مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ہفتہ (20 جون 2026) کو ایرانی حکام سے اہم ترین بات چیت کے لیے تہران روانہ ہو گئے ہیں۔
1. دورے کا بنیادی مقصد
وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمت کی یادداشت (Islamabad MoU) کے تسلسل میں ہو رہا ہے۔
مذاکرات کی بحالی: امریکہ اور ایران کے مابین جمعہ (19 جون) کو سوئٹزرلینڈ میں براہِ راست مذاکرات ہونا طے تھے، لیکن لبنان پر مسلسل اسرائیلی حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجاً تہران نے ان مذاکرات کو عارضی طور پر ملتوی کر دیا۔ محسن نقوی کا دورہ اسی تعطل کو دور کرنے اور سوئٹزرلینڈ مذاکرات کو دوبارہ شروع کروانے کے لیے ہے۔
اہم موضوعات: اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، جوہری معاملے پر پیشرفت اور دونوں فریقین کی جانب سے وعدوں پر عمل درآمد کی یقین دہانی (Verification Mechanism) جیسے اہم تکنیکی امور پر بات چیت ہوگی۔
2. ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، محسن نقوی تہران پہنچ کر اہم ترین ایرانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے جن میں شامل ہیں:
ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی
3. پاکستان کا ثالثی کردار
پاکستان اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی اور ثالثی میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی (جو آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے انتہائی قریبی سمجھے جاتے ہیں) گزشتہ چند ہفتوں میں متعدد بار تہران کے ہنگامی دورے کر چکے ہیں۔
اس سے قبل انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقاتیں کی تھیں، جہاں پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

