امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے اور آبنائے ہرمز سے ٹول فری شپنگ کا آغاز کیا جائے گا۔
اس معاہدے کی بعد میں ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اتوار کے روز تصدیق بھی کی، جس کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان فوری طور پر دشمنی کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اتوار کو 80 سال کے ہونے والے ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے بغیر ٹول شپنگ کی اجازت ہوگی، جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد زیادہ تر بند رہی تھی۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: “اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔”
“سب کو مبارک ہو! میں نے آبنائے ہرمز کو ٹول فری کھولنے کی مکمل اجازت دے دی ہے اور ساتھ ہی امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ دنیا کے جہازو، اپنے انجن اسٹارٹ کرو۔ تیل بہنے دو!”
انہوں نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ “یہ عظیم معاہدہ پورے خطے میں امن اور سلامتی لائے گا” اور اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ ایک مزید جامع امن معاہدہ بھی جلد سامنے آئے گا۔
“کئی صدور نے ایران کے ساتھ امن کی کوشش کی لیکن سب ناکام رہے۔ خطے کے رہنماؤں نے پہلی بار ایک ایسے صدر کو پایا ہے جو حقیقی امن قائم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ جمعے کو معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، جس کے ساتھ بارودی سرنگوں کی صفائی بھی ہوگی، اور تیل دوبارہ دنیا اور خطے میں بہنے لگے گا۔”
انہوں نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں ایران کو خبردار بھی کیا کہ امریکا دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے یا 20 فیصد ریونیو کے بدلے مشرق وسطیٰ کا “نگہبان” بن سکتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یہ انٹرویو معاہدے کے اعلان کے بعد ہوا یا پہلے۔
ٹرمپ کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ایکس (X) پر معاہدے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس کا مقصد لبنان سمیت تمام محاذوں پر لڑائی کا خاتمہ ہے۔

