امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف جانے یا وہاں سے آنے والے جہازوں کی نگرانی کرے گی، جبکہ دیگر ممالک کے ان جہازوں کی آمدورفت جاری رکھنے کی اجازت ہوگی جو اس ناکہ بندی کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔
دوسری جانب ایران نے اس اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی برقرار رہی تو مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں پر مزید اقدامات کا عندیہ بھی دیا ہے، جس سے عالمی تیل کی ترسیل اور توانائی کی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

