تحسین بخاری
میری ماں گاؤں میں بڑے بھائی کے پاس ہے،میرا گاؤں رحیم یار خان سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے،دریائے سندھ میرے گاؤں حویلی غوث شاہ سے نصف کلو میٹر پر ہے،صبح عید تھی،دل بوجھل سا تھا، سوچا ماں سے جا کر مل آؤں،لہٰذا میں رات کے دس بجے جیسے ہی ایک اکٹھ سے فارغ ہوا توفورا رحیم یار خان سے روانہ ہو گیا،میں گیارہ بجے گاؤں پہنچا۔سب فیملی ماں کے گرد جمع ہو کر بیٹھ گئی،دو گھنٹے تک خوب گپ شپ چلتی رہی اور پھر بارہ بجے وہاں سے اجازت لیکرمیں واپسی کیلیے روانہ ہو گیا،ایک بجے کے قریب میں اقبال آباد پہنچا اور جیسے ہی میں نے انٹری گیٹ کراس کیا تو رحیم یار خان روڈ پر کھڑے پولیس کے جوانوں کو دیکھ کر میں نے گاڑی کو بریک لگائی اور سائیڈ پر کھڑی کردی،صبح عید تھی مگر رات کے ایک بجے پنجاب پولیس کے یہ جوان اپنا گھر بار،اپنا پریوار،معصوم بچوں کو چھوڑ کرسڑکوں پر ڈیوٹی کر رہے تھے ڈیوٹی پر موجود تقریباً تمام ملازمین مجھے ذاتی طور پر جانتے تھے میں جا کر ان جوانوں سے گلے ملا،ڈیوٹی پر موجود آفیسر سے رسمی خیر خیریت پوچھ کر میں نے سوال کیا کہ صبح عید ہے اور آپ اس وقت یہاں ڈیوٹی پر موجود ہیں آپ کیا محسوس کر رہے ہیں،میرا سوال پوچھنا تھا کہ اس پولیس مین کی آنکھوں میں ایک دم آنسو امڈ آئے جیسے وہ کب سے اس انتظار میں تھا کہ کوئی اس کا دکھ بانٹنے والا اسے ملے اور وہ دل کھول کر اپنا بوجھ ہلکا کرے، اس کی آواز بھرا گئی،اس نے ہاتھ میں پکڑا رومال اپنے آنسو جذب کرنے کے لئے اپنی آنکھوں پر رکھا،میں نے اسے اپنے گلے سے لگایا،اس نے تھوڑے فاصلے پر پڑی بنچ کیطرف اشارا کرتے ہو ئے کہا کہ آئیں ذرا دو منٹ وہاں بیٹھتے ہیں۔میں نے محسوس کیا کہ اس نوجوان کو ایک عرصے بعد کسی سویلین سے ہمدر دی مل رہی تھی۔اس لیے وہ بھی دل کھول کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا تھا،ہم بنچ پر بیٹھ گئے،اس نوجوان نے اپنے ماتحت نوجوان کو بلایا اور چائے لانے کا کہا سامنے والا ہوٹل کھلا تھا مگر میں نے چائے پینے کی حامی اس شرط پر بھری کہ یہ چائے ڈیوٹی پر موجودتمام ملازمین کیلیے میری طرف سے ہو گی،نوجوان نے ٹھنڈی آہ بھری،دکھ اور شکوے کی آمیزش کے ساتھ مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا سر جی ہم آپ لوگوں کی چائے کے حقدار کہاں ہیں ہم تو تنقید کے حقدار ہیں،ہم تو گالیاں سننے کے لئے ہیں،ہمارا سینہ یا تو دشمن کی گولی کھانے کے لئے ہے یا اپنوں کی تنقید کے پتھر سہنے کے لئے ہے۔ہم لاکھ اچھا کر لیں مگر ہم پولیس والے پبلک کی نظر میں برے ہی ہیں،ایک سویلین سے محبت اور ہمدردی کا اظہار دیکھ کر عجیب سا فیل ہو رہا ہے،جیسے یہ کوئی خواب ہو۔
نوجوان کا فون مسلسل بج رہا تھا م،وہ سکرین پر دیکھتا اور کال کاٹ رہا تھا۔میں نے پوچھا کس کا فون ہے اور آپ بار بار نظرانداز کیوں کر رہے ہیں؟
اس نے ایک لمبی سرد آہ بھری اپنی کیپ اتار کر اپنی گود میں رکھی اور سرد آہ بھرکر بولا یہ میری چھوٹی بیٹی عروسہ کا فون ہے، میں پیار سے اسے بلبل کہتا ہوں،یہ بالکل چھوٹی سی ہے،ابھی بولنا سیکھ رہی ہے اور تین دن سے مجھے فون کر کے یہی پوچھتی ہے
بابا!دھل تب آؤ دے (بابا گھر کب آؤ گے)
نوجوان نے کہا تیسرا روز ہے روزانہ گھر سے فون آ تا ہے مگر میں انھیں جھوٹی تسلی دے دیتا ہوں کہ بس آج شام کو آجاؤں گا۔
ذرا تصو ر کیجیے کہ عید کی خوشیوں بھرا تہوار ہو،آپ گزشتہ کئی ماہ سے گھر سے دور ڈیوٹی پر موجود ہوں،آپ کی ماں عید کے روز آپ کو سینے سے لگانے کے لئے بیقرار ہو،،چھوٹی بہن کو اسکی سہیلیاں اپنا اپنا عید کا سوٹ دکھا دکھا کر اس کا منہ چڑا رہی ہوں اور وہ بڑے مان سے انہیں کہ رہی ہو کہ بھیا کل تک آ جائے گا اور پھر دیکھنا میرے لیے ایسا سوٹ لائے گا کہ تمھارے سوٹ کی ایسی کی تیسی پھیر دے گا،آپ کی بیوی آپ کی آمد کے انتظار میں گھرکی صفائی کر کے ہر چیز سلیقے سے سجا نے میں لگی ہو کہ سرتاج آنے والا ہے،آپکی چھوٹی بیٹی آپ کو بار بار فون کر کے اپنی توتلی زبان میں جلدی آنے پر مجبو رکررہی ہو اور آپ کے لئے اسے اگنور کرنا مشکل ہو،ذرا تصور کیجیے آپ بھی اپنی آنکھوں میں عید اپنی فیملی میں منانے کے سپنے سجائے تیاری میں مصروف ہو۔عید کو محض ایک دن باقی رہ گیا ہو،آپ سامان پیک کر رہے ہوں اور آپ کو اچانک احکامات ملیں کہ آپ کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں ہیں لہٰذا آپ گھر نہیں جا سکتے تو زراد دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ آپ کے دل پر کیا گزرے گی،اور آپ کا عید کا روز کس حالت میں گزرے گا۔اس کا تصور بھی تکلیف دہ ہے۔مگر ہماری پولیس کے ساتھ ایسا ہر عید پر ہوتا ہے،وہ ہمارے تحفظ کے لئے ہر عیدپر اپنی فیملی سے دور ہوتے ہیں۔
پولیس ہمیشہ تنقید کی زد میں رہتی ہے،ہم تنقید کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے مگر کبھی ہم نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے،عید کی رات اپنوں سے دوری کا دکھ سینے میں لیے ہماری حفاظت کے لئے روڈ پرکھڑے ان جوانوں کے سینے کے اندر ہم نے کبھی جھانکنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔
قارئین محترم ہم زندگی کے ہر پہلو میں ہمیشہ دوسروں پر الزام دیتے ہیں مگر کبھی اپنے اوپر چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا، جو لوگ ہم سے فاصلے پر چلے جاتے ہیں۔ ہم نے کبھی اس کی وجہ جاننے کی کوشش ہی کی کہ کہیں ان فاصلوں کی وجہ ہمار ارویہ تو نہیں،کسی کے ساتھ اختیار کیا گیا اچھا یا برا رویہ اس کی راہ کا تعین کرتا ہے۔پولیس کے ساتھ بھی اجتماعی طور پرہمارا رویہ یہی ہے کہ بس پولیس بری ہے۔مگر میرا خیال ہے کہ اگر ہم چاہیں تو پولیس میں پائی جانیوالی خامیاں دور ہو سکتی ہیں اور اس کے لئے ہمیں پولیس سے متعلق اپنا یہ رویہ تبدیل کر نا ہوگا ا،اس کیلیے ہمیں باقاعدہ طور پر مہم شروع کرنی پڑے گی، ہم روزانہ اپنی جیب میں یا اپنی گاڑی میں دو چار پھول رکھ لیں اور راستے میں روڈ پر کھڑا جہاں بھی کوئی پولیس کا جوان ملیں ہم اپنی گاڑی روک کر اسے جا کر سلام کریں اور اسے اچھی مسکراہٹ کے ساتھ یہ ایک پھول پیش کردیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ پولیس ہمارے اس رویے سے متاثر ہو کراپنے اندر کی خامیاں دور کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔آئیے آج سے پولیس کو پھول پیش کر کے ان کے اندر کی خامیاں دور کرنے کی مہم شروع کرتے ہیں۔
(کالم نگارسیاسی و سماجی ایشوز پرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

