کراچی (وقائع نگار خصوصی) ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ ن کے وفد کی ملاقات ہوئی جس میں سیاسی صورت حال، بلدیاتی انتخابات والے سے تبادلہ خیال کیا گیا.تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی سے مسلم لیگ ن کے وفد نے ایم کیو ایم پاکستان کے بہادرآباد مرکز میں ملاقات کی۔شاہد خاقان عباسی نے خالد مقبول صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خالد بھائی بڑے دنوں بعد ملاقات ہوئی ہے جس پر خالد مقبول کا کہنا تھا کہ جی آپ جیل میں تھے جب آپ باہر آئے تو ہم کابینہ سے باہر آگئے۔شاہد خاقان عباسی کاکہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا پارلیمان میں سچ کا ساتھ دینے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ آپ شہری سندھ کی نمائندہ جماعت ہیں عوام کے مسائل کو جانتے ہیں، چاہتے ہیں عوام کے حقوق کی جدوجہد مل کر کریں۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مسائل بہت ہیں لیکن کسی غیرجمہوری عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، عوام کا مقدمہ پارلیمان میں لڑ رہے ہیں، مسائل حل نہ ہونے پر ہی حکومت سے باہر آئے ہیں۔مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ موجودہ گورننس اور ماضی کے ماڈلز پاکستان کے مسائل حل نہیں کرسکے، طے کرنا ہوگا کہ رولز آف گورننس کیا ہیں؟شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ن لیگ کا ایک ہی بیانیہ ہے کہ ملک آئین و قانون کے مطابق چلنا چاہیے اور پاکستان ایک حقیقی جمہوریت میں ہی فروغ پاسکتا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہباز شریف کی ہدایت پر کراچی آئے ہیں، 32سال سے ہم جمہوریت کے لیے کوشش کررہے ہیں،ایم کیو ایم سے اچھے ماحول میں معاملات پر گفتگو ہوئی، ہم اقتدار اور ایک الیکشن کی بات نہیں کرتے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر بیٹھیں اور طے کریں کس طرح مسائل حل کرسکتے ہیں، سیاسی طور پر میں چاہوں گا کہ عمران خان کی حکومت پانچ سال پورے کرے۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت کا ایک ایک لمحہ پاکستان کے عوام پر بھاری ہے، سیاست میں شکوے شکایت ہوتی ہے، جمہوریت جاری رہے تو مسائل حل ہوں گے۔شاہد خاقان نے کہا کہ جتنا ہم نے صوبوں کو مالی وانتظامی طورپر اختیار دیا کسی نے نہیں دیا، ہم مسائل حل کرنے کی بات کررہے ہیں، مسلم لیگ ن کا بیانیہ ایک ہی ہے، ہم چاہتے ہیں تمام صوبوں میں ایک جیسا مقامی حکومت کا نظام ہو، ہم کسی مائنس ون مائنس ٹو پر یقین نہیں رکھتے، 2013میں کراچی کے جو حالات تھے سب جانتے ہیں۔اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آئین مقدم ضرور ہے لیکن قابل عمل بھی ہونا چاہیے، آئین میں عوام کو بااختیار بنایا گیا ہے، اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت حکومتی جماعت کے پاس آئی ہے، ہم سب چاہتے ہیں کہ پاکستان کے خواب کی تعبیر ہو، جمہوریت منزل تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے، ہم جمہوریت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
لیگی وفد حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کے پاس پہنچ گیا،ن لیگ کی مل کر چلنے کی پیشکش،متحدہ کا انکار

