Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • صرف پانچ ماہ میں 2 لاکھ 78 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے بیرونِ ملک ملازمتوں کے لیے رجسٹریشن کرائی
    • عباس عراقچی: ایران کی ناکہ بندی ختم اور کچھ منجمد اثاثے بھی جاری کر دیے گئے
    • پی آئی اے ماہ کے اختتام تک نئے مالکان کے حوالے کیے جانے کا امکان
    • مزراوی: ورلڈ کپ کے بعد قرآن حفظ کر کے امام بننا چاہتا ہوں
    • ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ایرانی ٹیم نے مذاکراتی مقام چھوڑ دیا
    • برطانوی وزیراعظم امیگریشن اور توانائی پالیسیوں میں ناکام، مستعفی ہو جائیں گے: ٹرمپ
    • ڈیموکریٹس کی اکثریت پر ٹرمپ کو اقدار کی جنگ کی وارننگ
    • سوئٹزرلینڈ میں امریکہ ایران مذاکرات شروع، لبنان بحران سرفہرست
    • شاہی مالیاتی رازداری کا خاتمہ، کنگ چارلس نے ذاتی ٹیکس گوشوارے جاری کر دیے
    • برطانوی صحافی اور ٹی وی میزبان جیریمی کلارکسن کینسر سے صحت یاب
    • جنگ بندی مذاکرات سے قبل لبنان میں اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد شہید
    • بریکنگ بیڈ‘ کے اداکار جیانکارلو ایسپوزیٹو نے سعودی عرب میں اسلام قبول کر لیا
    • آج 21 جون، سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات ہوگی
    • برطانوی وزیراعظم اسٹارمر کے پیر کو مستعفی ہونے کا امکان
    • ڈیجیڈ اسپینس انگلینڈ کی تاریخ کے پہلے مسلمان ورلڈ کپ کھلاڑی بن گئے
    • امریکا کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ روانہ
    • موٹروے پولیس نے تمام گاڑیوں کے لیے پرانی رفتار کی حد بحال کر دی
    • بھارتی اداکارہ سرگن مہتا نے پاکستانی ڈراموں کی تعریف کی اور اپنے پسندیدہ اداکاروں کی فہرست شیئر کی
    • برطانیہ نے پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل کا ویزا مسترد کر دیا۔
    • غیر قانونی سم اجرا پر پی ٹی اے نے زونگ اور ٹیلی نار پر 11.6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    وہ جا رہا ہے جیسے شب غم گزارکے

    By Daily Khabrainجولائی 8, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    عارف بہار
    امریکی فوج نے بیس سال بعد افغانستان میں اپنا سب سے بڑا فوجی اڈہ بگرام ائر بیس خالی کر کے افغان فورسز کے حوالے کردیا۔بگرام ایک فوجی اڈہ ہی نہیں ہزاروں افراد کے قیام گاہ اور ان تمام جدید سہولیات سے مزّین ایک شہر تھا جو امریکی شہریوں کو اپنے ملک میں حاصل ہوتی ہیں۔جدید سامان کے جیم،مارکیٹس،کھیلوں کے میدان،جہازوں کے اترنے اور اُڑان بھرنے کے رن ویز،عبادت خانے غر ضکہ دنیا کی ہر سہولت اس شہر کے مکینوں کو حاصل تھی۔بگرام ائر بیس وہی فوجی مرکز ہے جہاں عافیہ صدیقی کو قید رکھنے کے بعد امریکہ منتقل کیا گیا تھا۔اسی مرکز میں خطے کی تشکیل جدید کے منصوبے بنائے جاتے اور پھر ان پر عمل درآمد کے لئے نان سٹیٹ ایکٹرز کو ہدف دئیے جاتے تھے۔سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان گھرے ہوئے اس نوآباد شہر کے درودیوار دوسری بار ایک بڑی فوج کی آمد ورفت کے گواہ بھی ہیں اور اس کا احوال بھی سنارہے ہیں۔بگرام سے امریکہ کی رخصتی کی اہمیت کیا ہے اس کو ہم شکست کہیں گے یا شکست کی علامت تو بہت سے لبرل دوست ناراض ہوجائیں گے مگراس حقیقت کو جاننے کے لئے امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی کیتھی گینن کی ایک رپورٹ سے مدد لی جا سکتی ہے۔کیتھی کینن لکھتی ہیں باڑھ کے پیچھے اور جنگی دیواروں سے پرے یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے۔جس کی تعمیر کا آغاز سوویت یونین نے پچاس کی دہائی میں کیا تھا۔بعد میں سوویت فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو دس سال یہ ان کا مسکن رہا۔1989میں سوویت فوجیں بگرام خالی کر گئیں تو اس کا کنڑول نجیب حکومت نے سنبھالا تو تین سال بعد سقوط کابل ہوا اور بگرام طالبان کے کنٹرول میں آیا۔کیتھی لکھتی ہیں کہ بگرام سے امریکی فوج کا انخلاء طالبان کی”سٹریٹجک فتح“ہے۔سٹریٹجک وکٹری اور عام فتح میں کیا فرق ہے؟ یہ تو وہی بتا سکتے ہیں جن کا موقف ہے کہ امریکہ کو شکست نہیں ہوئی۔کیتھی گینن کے مطابق بیس سال سے اس شہر میں ایک لاکھ افراد مقیم تھے۔یہاں ایک بڑی جیل ہے جس میں اس وقت بھی سات ہزارقیدی موجودہیں۔کیتھی کے مطابق اس جیل سے وابستہ ٹارچر کی کہانیوں کی وجہ سے افغان والدین اپنے بچوں کو اس جیل کا نام لے کر ڈرایا کرتے تھے۔ افغانستان میں طالبان منظر پر اتنی ہی تیزی سے غالب ہو رہے ہیں جتنی سرعت سے وہ بیس سال قبل منظر سے غائب ہو گئے تھے۔ اس وقت طالبان کا اچانک گم ہوجانا بھی ایک معمہ تھا آج ان کا منظر پر غلبہ آجانا دونوں ایک معمہ ہے۔امریکی فوجی جو مال ومتاع افغان فوج کے حوالے کرکے رخصت ہورہے ہیں وہ طالبان کے ہاتھ لگ رہا ہے۔گاڑیاں،ٹینک اور ہیلی کاپٹر سب کچھ طالبان کے تصرف میں آرہا ہے۔
    جلد یا بدیر بگرام ائر بیس پر کنٹرول کے لئے بھی ایک معرکے کی پیشن گوئی کی جارہی ہے۔افغانستان سے امریکی انخلا ہو رہا ہے اوریہ انخلا بھی سوویت انخلا کی طرح ادھورا ہے کیونکہ اس وقت بھی کابل میں ایک ڈولتی ہوئے نجیب حکومت تھی اور چاروں طرف مجاہدین کے جتھوں اور سیلاب بلاخیز کے چرچے تھے۔ آج جب امریکہ انخلا کر رہا ہے تو کابل میں اشرف غنی کی حکومت طالبان کے سیلاب میں ایک جزیرے کی مانند ہو کر رہ گئی ہے۔یہ جزیرہ بھی پانی کی لہروں میں نمک کی طرح تحلیل ہو رہا ہے۔افغانوں کا قومی کنفیوژن آج بھی اسی طرح جوبن پر ہے۔
    سوویت یونین کو مسیحا اور مجاہدین کو دشمن اور اجڈ سمجھنے والے افغانوں کے خیال میں آج مسیحا امریکہ جارہا ہے اور طالبان کی صورت دشمن ان پر حاوی ہورہا ہے۔اس منظر کو بدلنے کے لئے اشرف غنی نے واشنگٹن کا دورہ کیا مگر جو بائیڈن نے انہیں خالی ہاتھ لوٹا دیا کیونکہ امریکہ اب افغانستان میں زمینی موجودگی سے توبہ تائب ہو چکا ہے۔وہ صرف فضاؤں سے بم گرا کر اپنا شوق جاری رکھنا چاہتا ہے مگر اس کے لئے فضائیں میسر نہیں آرہیں۔بگرام سے امریکہ کی رخصتی کا طالبان نے بھی خیرمقدم کیا ہے اور اس انخلا کو امریکہ کی شکست کے انداز میں دیکھا اور سمجھا جا رہا ہے۔امریکہ اس لفظ سے بچنے کے لئے حیلوں بہانوں کی تلاش میں رہا اور اب بھی اس اصطلاح کا سامنا کرنے کو تیار نہیں مگر امریکہ کچھ مقاصد کے لئے افغانستان آیا تھا۔پہلا مقصد تو امریکہ کو محفوظ بنانا تھا تاکہ دوبارہ کوئی گروہ افغانستان کی چھتری تلے نائن الیون جیسے حملے کی منصوبہ بندی نہ کر سکے اور دوسرا مقصد افغانستان کو جمہوری،لبرل اور مستحکم ملک بنانا تھا جہاں دوبارہ مجاہدین یا طالبان جیسے کسی گروپ کو طاقت حاصل نہ ہو سکے۔بیس سال امریکہ نے افغانستان کو طالبان فری بنانے میں صرف کئے۔
    افغان حکومت پر وسائل کی بارش کرکے اسے مستحکم ہونے کا موقع فراہم کیا۔بیرونی دنیا میں آباد اپنے پسندیدہ ٹینکو کریٹس کو حکومت کی معاونت پر بٹھا کر ایک مضبوط سول سٹرکچر تشکیل دینے کے کام پر لگایا مگر اس سے ایک حکمران اشرافیہ وجود میں آئی جس نے مغربی وسائل کو ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔امریکہ اور برطانیہ کے قانون پسند اور دیانت دار ٹینکو کریٹ افغانستان پہنچتے ہی بدعنوانی میں لتھڑ کر رہ گئے۔جس فوج کو بیس سال امریکی میرین اور نیٹو کے بہادر انسٹرکٹر تربیت دیتے رہے اس کا حال یہ ہے کہ طالبان کو دور سے آتا دیکھ کر چوکیاں ان کے احترام میں خالی کررہی ہے اور ٹینکوں توپوں سے گولے داغنے کی بجائے ان کے حوالے کئے جا رہے ہیں۔پندرہ سو فوجی تاجکستان کی بے نام منزلوں کی جانب نکل گئے ہیں اور افغان حکومت انہیں واپس بلارہی ہے مگر وہ آنے سے انکار ی ہیں۔بیس سال بعد افغانستان نہ جمہوری بنا نہ محفوظ اور لبرل۔اس ملک کی حالت پہلے سے زیادہ بگاڑ کا شکار ہے اور خانہ جنگی کا ایک عفریت سامنے کھڑا ہے۔
    (کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      امریکا کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ روانہ

      کربلا میں حضرت عباسؓ کے روضے پر مجالس و عزاداری کے لیے بڑی تعداد میں زائرین جمع

      ایران نے لبنان پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا

      اٹلی کبھی منت نہیں کرتا,ٹرمپ کے جی 7 فوٹو دعوے پر اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی برہم

      لبنان پر اسرائیلی حملوں کا ذمہ دار امریکا ہے: ایران

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.