لندن (وجاہت علی خان) پاکستان جہاں ساری قوم ایک سیاسی بحران اور جھٹکوں میں مبتلا ہے اور مجموعی طور پر میڈیا بھی اس آگئے نواز شریف چلے گئے کی ایک لاحاصل ایکسرسائز میں ڈوبا ہوا ہے ایسے میں برطانیہ اور دیگر مغربی دنیا کا دردسر انسانوں کی فلاح و بہبود کے معاملات ہیں۔ جس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ سائنسی تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ موبائل فون کے وہ بڑے بڑے ٹاور جو آج پاکستان میں عام نظر آتے ہیں اور جو کبھی مغرب میں بھی عام تھے۔ انسانی صحت کےلئے خطرناک ترین ہیں کہ ان سے نکلنے والی ”الیکٹرومیگنیٹک ریڈیشن“ سے ہمیں اپنے اسلاف کے مقابلہ میں 100 ملین فیصد زیادہ خطرہ ہے یعنی ہماری صحت کو لاحق خطرات ہمارے بزرگوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ ٹیلی ویژن اور ریڈیو ٹاور بھی اسی قسم کے خطرات کے حامل ہیں۔ تجربات سے ثابت ہوا کہ جو بچے ان ٹاورز کے نزدیک رہتے ہیں ان میں Leukemia کا مرض تین فیصد زیادہ ہے نسبتاً ان بچوں کے جو ان ٹاورز سے سات میل دور رہتے ہیں۔ جرمن سٹڈی کے مطابق ان ٹاورز سے کیسز کی شرح 3 فیصد بڑھ جاتی ہے۔ سماعت کمزور، برین متاثر، خواتین میں حمل کا ساقط ہونا اور ہر انسان میں کیسز کی شرح خوفناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ چند سال پہلے برطانیہ اور یورپ کی حکومتوں نے ٹیلی فون کمپنیز کو حکم دیا کہ وہ فی الفور اپنے یہ ٹاورز ختم کریں صرف برطانیہ سے ہی 50 ہزار سے زیادہ یہ ٹاور ختم کئے گئے اور آج یورپ بھر میںٹیلی فونز کے یہ ٹاورز فقط ایک کھمبے کی صورت میں نظر آتے ہیں ان کا تمام میکنزم اس کھمبے کے اندر ہوتا ہے۔ یہ بات سامنے آئی کہ برطانیہ کی فضا آلودہ ہے صاف ہوا نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بیماریوں کی زد میں ہیں۔ چند ہی مہینوں میں ثابت ہو گیا کہ گاڑیوں کا دھواں اس آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ حکومت نے فوری فیصلہ کیا کہ آئندہ 20 سال کے اندر برطانیہ میں ڈیزل اور پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت مکمل بند ہو جائیگی۔ اس سکیم پر فوری عمل کےلئے گزشتہ ہفتے میئر آف لندن صادق خان کی پالیسی سامنے آئی ہے کہ آئندہ ہفتے سے ڈیزل اور پٹرول والی جو گاڑی سینٹرل لندن میں آئے گی وہ 10 پاﺅنڈ حکومت کو ادا کرے گی۔ یہ گاڑیاں زہریلی گیس پھیلاتی ہیں اس لئے والوو کی طرح بہت سے دیگر کمپنز نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2019ءسے صرف الیکٹرانک یا ہائی برڈ گاڑیاں ہی بنائیں گی۔ گو کہ حکومت کی اس سکیم سے ڈرائیوروں کو ماہانہ 34 ہزار اضافی چارجز دینا پڑیں گے جو سنٹرل لندن میں داخل ہونگے لیکن انسانھی صحت پر حکومت کسی قسم کی رعایت نہیں دینا چاہتی۔ اعداد و شمار کے مطابق پٹرول و ڈیزل کے دھویں ہی کی وجہ سے صرف برطانیہ میں 40 قبل از وقت اموات ہوتی ہیں اور اسی آلودہ فضا میں سانس لینے کی وجہ سے حکومت کو کھربوں پاﺅنڈ نیشنل ہیلتھ کے ضمن میں خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اسی طرح جونہی یہ بات سامنے آئی کہ سگریٹ بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے۔ حکومت نے شروعات میں مختلف پالیسیاں متعارف کروائیں پہلے سگریٹ کے پیکٹس پر لکھا جانے لگا کہ ”سگریٹ پینا صحت کےلئے مضر ہے“ آہستہ آہستہ مزید پابندیاں لگتی گئیں۔ 2012ءمیں برطانوی حکومت نے ایک قانون متعارف کروایا کہ یوکے بھر میں سٹورز اور دکاندار سگریٹ ڈسپلے نہیں کر سکیں گے بلکہ سگریٹ چھپا کر رکھیں گے۔ سگریٹ خریدنے والا اگر 18سال سے کم عمر کا ہو تو اسے نہیں بیچا جائیگا۔ سگریٹ کے اشتہارات ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارات سے بالکل ختم کر دئیے گئے۔ سموکنگ سے عوام کو روکنے کےلئے ای سگریٹ، مخصوص قسم کی چیونگم اور گولیاں متعارف کروائی گئیں۔ مختلف ہیلپ سکیمیں شروع کی گئیں۔ گزشتہ سال حکومت نے حکم دیا تمام برانڈ کے سگریٹ ایک ہی طرح کے پیکٹس میں بنائے جائیں اور ان پر پھیپھڑوں وغیرہ کی خوفناک اشکال بنائی جائیں تاکہ لوگوں کو اس سے نفرت ہو اور انہیں علم ہو کہ اس صحت کو کیا کیا نقصانات ہوتے ہیں۔2017ءکے شروع میں ایک اور حکم آیا کہ 10 سگریٹ والا پیکٹ ختم کر دیا جائے چنانچہ آج یہ چھوٹا پیکٹ کسی دکاندار سے نہیں ملتا۔ صرف 20 سگریٹ والا پیکٹ دستیاب ہے حکومت کا کہنا ہے کہ اسے 25 اور پھر 40 سگریٹ والا پیکٹ تک بڑھا دیا جائیگا اس ساری تگ و دو کا مقصد یہ ہے کہ ایک تو نوعمر بچے سگریٹ سے دور رہیں دوسرا سگریٹ اس قدر مہنگا ہو کہ لوگ آہستہ آہستہ اسے چھوڑ دیں۔ایک تحقیق کے مطابق یو کے میں 80 اموات ہر سال سگریٹ پینے کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں۔ آج برطانیہ بھر کے شراب خانوں اور کلبوں تک میں سگریٹ پینے یا بیچنے پر پابندی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروسز کو سموکنگ کی وجہ سے سالانہ 3کھرب پاﺅنڈ کا نقصان ہوتا ہے۔ برطانیہ کے علاوہ یورپ بھر میں اس قسم کے قوانین کا نفاذ کیا جا رہا ہے، یورپی اعداد و شمار کے مطابق پورے یورپ میں سالانہ 7لاکھ قبل از وقت اموات سگریٹ پینے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ مغریب حکومتیں ہمہ وقت صحت عامہ کے مسائل، تعلیمی معاملات، لوگوں کی جوانی، پنشن، کے معاملات کو بہتر سے بہتر کرنے، ٹریفک کے بڑھتے ہوئے اژدھام کو ختم کرنے وغیرہ کے معاملات میں الجھی رہتی ہے۔ میڈیا میں 80فیصد خبریں اور بحث اسی قسم کے مسائل پر ہوتی ہے۔ سیاست کو دس فیصد سے بھی کم وقت ملتا ہے جبکہ پاکستان میں اس کا الٹ ہے یہاں 95 فیصد صرف اور صرف سیاست ہوتی ہے صحافت کے بھی تمام تمن خان اور سارے بقراط ہر شام اپنی اپنی دکانیں سجائے ایک ہی سٹیریو ٹائپ گفتگو کرتے نظر آتے ہیں چنانچہ گزارش ہے کہ ایک نظر ادھر بھی!
پاکستان میں ساری توجہ سیاست پر صحت کے خوفناک مسائل نظر انداز

