امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر جنگ کو روکنے کے لیے ہونے والے حالیہ عبوری معاہدے اور گزشتہ روز (جمعہ، 19 جون 2026) کو لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئی جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود، زمین پر صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
1. جنگ بندی کے باوجود تازہ ترین اسرائیلی حملے
ہلاکتیں: ہفتہ (20 جون 2026) کی صبح جنوبی لبنان پر تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 5 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی (NNA) کے مطابق یہ حملے ‘عرب سلیم’، ‘دیر زہرانی’ اور ‘دویر’ کے علاقوں میں کیے گئے، جہاں ایک اسرائیلی ڈرون نے موٹر سائیکل کو بھی نشانہ بنایا۔
جمعہ کی شدید بمباری: جنگ بندی نافذ ہونے سے چند گھنٹے قبل اور بعد میں اسرائیل نے لبنان کے جنوبی اور مشرقی حصوں پر بدترین بمباری کی، جس کے نتیجے میں 47 افراد ہلاک اور 97 زخمی ہوئے۔
2. حملوں کی وجہ اور فریقین کا موقف
اسرائیلی فوج کا موقف: اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حزب اللہ کی جانب سے اس کے فوجیوں پر کیے گئے مہلک حملوں کا جواب تھے، جس میں اسرائیل کے 4 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دھمکی دی تھی کہ وہ اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی حزب اللہ سے بھاری قیمت वसूल کریں گے۔
اسرائیلی فوج کی موجودگی: اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود ان کی فوجیں فی الحال جنوبی لبنان میں موجود رہیں گی اور اگر حزب اللہ نے کارروائی کی تو وہ جواب دیں گے۔ دوسری طرف حزب اللہ کے ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیلی فوج لبنانی سرزمیں پر موجود ہے، جنگ بندی کے کوئی معنی نہیں ہیں۔
3. اقوامِ متحدہ (UNIFIL) کی تشویشناک رپورٹ
لبنان میں تعینات اقوامِ متحدہ کی امن فورس (UNIFIL) نے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کی خبروں کے باوجود جمعہ کے روز سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا:
اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان کی فضائی حدود کی 49 سے زائد مرتبہ خلاف ورزی کی گئی۔
صرف ایک دن میں 748 سے زائد میزائل اور گولے داغے گئے، جن میں سے 695 اسرائیلی فوج جبکہ 53 حزب اللہ یا دیگر غیر ریاستی عناصر کی جانب سے فائر کیے گئے۔
موجودہ صورتحال: واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے کے تحت طے پانے والی اس جنگ بندی کو شدید دھچکا لگا ہے، اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اگلے مرحلے کے سفارتی مذاکرات بھی اسرائیلی حملوں کی وجہ سے فی الحال تاخیر کا شکار ہو گئے ہیں۔ لاکھوں بے گھر لبنانی شہری جو جنگ بندی کی خبر سن کر گھروں کو لوٹ رہے تھے، اب دوبارہ پناہ گاہوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔

