکھ خوشےوں مےں ڈھل جائےں گے اورشومئی قسمت خوش قسمتی مےں بدل جائے گی۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ اس وفد مےںبچےاں نظر نہےں آرہی حالانکہ وہ ہمےشہ بچوں سے آگے ہوتی ہےں۔انہوںنے متعلقہ حکام کو کہا کہ آئندہ چےنی زبان سےکھنے چےن جانے والے بےچ مےں بچےوں کو بھی اسی طرح شامل کےا جائے جس طرح پہلے دو بےچوں مےں شامل کےاگےاہے ۔صوبائی وزےر ہائر اےجوکےشن سےد رضا علی گےلانی نے بھی تقرےب سے خطاب کےا۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور گورنر پنجاب رفیق رجوانہ کے درمیان ملاقات ہوئی،جس مےںباہمی دلچسپی کے امور، امن عامہ کی صورتحال اور پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لےگ(ن) کی حکومت نے گزشتہ چار برس کے دوران عوام کی بے لوث خدمت کی ہے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی اورخدمت خلق ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔موجود ہ حکومت دےہی اورشہری علاقوں کی ےکساں ترقی کی پالےسی پر عمل پےر اہے اورعوام کی فلاح و بہبود کیلئے صوبے میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں شفافیت، اعلیٰ معیار اور تیز رفتاری سے منصوبوں کی تکمیل کو فروغ دیا ہے۔جنوبی پنجاب کی ترقی اورخوشحالی دل و جان سے عزےز ہے اوراسی لئے جنوبی پنجاب کی ترقی وخوشحالی کےلئے اربوں روپے کے ترقےاتی پروگرام پر عملدر آمد کےا جارہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ منصوبوں پر کام کرنے کے حوالے سے محنت، امانت، دیانت اور جہد مسلسل کی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ ریکارڈ مدت میں مکمل ہونے جا رہا ہے۔ اتنی گنجائش کے منصوبے اتنے کم وقت میں چین میں بھی مکمل نہیں ہوئے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے 1320میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگی اوریہ منصوبہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ توانائی منصوبوں کی تکمیل سے ملک سے اندھیرے دور ہوں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان اپنی کھوئی ہوئی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان سمیت خطے کیلئے گیم چینجر ہے اور اس منصوبے نے معاشی و تجارتی ترقی کی نئی راہیں کھول دی ہیں جبکہ دیگر ممالک کی جانب سے سی پیک میں شمولیت میں دلچسپی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دوست سی پیک سے خوش ہیں جبکہ دشمن اس عظیم الشان سرمایہ کاری پیکیج سے پریشان ہے۔ تاریخ ساز سرمایہ کاری پیکیج سی پیک کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ترقیاتی منصوبے شفافیت، معیار اور رفتار کا شاہکار ہیں اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنا کر اربوں روپے کے قومی وسائل بچائے گئے ہیں، کوئی مخالف بھی ہمارے منصوبوں کی شفافیت پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لاک ڈاﺅن کے ذریعے پاکستان کی ترقی کے خلاف سازش کی گئی، تاہم باشعور عوام نے لاتعلق رہ کر اس سازش کو ناکام بنایا اورملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے خلاف سازشیں کرنے والے بعض سیاسی عناصرآج تنہا ہو چکے ہیں اور باشعور عوام منفی سیاست سے لاتعلق ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک دھرنوں یا احتجاج کے ذریعے نہیں بلکہ محنت، خدمت اور دیانت سے آگے بڑھتے ہیں اور پاکستان کے عوام صرف ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ کسی کو عوامی خدمت کے سفر میں رخنہ نہیں ڈالنے دیں گے اور عوام سے کئے گئے وعدے پورے کریں گے۔ وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت خدمت اور محنت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف پنجاب کی تعمیر و ترقی کے معمار ہیں اور صوبے میں شفافیت، میرٹ اور گڈگورننس کے فروغ کیلئے ان کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ پنجاب میں منصوبوں کی تیز رفتاری سے تکمیل کا چرچہ پوری دنیا میں ہے اور شہبازشریف کی غیرمعمولی انداز سے منصوبے مکمل کرنے کی رفتار ”پنجاب سپیڈ“ ضرب المثل بن چکی ہے۔صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی امن کی سفےرمقررہونے پر ملالہ یوسف زئی کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کا اقوام متحدہ کی سب سے کم عمر سفےر امن مقرر ہوناپاکستان کےلئے اےک اعزازہے۔انہوںنے کہا کہ ملالہ ےوسف زئی جےسی باصلاحےت اوربہادر بےٹےاں پاکستان کا قابل فخر اثاثہ ہےںاور ملالہ یوسف زئی امن، حوصلے اور ثابت قدمی کی مثال ہے اور اس نے دنےا بھر مےںپاکستان کا نام روشن کےا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے سابق انسپکٹرجنرل پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ دیا گیا -وزیراعلی نے محکمہ پولیس کے لئے شاندار خدمات پرمشتاق احمد سکھیراکو خراج تحسین کرتے ہوئے کہاکہ مشتاق احمد سکھیرا نے احترام کے ساتھ محکمہ پولیس میں پیشہ ورانہ اندازمیں فرائض سرانجام دئےے اورپولیس افسر کی حیثیت سے ان کا کیرئیر شاندار رہاہے۔مشکل حالات میں بھی سابق انسپکٹرجنرل پولیس پنجاب نے تحمل کے فرائض اداکئے-محکمہ پولیس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذرےعے بہتری لانے کا کریڈ ٹ بھی انہی کو جاتاہے -انہوں نے کہاکہ پولیس فورس کی تربیت کے حوالے سے مشتاق احمد سکھیرا کی کارکردگی قابل تحسین ہے اور انسداد دہشت گردی فورس تشکیل دینے میں بھی انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا-وہ پولیس میں میرٹ کو فروغ دینے کے لئے بھی سب سے آگے رہے-محکمہ پولیس کو جدید فورس بنانے کے لئے مشتاق سکھیرا کے دور میں بہت کام ہوا ہے تاہم عام آدمی کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے محکمہ پولیس میں ابھی بھی بہت کچھ کرنا ہے-انہوں نے کہا کہ مشتاق سکھیرا ایک بہادر پولیس افسر ہیں اور انہوںنے شاندارکیرئیر گزارا ہے۔