All posts by Daily Khabrain

علیمہ خان ایف بی آر کو جرمانے کی باقی رقم ادا نہ کر سکیں

لاہور(صباح نیوز) وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان وقت گزرنے کے بعد بھی ایف بی آر کو جرمانے کی باقی رقم ادا نہ کر سکیں۔ علیمہ خان نے دبئی فلیٹ کیس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو 25 فیصد جرمانہ عائد کیا تھا تاہم باقی جرمانہ ادا کرنے کے لیے 21 جنوری تک کی مہلت طلب کر رکھی تھی۔ علیمہ خان نے 13 جنوری کو جرمانہ کی پہلی قسط 73 لاکھ روپے کی ادائیگی کر دی تھی تاہم علیمہ خان بقیہ رقم کی ادائیگی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد بھی ادا نہیں کی ۔ایف بی آر کی جانب سے علیمہ خان پر دو کروڑ 94 لاکھ روپے ٹیکس اور جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ بقیہ رقم ادا نہ کرنے پر ایف بی آر کی جانب سے علیمہ خان کو نوٹس جاری کیا جائے گا،علیمہ خان نے جرمانے کی رقم ادا نہ کی تو ایف بی آر علیمہ خان کے اکاﺅنٹ سیز کر سکتا ہے۔ علیمہ خان کو دبئی فلیٹ چھپانے اور کرائے کی آمدن پر ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔

آرٹ فلمیں پسند،آئٹم سونگ کی تعریف سمجھ نہیں آتی:صبا قمر

کراچی (شوبزڈیسک)ماڈل و اداکارہ صبا قمر نے کہا ہے کہ بھارتی فلم ہندی میڈیم میں کام کرکے احساس ہوا تھا کہ پروفیشنل ازم کیا ہوتا ہے جس کا صلہ فلم فیئر ایوارڈ میں سری دیوی و دیگر فنکاروں کے مدمقابل نامزدگی کی صورت میں ملا۔آئٹم سونگ کی تعریف سمجھ نہیں آتی۔اگر مطلب بھرتی کے گانے سے ہے تو ایسا بالکل نہیں،سین کے مطابق ڈانس نمبر ہوتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ذاتی طور پر آرٹ فلمیں پسند کرتی ہوں اور آرٹ فلموں میں عرفان خان کے ساتھ کام کرکے مسرت ہوگی۔ ان کے ساتھ پہلی ہندی فلم مکمل کراکے جو تجربہ ہوا اور ان کی پرفارمنس دیکھ کر احسا س ہوا عرفان خان ایک بڑے اداکار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے فینز کی مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے ٹی وی ڈراموں کی طرح فلم میں بھی پسند کیا۔ میری اپیل ہے کہ وہ پاکستانی فلموں کو پروموٹ کرنے کے لئے سینما گھروں میں جاکر فلمیں دیکھیں۔
ملکی فلم انڈسٹری کو استحکام دینا وقت کا تقاضا ہے۔ ہمیں اپنی فلموں کو ترجیح دینا ہوگی۔جن بھارتی فلموں میں پاکستانی فنکار کام کررہے ہیں ان کو بھی ترجیح دیں۔جس سے ملکی سینما انڈسٹری کو بھی فروغ ملے گا۔

کنگنا کی ”کوئن آف جھانسی“ 25جنوری کو ریلیز ہو گی

ممبئی (شوبزڈ یسک) بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت ان دنوں فلم ”منی کرنیکا: کوئن آف جھانسی“ کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جو 25جنوری کو ریلیز کی جائے گی۔ بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت نے کہا ہے کہ ا±نہیں فلم کے سیٹ پر اداکاروں نے کئی بار ہراساں کیا لیکن وہ’ می ٹو‘ کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ وہ جنسی ہراسانی نہیں تھی بلکہ وہ خوفزدہ کرنے اور ذلت آمیز رویہ تھا۔بھارتی اخبار کے مطابق کنگنا رناوت کا کہنا ہے کہ ہراسانی کے کئی درجات ہوسکتے ہیں، ا±نہیں اپنے فلمی کیریئر کے دوران کئی لوگوں کی طرف سے زہریلے رویہ کا سامنا رہا۔ بھارتی اداکارہ کا کہنا ہے کہ کئی بار مجھے فلم کے سیٹ پر جنسی ہراساں تو نہیں کیا گیا لیکن بعض لوگوں کی انا تھی اور مجھے کئی محاذ پر ہراساں کیا گیا جو ’می ٹو‘ میں تو نہیں آتے لیکن وہ ہراسانی ضرور ہے۔کنگنا رناوت نے مزید کہا کہ ہراسانی کی رینج ا±نہیں طویل انتظار کرانے سے لے کر بغیر رضامندی ا±ن کی آواز ڈب کرنے تک ہے۔
اپنے کربناک تجربات بیان کرتے ہوئے بھارتی اداکارہ نے کہا کہ ”مجھے سیٹ پر چھ گھنٹے انتظار کرایا گیا، جان بوجھ کر مجھے غلط کال ٹائم دیا گیا، مجھے غلط تاریخیں دی گئیں لہٰذا مواقع ضائع ہوئے اور پھر ہیروز کی جانب سے آخری لمحات میں شیڈول منسوخ کردیئے گئے۔کنگنا رناوت کا مزید کہنا ہے کہ ”میرے خلاف گروپ بندی کی گئی اور مجھے فلم ایونٹس میں نہیں بلایا گیا،میرے بغیر ٹریلر لانچ کردیئے اور پھر مجھے بتائے بغیر ہی کسی اور کی آواز ڈب کرلی گئی، جو اداکار کی اجازت سے متعلق بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔

آئٹم گرل کوریمپ واک سے شہرت ملنا آسان نہیں :مہوش حیات

کراچی(شوبزڈیسک)ٹی وی ،فلم اور تھیٹر کی فنکارہ و ماڈل مہوش حیات نے کہا کہ ٹی وی فنکاروں ،ماڈلز نے انڈسٹری کو نئی زندگی دی، ریمپ پر واک ہر فنکار کی خواہش ہوتی ہے۔فلموں میں کام کرنے کے بعد برائیڈل شو میں ریمپ پر واک کرکے جو پذیرائی ملی اسکا تصور کوئی آئٹم گرل نہیں کرسکتی۔ فلموں کے شیڈول کے باعث فیشن انڈسٹری کو وقت دینا ہر ماڈل و فنکارہ کیلئے مشکل ترین امر ہوتا ہے ۔فلم و فیشن انڈسٹری سے ہم بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنارہے ہیں۔ فلم پنجاب نہیں جاﺅ ں گی کی ملک و بیرون ملک کامیابی سے بطور فلمسٹار نئی شنا خت ملی ۔ اب بھی کئی نئی فلموں کی آفرز موجود ہیں لیکن اچھا کردار و جاندار سکرپٹ میری ترجیح ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزمیڈیاسے کیا۔ مہوش حیات کا کہنا تھا نامعلوم افراد ، ایکٹر ان لا ،جوانی پھرنہیں آنی اور پنجاب نہیں جاﺅں گی کی کامیابیوں نے مجھے نیا حوصلہ دیا ہے ۔

عرب امارات نے 3 ارب ڈالر پاکستان کے اکاﺅنٹ میں منتقل کر دیئے

کراچی‘ ابوظہبی‘دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک‘ نیوز ایجنسیاں) متحدہ عرب امارات کی جانب سے تین ارب ڈالر کی رقم اسٹیٹ بینک کے اکاو¿نٹ میں منتقل کردی گئی۔ تفصیل کے مطابق رواں ہفتہ پاکستانیوں کے لیے خوشیوں کی نوید لے کر آرہا ہے، متحدہ عرب امارات کی جانب سے 3ارب ڈالر پاکستان کو موصول ہوگئے ہیں جب کہ سعودی عرب سے بھی ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط رواں ہفتے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اکاو¿نٹ میں منتقل ہوجائے گی۔ دفترخارجہ نے ٹوئٹ میں بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے 3ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں جمع کرا دیئے ہیں، ڈائریکٹرجنرل ابوظہبی فنڈ فار ڈویلپمنٹ اور گورنر اسٹیٹ بینک نے معاہدے پر دستخط کیے، ابوظہبی کی معاونت سے معاشی اور اقتصادی چیلنجز پر قابو پانے میں مدد ملےگی۔ دریں اثنا قطر کے وزیر خزانہ کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی جس میں قطر کی جانب سے پاکستان کے لیے معاشی پیکیج کی حتمی تفصیلات پر مشاورت ہوئی۔ قطر کی جانب سے پاکستان کے لیے 3ارب ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا گیا جب کہ قطر پاکستان میں نئے گیس پاور پلانٹس بھی لگائے گا۔ مانیٹرنگ ڈیسک پاکستان اور برادر اسلامی ملک یو اے ای میں 3ارب ڈالرکے قرض کا معاہدہ طے پا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور یو اے ای میں 3ارب ڈالر کے پیکیج پر دستخط ہوگئے، معاہدہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اورابوظبی فنڈز فارڈیویلپمنٹ کے مابین ہوا.پاکستان کی جانب سے گورنراسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے معاہدے پر دستخط کئے، جب کہ یو اے ای کی طرف سے ابوظبی ڈیولپمنٹ فنڈ کے چیئرمین نے دستخط کئے.توقع کی جارہی ہے کہ ایک ارب ڈالر فوری پاکستان کو وصول ہوجائیں گے، جب کہ باقی دو ارب ڈالر معاہدے کے مطابق منتقل کیے جائیں گے.واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے نومبر 2018 میں یو اے ای کا اہم دورہ کیا تھا، جہاں انھوں نے اہم شخصیات سے ملاقات کی، اس ملاقات میں اہم معاہدے طے پائے تھے۔ یاد رہے کہ ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد پاکستان معیشت میں واضح استحکام آیا.خیال رہے کہ اس وقت وزیر اعظم عمران خان قطر کے دو روزہ دورے پر ہیں، جہاں وزیراعظم کی امیرقطر امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ون آن ون ملاقات ہوئی ہے۔ ابوظہبی فنڈ برائے ترقی(اے ڈی ایف ڈی) نے پاکستان کو مالیاتی پالیسی میں تعاون کیلئے اعلان کردہ 3 ارب ڈالر (11 ارب درہم) سٹیٹ بنک آف پاکستان کو منتقل کرنے کے انتظام کو حتمی شکل دیدی ،اس مالی تعاون کا اعلان دسمبر 2018ءمیں صدر شیخ خلیفہ بن زایدالنیہان، ابوظہبی کے ولی عہد اور عرب امارات کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔متحدہ عرب امارت(یو اے ای) کی نیوزایجنسی وام کے مطابق ابوظہبی فنڈ کے ڈی جی محمد سیف السویدی اور سٹیٹ بنک آف پاکستان کے گورنر طارق باجوہ نے یہاں فنڈ کے ہیڈکوارٹرز میں اس معاہدے پر دستخط کئے۔ اس موقع پر پاکستان کے سفیر معظم احمد خان ، ابوظہبی فنڈ کے ڈپٹی ڈی جی خلیفہ القبیسی اور دیگر سینئر عہدیدار وہاں موجود تھے ۔اس موقع پر خطاب میں محمد سیف السویدی نے کہاکہ عرب امارات کی قیادت پاکستان کا معاشی استحکام چاہتی ہے اور انہی مقاصد کیلئے سٹیٹ بنک آف پاکستان کو یہ 3 ارب ڈالر منتقل کئے جارہے ہیں، اس سے حکومت پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں گرانقدر تعاون حاصل ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ ابوظہبی فنڈ اور حکومت پاکستان کے درمیان 1981 سے مضبوط تعلقات قائم ہیں ، اس کے تحت پاکستان میں سماجی ، معاشی ترقی کیلئے گرانقدر اقدامات کئے گئے ہیں ۔تقریب سے خطاب میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنرطارق باجوہ نے عرب امارات کی قیادت کیلئے اظہار تشکر کیا اور کہاکہ ابوظہبی فنڈ کے تعاون سے پاکستان کو پائیدار ترقی اور دیرپا معاشی استحکام حاصل کرنے کی کوششوں میں بہت تعاون ملا ہے ۔ابوظہبی فنڈ کی طرف سے پاکستان کو ماضی سے لیکر اب تک ڈیڑھ ارب درہم کا مالی تعاون بھی فراہم کیا جاچکا ہے جو کہ پانی ، تعلیم ، صحت جیسے عوامی شعبوں پر خرچ کئے گئے ۔ابوظہبی فنڈ نے پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کی ترقی کیلئے 2013ء میں 227 ملین درہم فراہم کئے تھے جس کے تحت عرب امارات پاکستان دوستی کی سڑک تعمیر کی گئی تھی ۔سال 2013ءمیں اسی تعاون کے تحت پاکستان میں صحت کے دو منصوبوں کیلئے 230 ملین درہم بھی دیئے گئے۔ اس کے تحت ایک ہزار بستروں والے ہسپتال کی تعمیر پر 217 ملین درہم خرچ ہوئے جس سے پاک فوج کے عملہ اور ان کے اہلخانہ کو علاج معالجہ کی سہولیات میسر آئیں، لاہور میں شیخ زاید ہسپتال کیلئے 13ملین درہم دیئے گئے ۔تعلیمی شعبہ کیلئے بھی 2013ءمیں 46 ملین درہم دیئے گئے جوکہ تربیتی کالجز کے قیام پر صرف ہوئے۔ 2009ء میں شیخ زاید انٹرنیشنل اکیڈیمی کی توسیع پر 14 ملین درہم خرچ ہوئے۔ ابوظہبی فنڈ نے 1981 میں تربیلا ڈیم کی بحالی کیلئے بھی 66 ملین درہم دیئے تھے۔

ملک بھر میں ژالہ با ری ، بارش، سڑکیں سفید، پہاڑوں پر برفباری

اسلام آباد (اے پی پی) راولپنڈی اسلام آباد سمیت ملک کے بالائی علاقوںمیںبارش اور پہاڑوں پر برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ مالاکنڈ، ہزارہ، مردان،راولپنڈی،گوجرانولہ ڈویژن، اسلام آباد،کشمیر اور گلگت بلتستان میں اکثر مقامات پر جبکہ پشاور،کوہاٹ، لاہور، سرگودہا ڈویژن میں کہیں کہیں پرگرج چمک اور وقفہ وقفہ سے بارش ہوئی۔ (آج) بدھ کو مالاکنڈ، ہزارہ ڈویژن،کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں جبکہ راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، مردان، کوہاٹ، پشاورڈویژن اور اسلام آباد میں چند مقامات پرگرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے،جبکہ ملک کے دیگرعلاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔اس دوران پنجاب کے میدانی علاقوں میں صبح کے اوقات میں دھند کا امکان ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن(سوات، چترال،کالام، مالم جبہ، اپردیر)، ہزارہ ڈویژن، مری، گلیات، گلگت بلتستان اور کشمیر میں مزید برف باری کا امکان ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے اکثر مقامات پر بارش اور پہاڑوں پر برف باری ہوئی۔ اسلام آباد (زیروپوائنٹ45، گولڑہ 43، سیدپور41، بوکرہ34، نیوائیرپورٹ33 )، پنجاب میں راولپنڈی (چکلالہ 54، شمس آباد 36 )، مری30، سیالکوٹ ( ائیرپورٹ 25، سٹی 18)، منگلا 24، چکوال 19، گجرات14، کامرہ 11، منڈی بہاوٰالدین 10، جہلم09 ، سرگودھا( سٹی 09، ائیرپورٹ 07)، ناروال، جوہر ا?باد 08، گوجرانوالہ 07، حافظ آباد02، لاہور 01 ، خیبرپختونخوا میں کالام 36، مالم جبہ35، بالاکوٹ 25، پٹن 15، دیر(زیریں 14، بالائی 05)، کاکول 14، سیدوشریف 11، میر کھانی 08، چترال06، رسالپور ، دروش 05، کشمیر: مظفرآباد26، راولاکوٹ21، کوٹلی20، گڑھی دوپٹہ17، سندھ میں کراچی(شاہرائے فیصل 09،پی اے ایف مسرور06، یونیورسٹی روڈ05،پہلون گوٹھ، ناظم آباد، ائیرپورٹ 04)، چھور 02، ٹنڈو جام01، گلگت بلتستان: بونجی 09، اسکردو 03، ہنزہ، بگروٹ 02، گلگت اور چلاس میں 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ کالام 25، مالم جبہ 23، مری 14، استور 05، دیر، بگروٹ، ہنزہ میں 01 انچ برفباری ہوئی۔ منگل کو ملک میں کم سے کم درجہ حرارت قلات منفی 09، بگروٹ منفی 06، کوئٹہ، گوپس منفی 05، اسکردو، کالام منفی 04، مری ، مالام جبہ، دالبندین منفی 03،ڑوب، ہنزہ، دروش، راولاکوٹ، پارہ چنار منفی 02، نوکنڈی، میرکھانی،استور، چلاس اور پنجگور میں منفی 01ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تعلقات اور تجارت میں اضافہ ہونا چاہیے، دہشتگردی کی جنگ میں پاکستانی حکومت اور فوج کے مشکور ہیں : سری لنکن ہائی کمشنر کی چینل ۵کے پروگرام ” ڈپلو میٹک انکلیو “ میں گفتگو

اسلام آباد (انٹر ویو :ملک منظور احمد ،تصاویر نکلس جان ) اسلام آباد میں تعینات سری لنکا کے نئے ہائی کمشنر نور الدین شاہد کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سرلنکا کے درمیان دو طرفی تعلقات اور تجارتی حجم میں اضافہ کی ضرورت ہے ، پا کستان اور سری لنکا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر نظر ثانی ہونی چا ہیے ، سارک تنظیم کے قیام سے علاقائی ملکوں کو بہت سے فوائد حاصل ہوئے ہیں ،اگر شمالی اور جنوبی کوریا ستر سال بعد اپنے باہمی روابط میں بہتری لا سکتے ہیں تو پا کستان اور بھارت کیوں نہیں ؟ انھوں نے کہا سری لنکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی پاکستان کی مسلح افواج اور حکومت کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھی ،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا مل کر نالج کاریڈور کا قیام عمل میں لا رہے ہیں جس کے تحت ڈھائی سو سری لنکن طلباءسالانہ پا کستان میں تعلیم حاصل کر سکیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے چینل فائیو پروگرام ڈپلومیٹک انکلیو میں خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کیا ۔
اسلام آباد میں تعینات کے سری لنکاکے سفیر نور الدین شاہد کا کہنا ہے کہ سارک جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے بہت ہی اہم علاقائی تنظیم ہے ،جب سے سارک کا وجود عمل میں آیا ہے ،علاقائی ممالک کے لیے بہت سے فائدے ساتھ لا یا ہے ،اور اس تنظیم کے دائرہ کار کے تحت بہت سے اچھے کام ہوئے ہیں ،تجارتی اور سماجی رابطے بڑھے ہیں ،لیکن بدقسمتی سے تنظیم کا آخری اجلاس 2014 ءمیں ہوا ،اس کے بعد اجلاس پا کستان میں ہونا تھا لیکن سیاسی مسائل کی وجہ سے نہ ہو سکا ،ہندوستان اس اجلاس میں شرکت سے گریز کر رہا ہے ،لیکن مجھے امید ہے کہ اس سلسلے میں بہتری آئیگی کیونکہ پاکستان کی نئی لیڈر شپ نے ہندوستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے ،اور اسی سلسلے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کرتار پور کوریڈور کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے ،پر امن بقا ئے باہمی کے تحت ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے ،اور انھیں امید ہے کہ اس سلسلے میں پیشرت ہو گی اگر صدر ٹرمپ ،شمالی کوریا کے لیڈر کے ساتھ ملاقات کر سکتے ہیں تو پا کستان اور بھارت کے لیڈر کیوں نہیں ۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ بالکل میں مطمئن ہیں،لیکن پا کستان اور سری لنکا ہمیشہ سے ہی ہر معاملے پر بہت قریب رہے ہیں ،آزادی کے فوری بعد سے ہی پاکستان اور سری لنکا نے ہر شعبہ میں چاہے وہ تعلیم یا ثقافت ،یا معیشت ہو یا تجارت ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ہے ،ہمارے ملکوں کے قائدین نے بھی ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے کیے ہیں ،سری لنکا کے وزیر اعظم ڈایس سری نئکا نے 1948میں پاکستان کا دورہ کر کے قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات کی تھی ،اس کے بعد کئی پا کستانی قائدین نے سری لنکا کے دورے کیے ،فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1964ءمیں سری لنکا کا دورہ کیا ،اس وقت سری لنکا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بڈر نئکا بر سر اقتدار تھیں ،اور ایوب خان کے اس دورے سے پا کستان اور سری لنکا کے تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچے اس دورے کے دوران ،سری لنکن صدر نے پاکستانی صدر بو پودے کا تحفہ بھی پیش کیا جو صدر ایوب نے ٹیکسلا میوزیم کے کمپاﺅنڈ میں لگوا دیا ،پاکستان اور سری لنکا کے گہرے تعلقات ہر دور میں ہر لیڈر شپ کے تحت رہے ہیں ۔
ایک سوال کو جواب دیتے ہوئئے انھوں نے کہا کہ سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا نے جب میرا تقرر بطور نان ملٹری پرسن کیا تو ان کا یہی وژن تھا کہ سری لنکا اب جنگ کے دور سے نکل چکاہے ،اس قبل سری لنکا نے تین دہائیاں حالت جنگ میں گزاریں اس جنگ کے با عث سری لنکا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا اور عوامی املاک بھی اس جنگ کی زد میں آئیں ،جنگ کے باعث سری لنکا کے تجارتی اداروں کو بھی نقصان پہنچا اور سری لنکا کسی بھی ملک کے ساتھ صیح معنوں میں تجارتی سرگرمیاں نہ جاری رکھ سکا ،پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے 12جون 2005ءکو سری لنکا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخظ کیے ،اس آزاد تجارتی معاہدہ پر دستخط کا مقصد دونوں ممالک میں تعا ون بڑھانا تھا ،لیکن بد قسمتی اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہ ہو سکا میرا بطور سفیر ایک مقصد یہ ہی ہے کہ اس معا ہدے پر دونوں ممالک کے مفاد میں اسر نو غور کیا جائے ،اور اس کو بہتر کرنے کی کوشش کی جائے ،سری لنکا میں ماحول اب تبدیل ہو چکا ہے ،سری لنکا اب ایک پر امن ملک ہے ، سیاحت فروغ پا رہی ہے ،اس لیے اب دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارت میں بھی اسی حساب سے تبدیلی آنی چاہیے ۔
سری لنکن سفیر کا کہنا تھا کہ ابھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بہت زیادہ نہیں ہے ،400ملین ڈالر ہے ،میں نے لا ہور سیالکوٹ اور فیصل آباد چیمبرز کے دورے کیے اور ان دوروں کے دوران میں نے تاجروںسے کہا کہ میرا ہدف باہمی تجارت کے ہدف کو 1ارب ڈالر تک پہنچانا ہے ،اور سری لنکا اس حوالے سے بہت سکت رکھتا ہے ،جس کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ،پا کستان ایک ملکی نمائشیں منعقد کرتا تھا ،اور پا کستان میں کئی حوالوں سے دلچسپی پائی جاتی ہے ،خاص طور پر قیمتی پتھروں کے تا جروں نے سری لنکن پتھروں میں بہت دلچسپی کا اظہار کیا ہے ،اس حوالے سے خصوصی طور پر پشاور سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے سری لنکن تاجروں کے ساتھ مل کر اس صنعت کو فروغ دینے میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔میرا ایک مرکزی ہدف پا کستان کے ساتھ چائے کی تجارت کو بڑھانا ہے ،کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پا کستان ایک چائے کے ساتھ محبت کرنے والا ملک ہے ،اور پاکستان میں چائے بہت پسند کی جاتی ہے ،لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے پا کستان میں سری لنکن چائے کی کھپت میں کمی دیکھی جا رہی ہے اس کی ایک بڑی وجہ پا کستانی لوگوں کو زوق ہے جو گاڑھے رنگ کی چائے زیادہ پسند کرتے ہیں ،اور حالیہ برسوں میں سری لنکن چائے جو کہ دنیا کی بہترین چائے مانی جاتی ہے ،کے رنگا اور زائقے میں کچھ تبدیلی آچکی ہے ،تو ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہم کس طرح اپنی چائے کو پا کستانی لو گوں کے ذوق کے مطابق تبدیل کرکے اس کی فروخت کو بڑھا سکتے ہیں ۔
جوا ب:میں نے جب پاکستان کی چیمبرز کا دورہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ پا کستانی تاجر کئی مصنوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں ، سری لنکا پا کستان سے سوت اور کپڑا درآمد کرتا ہے اور یہ ہی چیزیں ہندوستان سے بھی منگوائیں جاتیں ہیں ،پاکستان کی نسبت ہندوستان سے یہ مصنوعات سری لنکن تاجروں کو زیادہ سستے پڑتی ہیں کیونکہ ہندوستان سری لنکا سے زیادہ قریب ہے ،تو کچھ رابطوں کے مسائل ہیں ،اور یہ مصنوعات ہمیں پا کستان سے کچھ مہنگی بھی پڑتیں ہیں ،لیکن اگر میں اس حوالے سے بات کروں تو ائر لنکا پا کستان مسلسل اپنی پروازیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس پا کستان کے مشکل وقت میں بھی جب دنیا پاکستان کو ائر لا ئنز کے لیے خطرناک ملک قرار دیتی تھی اس وقت بھی یہ آپریشن جاری رکھا گیا ،ائر لنکا کا پاکستان میں آپریشن گزشتہ تیس برس سے جاری ہے ،ہم اس وقت بھی کراچی اور لاہور سے براہ راست
پروازیں آپریٹ کرتے ہیں اور جہاں تک میں نے پا کستانی منڈیوں کو اسٹڈی کیا ہے ،ہمیں اس فلائیٹ آپریشن کے دائرہ کار کو مزید توسیع دینے کی ضرورت ہے ،اسلام آباد اور سیالکوٹ سے بھی پروزیں چلنیں چاہیے ،کیونکہ میں سیالکوٹ کے تاجروں سے بھی ملا ہوں اور انھوں نے مجھے کئی مصنوعات پر رعا یت کا بھی یقین دلا یا ہے ،سیالکوٹ ایک صنعتی حب ہے ،سری لنکا کو اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
سوال کے جواب میں نور الدین شاہد نے کہا کہ سری لنکا پا کستان اور بھارت دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے والا ملک ہے ،اور پا کستان نے بھی ہر موقع پر سری لنکا کا ساتھ دیا ہے ، اور خاص طور پر جنگ کے دوران اگر پا کستان سری لنکا کا ساتھ نہ دیتا تو شاید سری لنکا یہ جنگ نہ جیت سکتا ،سری لنکا پوری کوشش کرے گا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کسی قسم کی مفا ہمت کروائی جاسکے اور سارک تنظیم کو بھی مکمل فعال کرکے اس کو ایشیا میں ایک مضبوط تنظیم کے طور پر سامنے لایا جا سکے ۔
سوال کے جواب میںان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا کی دوستی 1975ءمیں نئی بلندیوں تک پہنچی ،1971ءکی پا ک بھارت جنگ کے دوران سری لنکا نے پا کستان کو اپنے طیارے سری لنکن ہوائی اڈوں پر اتارنے کی اجازت دی
یہ سری لنکا کی جانب سے پاکستان کے لیے دوستی کا عملی ثبوت تھا ،اور اس وقت سے دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی موجود ہے ،اس کے بعد پا کستان نے بھی ہر موقع پر سری لنکا کا ساتھ دیا ہے ۔اگر میں کہو تو 2009ءکے بعد جب سری لنکا نے دہشت گردوں کے خلاف اپنی جنگ جیت لی ،یہ ایک مشکل جنگ تھی دہشت گردوں کے پاس جنگی جہاز اور اپنی نیوی تک موجود تھی ،لیکن سری لنکا کی بہادر افواج نے یہ جنگ جیت لی ،لیکن یہ جنگ جیتنے کے کریڈٹ میں اگر پا کستان کو حصہ نہ دیا جائے تو یہ ذیادتی ہو گی ،پاکستان نے نا صرف جنگ کے دوران سری لنکا کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کیا بلکہ ،سری لنکا کی مسلح افواج کو تربیت اور اسلحہ اور ہتھیار بھی فراہم کیے ،بلکہ 2009ءمیں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی ایک موقع پر اقوام متحدہ میں سری لنکا کی مسلح افواج کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام پر ایک کمیشن بنانے کی کوشش کی گئی جس کی پا کستان نے بھر پور مخالفت کی ،اقوام متحدہ میں پا کستان کے سفیر ضمیر اکرام صاحب نے بہت ہی مظبوطی سے پا کستان کا کیس لڑا اور دنیا کے سامنے پیش کر کے اس کوشش کو ناکام بنایا گیا ،انھوں نے دنیا کو یہ باور کروایا کہ یہ انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سری لنکا کے خلاف ایک سیاسی چال ہے ان کے اس اقدام کو دنیا میں تسلیم کیا گیا ،اس کے بعد مختلف قرار دادوں کو سری لنکا نے پا کستان کی بھرپور سپورٹ سے ہی ناکام بنایا ۔
ان معاملات میں لیڈرشپ کا بہت ہی اہم رول ہوتا ہے ،اور میری خوش قسمتی ہے کہ میں ایسے
وقت میں پا کستان کا میں آیا ہوں جب عمران خان اقتدار میں ہیں ،انھوں نے اپنے آپ کو عالمی کرکٹ میں ایک اعلیٰ پا ئے کے لیڈر کے طور پر منوایا ہے ،اور ان کی جنگ کے معاملات میں ہمیشہ سے ایک ہی اپروچ رہی ہے کہ ان معاملات کو افہام اور تفہم کے ساتھ اور بات چیت کا راستہ اپنا کر حل کیا جائے ،مجھے پوری امید ہے کہ وہ اپنی دانشمندانہ پولیسیز کے زریعے دہشت گردی کے مسئلہ پر بھی بخوبی قابو پا لیں گے ۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں پا کستان اور سری لنکا کے تعلقات کو تمام شعبوں میں ہی بہت بہتر ہوتے دیکھ رہے ہیں ،پا کستان ہر شعبے میں سری لنکا کی بھرپور معاونت کر رہا ہے ،پا کستان نے سری لنکا کے لیے ایک نالج کوریڈور کا اعلان کیا ہے جس میں سری لنکن طلباءکو میڈیکل انجئنرنگ اور آئی ٹی سمیت تقریباایک ہزار وظیفے دیے جا رہے ہیں ،لیکن اس سے پہلے بھی پا کستان اس شعبے میں سری لنکا کی بھر پور مدد کرتا رہا ہے ،نا لج کوریڈور کا منصوبہ اگلے سال شروع ہو جائے گا ،مستقبل دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید بہتری کی جانب ہی جاتا دیکھ رہا ہوں ،میری پوری کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید فروغ دیا جائے ،میں پا کستان میں جہاں بھی جاتا ہوں مجھے عوام سے بہت ہی پیار ملتا ہے ،اس سے آپ دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کا اندازہ لگا سکتے ہیں ،اور اسی طرح جب کوئی پا کستان سے سری لنکا جاتا ہے تو سری لنکن عوام بھی اسی طرح گرم جوشی سے استقبال کرتے ہیں ،اور یہ صرف کرکٹ کی وجہ سے ءنہیں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ پا یا جاتا ہے ،اور یہ تعلقات مستقبل میں مزید بڑھتے ہی جائیں گے ۔
جواب :آپ نے بہت ہی اچھا سوال کیا ہے ،پا کستان بدھ مت تہذیب کا اہم مرکز ہے ،میں نے بھی حال ہی میں پشاور اور ٹیکسلا کا دورہ کیا ہے ،اور مجھے یہ دیکھ کر بہت ہی خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان کی
حکومت نے پاکستان میں بدھ مت کے ماننے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہونے کے باوجود ،اس مذہب کے مجسموں کی بہت حفاظت کی ہے اور ان کی تزین و آرائش کا پورا بندوبست کیا ہے ،میرا ارادہ ہے کہ دونوں ممالک میں درمیان مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جائے اور اس سلسلے میں میں نے پا کستان کے ایک انسٹیٹیوٹ سے بھی رابطہ کیا ہے جو ہماری اس سلسلے میں مدد کر سکے ،ہم یہ چاہتے ہیں کہ مذہبی سیاحت کا سلسلہ نالج کو ریڈور کے ساتھ ہی شروع ہو جائے ،اور میں ایک میڈیا وفد بھی ساتھ لانا چا ہتا ہوں جو واپس سری لنکا جا کر لو گوں کو بتا سکے کہ پاکستان بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے ایک جنت ہے ،اور سری لنکا کو یہ بتا یا جائے کہ پا کستان نے گندھارا تہذیب کو محفوظ کر رکھا ہے ،نہ صرف سری لنکا کے لوگوں کو بلکہ ایسے تمام ممالک کے لوگوں کو جو بدھ مت کے ماننے والے ممالک میں رہتے ہیں جیسا کہ نیپال ،بھوٹان ،تھائی لینڈ وغیرہ ،اور وزیر اعظم عمران خان کی یہ دیرینہ خواہش بھی ہے کہ پا کستان میں سیا حت کو فروغ دیا جائے ۔
کرکٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ،کرکٹ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کرادار ادا کیا ہے ،پا کستان میں کچھ عرصے سے کرکٹ نہیں کھیلی جارہی لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ ،پا کستان میں کرکٹ دوبارہ کھیلی جائے ،میں اس سلسلے میں ایک کوشش کر رہا ہوں کہ پا کستان کی 1992ءکی کرکٹ ٹیم جس نے پاکستان کے لیے ورلڈ کپ بھی جیتا اور جس کی قیادت جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب نے خود کی تھی،اس ٹیم کے درمیان اور سری لنکا کی سن 92ءکی ٹیم جس کی قیادت ارجنا رانا ٹنگا صاحب جو اب خود بھی ایک سیاست دان ہیں انھوں کی تھی کے درمیان ایک میچ کروایا جائے جس سے دنیا کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ پاکستان کھیلوں کے لیے ایک محفوظ ملک ہے ،امید ہے وزیر اعظم میری یہ درخواست قبول کریں گے ۔

سی پیک سے متعلق اپنے خیا لات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ یہ منصوبہ سری لنکا کے لیے کتنا سود مند ہے کیونکہ یہ ایک بہت ہی بڑا منصوبہ ہے ،چین پہلے سے ہی سری لنکا میں بہت سرمایہ کاری کر رہا ہے ،اور انھوں نے سری لنکا کی ایک بندرہ گاہ پر بھی ترقیاتی منصوبے شروع کر رکھے ہیں ،اس کے علا وہ کولمبو میں بھی انھوں نے 500ایکڑ زمین حاصل کی ہے جس پر مختلف منوبوں کا قیام عمل میں لا جا رہا ہے ،بالکل اگر یہ منصوبہ اگر سری لنکا کے مفاد میں ہوا تو اس میں سرمایہ کاری کی جائے گی ۔
ایک سوال کے جواب مین نور الدین شاہد نے کہا کہ مذہبی سیاحت سمیت کئی شعبے ہیں جن میں دو طرفہ تعاون کو بڑھا یا جا سکتا ہے ،سری لنکا ایک بہت ہی خوبصورت ملک ہے اور اس کے لوگ بہت ہی خوبصورت ہیں ،میں بہت سے پا کستانیوں سے ملا ہوں جو کہتے ہیں کہ سری لنکا جا چکے اور کہتے ہیںکہ سری لنکا ایک بہت ہی خوبصورت ملک ہے اور میں کہتا ہوں کہ پا کستان اور اس کے لوگ بھی بہت ہی خوبصورت ہیں ،امید ہے مستقبل میں یہ دوستی اور دونوں ممالک کے تعلقات مزید بڑھتے جائیں گے ،آخر میں میں یہی کہنا چا ہوں گا کہ پا کستان زندہ باد سری لنکا پا ئندآباد
جواب :آپ کا بہت شکریہ مجھے یہ موقع دینے کے لیے ،میں تھوڑا سا فکر مند تھا کہ میں کیسے یہ انٹرویو دوں گا ،لیکن آپ نے یہ موقع دیا اس کئی مواقع پیدا ہوئے اور اس خطے میں میرے کیرئیر کو بڑھانے میں بھی مدد دے گا ،آپ کا بہت شکریہ ۔
پاکستان میں اپنے قیام کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں ،کیونکہ میرے ان کےدو بیٹے پاکستان سے پڑھ کر گئے ہیں وہ دونوں ڈاکٹر ہیں اور ایک علامہ اقبال میڈیکل کالج جبکہ دوسرے نے کنگ ایڈ ورڈ میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی تو پا کستان نے مجھے میرے خاندان میں دو ڈاکٹر دیے ہیں ،اس ملک سے میرا گہرا تعلق بنتا ہے ،میں ایک پیشہ ور سفارت کار نہیں ہوں ،میں نے قانون میں تعلیم حاصل کر رکھی ہے ،مجھے خاص طور پر سری لنکا کے کے صدر نے اپنے ملک کی نمائندگی کے لیے نان ملٹری پرسن کی حیثیت سے چنا ہے ،
اس سے قبل کئی دہائیوں سے فوج سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی بطور سفیر خدمات انجام دیتے تھے ،میرے دوسرے بیٹے نے ساہیوال سے تعلق رکھنے والی پاکستانی لڑکی سے شادی کر لی ہے ،وہ دونوں
ڈاکٹر ہیں اور اب امریکہ میں مقیم ہیں ،پاکستان نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور یہ میرے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کہ مجھے پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشز کے طور پر تعینات کیا گیا ہے ۔

سانحہ ساہیوال کے ذمہ داروں کو کم از کم موت کی سزا ملنی چاہیے : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سانحہ ساہیوال کے ذمہ داروں کو اسی طرح ڈیل کرنا چاہئے جس طرح قاتل کو کرتے ہیں۔ جتنی معلومات براہ راست یا بالواسطہ جے آئی ٹی کے ذریعے ملی ہیں یہ سب سے زیادہ دکھ والی بات یہ ہے کہا یہ گیا ہے کہ فائرنگ ایک سے 10 فٹ تک کے فاصلے سے کی گئی۔ اس سے درندگی ظاہر ہوتی ہے کہ 7,5 کے اندر تو نظر آ جاتا ہے کہ گاڑی کے اندر نظر آ جاتا ہے کہ گاڑی میں بچے ہی اور خاتون خانہ ہے۔ تین بچے اور میاں بیوی جو بار بار کہہ رہے ہیں کہ مت مارو گولی اتنی قریب سے گولیاں چلی ہیں ثابت ہوتا ہے کہ بعض فائر وہ دو یا تین بعض 5 فٹ سے ہوئے ہیں۔ کیا وہ پولیس والے اندھے تھے۔دیکھتے ہیں وزیراعلیٰ پنجاب کیا ایکشن لیتے ہیں۔ ابھی تو جو رپورٹ آئی ہے وہ سوائے اس کے کہ ابتدائی پوچھ گچھ کی گئی ہو گی باقی تفصیلی رپورٹ تو بعد میں آئے گی۔ جتنی رپورٹآئی ہے اس میں ان لوگوں کو رہا نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مخبری علط بھی ہو گئی اطلاع غلط بھی تھی تو موقع پر انہیں نظر نہیں آیا۔ لگتا ہے اندھے، گونگے ہو گئے تھے انسانیت کے معیار سے گر کر نیچے پلی مخلوق ہے جنہوں نے یہ کیا ہے۔ جس طرح جانوروں کو باڑے میں گھیر کر مارتے ہیں اس طرح انسان کو معصوم بچوں کو، ڈری ہوئی سہمی ماں کو ایک باپ کو جو بار بار کہہر ہا ہے بچوں پر گولی نہ چلاﺅ، خدا کے لئے گولی نہ چلاﺅ۔ جتنے الفاظ ڈکشنری میں درندگی کے، وہ ان لوگوں پر ختم ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی دنیا کا قانون وہ سزائے موت سے کم کوئی سزا دے۔پنجاب حکومت نے عوام کو پورا موقع دے کر مطمئن نہ کیا تو اس کا خوفناک ردعمل ہو گا کہ اس سے حکومت اسے سنبھال نہیں سکے گی یہ کھلی پولیس گردی ہے۔ پولیس نے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی کوشش کی تو عوامی غیظ و غضب کا نشانہ بنے گی حکومت۔ کیا 13 سالہ بچی ان کو دہشت گرد دکھائی کیا اس کے ہاتھ گن تھی جو ان بدبخت پولیس والوں پر تانے ہوئی تھی اگر غلط معلومات مل گئی تھی تو ان کی آنکھیں کام نہیں کر رہی تھیں کیا وہ اندھے تھے۔ ذیشان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق واقعی کسی دہشت گرد گروہ سے تھا۔ ہو سکتا ہے کہ ہو، کوئی بھی شخص اپنی گاڑی پر کرائے پر دے سکتا ہے اگر وہ گاڑی چلانے والا کسی سابقہ کارروائی میں یا کسی ایسے برے عمل میں شریک رہا تھا تو اس کا کیا مطلب ہے کہ جہاں جہاں وہ گاڑی لے کر جائے اس کی گاڑی میں باقی سوارییاں بیٹھی ہوں جنہوں نے کرائے پر گاڑی لی تھی اس کا مطلب ہے کہ آئندہ آپ کسی گاڑی پر بٹھا کر لیا کریں کہ اس کے ڈرائیور کا کہیں دہشت گردوں سے تو تعلق نہیں ہے اس کو مارنے کے بہانے آئے اور ہمیں بھی مار جائے۔ اس واقعہ سے تو یہی لگتا ہے پولیس نے شاید حلف اٹھائے ہوئے ہیں کہ کوئی بھی سامنے ہو بغیر سوچے سمجھے فائرنگ نہ کریں گے۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا اس سے بڑا تعلق نہیں ہے لیکن اگر آپ کو ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے مناظر یاد ہوں کہ طاہر القادری صاحب کے لوگوں پر کس طرح سے گولی چلائی گئی تھی اور کس طرح سے گلو بٹ گاڑیاں توڑتا پھرتا تھا اس وقت بھی ایک خاتون کے منہ میں بندوق رکھ کر گولی چلائی گئی تھی اس کے حلق سے پار ہو گئی۔ کیا پولیس کے بڑے عہدیدار یہ ٹریننگ دیتے ہیں، یہ سہالہ میں ٹریننگ دی جاتی ہے۔ کیا یہ سکھایا جاتا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے انسانوں کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا جائے۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ذمہ دار پولیس والوں کو بجائے ترقیاں دینے کے اور ان کو پاکستان کے باہر پوسٹنگ دینے کے اگر ان کو قرار واقعی سزا مل جاتی تو ہو سکتا ہے کہ ساہیوال کے واقعہ کے ذمہ داروں کے کچھ تو ہاتھ کانپتے ہم بھی پکڑے جا سکتے ہیں اس وجہ نے پولیس میں دیدہ دلیری بڑھائی۔ شہباز شریف نے قانون کی موشگافیوں کے ذریعے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین بن گئے مبارک ہو آپ کو جناب کوئی اللہ کے ہاں بھی انصاف ہے اور جس وزیراعلیٰ کے دور میں جس طرح سے گولیاں چلائی گئیں اور اگر اس وقت پولیس والوں کو سزا دی جاتی تو پولیس کے ہوش ٹھکانے آ جاتے اور پولیس محسوس کرتی ہے کہ ہم جس کو جی چاہیں گولی مار دیں۔ ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ قانون ہماری پشت پر قانون کا محافظ کھڑا ہے۔ میں تجویز کروں گا کہ قانون میں جو سخت سے سخت سزا ہو سکتی ہے وہ ان لوگوں کو ملنی چاہئے۔ ایک بچے کے قتل کے سلسلے میں، میاں بیوی کے قتل کے الزام میں کم از کم دو چار لاشیں پھڑکتی ہوئی نظر آنی چاہئیں ان کو پھانسی کی سزا ملنی چاہئے تا کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ وردی والے کا یہ مطلب نہیں ہے لوگوں کو گولی چلا کر مار دے۔
شہباز شریف کے چیئرمین پی اے سی بننے کے معاملہ پر عدالت نے فیصلہ دے دیا اس پر بات کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ تاہم ابھی فیصلہ ہائیکورٹ نے دیا، شیخ رشید یقینا سپریم کورٹ میں اس کے خلاف اپیل دائر کریں گے تمام چھوٹی سے بڑی عدالتوں تک کے ججز صاحبان کے فیصلے کرتے وقت اللہ کی عدالت کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ وہ خود بھی اپنے فیصلوں بارے وہاں جواب دہ ہوں گے۔ جو بھی اللہ کے نظام کو تلپٹ کر کے غلط فیصلے دے گا وہ اس کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔ نوازشریف اور عام قیدی میں زمین آسمان کا فرق ہے، وہ پی آئی سی میں فروکش ہوں گے اور اسی وارڈ کو سب جیل قرار دے دیا جائے گا اگر میڈیکل رپورٹ میں بیرون ملک علاج کی سفارش کی گئی تو نوازشریف بغیر کسی عذر کے باہر بھی چلے جائیں گے نوازشریف کسی نہ کسی طریقے سے اس قید و بند سے چھٹکارا پا لیں گے کیونکہ قانون تو صرف عام آدمی کیلئے ہے۔ نوازشریف 3 بار وزیراعظم رہے ہیں اربوں روپے کے مالک ہیں، ان کو تو دل کا مرض نکلنا ہی تھا۔ پاکستان میں جاری نظام میں کبھی کسی امیر آدمی کو سزا نہیں ہوئی۔ نوازشریف کو جیل میں بہترین سہولتیں میسر ہیں، پنجاب حکومت کے ڈاکٹرز کیسے ایک سابق وزیراعظم کی مرضی کے خلاف رپورٹ دے سکتے ہیں۔ یہاں ڈاکٹرز اور وکلا کے پاس بھی انصاف بکتا ہے اگر آپ کے پاس پیسے ہیں تو یہ سہولت مل جائے گی۔ میں نے جیل میں وقت گزارا ہے ایک بار کیمپ جیل میں بطور سیاسی قیدی بند تھا وہاں مشہور سونے کے سمگلر کے بندے بھی قید تھے۔ ان کے کمرے فرش سے چھت تک کارپٹڈ تھے رنگین ٹی وی سمیت ہر سہولت میسر تھی، پرل کانٹینینٹل ہوٹل سے 3 وقت بہترین کھانا آتا تھا۔ پاکستان میں پیسہ اور اختیار حاصل ہو تو جیل بھی جنت ہے۔ ہماری جیلوں میں دو قسم کے قیدی ہوتے ہیں ایک عام قیدی جو شودر اور نیچ اس لئے سمجھے جاتے ہیں کہ غریب ہوتے ہیں دوسری قسم شرفا کے قیدیوں کی ہے جنہیں بہترین کھانا واش رومز، اہلخانہ سے ملاقاتوں کی ہر وقت سہولت میسر ہوتی ہے یہ سارا نظام گل سڑ چکا ہے اس سے سڑانڈ اٹھ رہی ہے اس لئے اس نظام کو ااگ لگا دینی چاہئے۔ یہاں تو لوگ پولیس کی چھترول سے بچنے کیلئے گھر بار بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مزنگ میں 9 سالہ طالبہ سے زیادتی کرنے والے ٹیچر کی بجالی کی خبر پر ضیا شاہد نے کہا کہ یہ صرف اس لئے ہوا کہ وہ ایک غریب محنت کش کی بچی تھی کسی امیر گھرانے کی ہوتی تو یہ مجرم کبھی بحال نہ ہوتا۔ ناظرینن سن لیں کہ جو نظام انصاف پاکستان میں رائج ہے اس کے ہوتے اگر آپ غریب ہیں جیب میں پیسے نہیں ہیں تو انصاف کو بھول جائیں صرف دھتکار اور پھٹکار آپ کا مقدر ہو گی۔

ساہیوال واقعہ میں اگر کوئی دہشت بھی تھا تو کیا آپریشن کرنا درست اقدام تھا: ڈاکٹر مہدی حسن، سسٹم پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں وزراءکچھ کہتے ہیں پولیس افسروں کی منطق الگ ہے: رحمت علی رازی، بعض واقعات معاشرے کے مختلف پہلوﺅں کو ظاہر کردیتے ہیں: آغا باقر ، ساہیوال کیس میں بڑی قباحتیں راجہ بشارت تو بار بار کہہ رہے ہیں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کیا گیا: میاں افضل ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیہ کار و کالم نگار ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ میڈیا کی وجہ سے بہت سے حقائق لوگوں تک پہنچتے ہیں ۔ساہیوال واقعہ میں اگر کوئی دہشت گر د تھا بھی تو کیا اس طرح آپریشن کرنا درست اقدام تھا،پولیس اتنی تربیت یافتہ ہونی چاہئے کہ بے گناہ لوگوں کی جان نہ جائے لیکن ایسا نہیں ہے۔اگر بچے نکالے جا سکتے ہیں تو باقی افراد کوپکڑا بھی جا سکتا تھا ساہیوال میں جو ہوا وہ ناقابل معافی ہے۔اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہئے۔اگر میڈیااتنا فعال نہ ہوتا تو معاملے پر مٹی ڈال دی گئی ہوتی پولیس کلچر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔نواز شریف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بیمار ہو سکتا ہے ہمارے ہاں بدقسمتی سے کچھ سیاسی پارٹیاں ایسی ہیں جن کو میں بڑی پارٹیوں کی سٹپنی کہتا ہوں۔افغانستان میں افغان حکومت برائے نام ہی ہے۔کالم نگار و میزبان آغا باقر نے کہا کہ کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو معاشرے کو ہلاکر رکھ دیتے ہیں اس کے ساتھ ہی معاشرے کے بہت سے پہلوﺅں کو عیاں بھی کر دیتے ہیں۔ چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرض کریں اگر کوئی دہشت گرد ہے بھی تو اسے پکڑا جائے تاکہ مزید لوگ پکڑے جا سکیں۔ماضی میں بھی بہت سے ایسے واقعات ہوئے لیکن اب تک ان کا تدارک نہیں ہو سکا اگر ماضی میں اس قسم کے واقعات پر ذمہ داران کو سزا ہوتی تو یہ واقعہ نہ ہوتا۔کالم نگاررحمت علی رازی نے کہا کہ بدقسمتی سے سسٹم پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں ساہیوال واقعہ کے بعد وزارا سمیت پولیس افسران کے بیانات ہی نہیں مل رہے واقعے میں معصوم جانوں کا ضیاءقابل مذمت ہے جس نے بھی آپریشن کیا کیا انہیں ذرا بھی عقل نہیں تھی۔جے آئی ٹی اب محض وقت گزاری کر رہی ہے کچھ کرنا ہوتا تو وقت نہ مانگتی۔بہت سے پولیس افسران دہشت گردی کا کورس کر کے آئے ہیں آخر وہ کہاں ہیں۔کالم نگارمیاں افضل نے کہا کہ ساہیوال کیس میں بہت سی قباحتیں ہیں راجہ بشارت تو بار بار کہہ رہے ہیں دہشت گر د تھے۔سانحہ ساہیوال اس حکومت کے لئے اب ٹیسٹ کیس ہے۔سوشل میڈیاکی وجہ سے اصل معاملہ سامنے آیا میں سمجھتا ہوں عوام صرف انصاف چاہتے ہیں اگر انصاف نہ ہوا تو لوگوں کا اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف دل کے ساتھ ذہنی دباﺅ کا بھی شکار ہیں جس کا ٹیسٹ بھی ہوا ہے۔

نوجوانوں کو مغربی ثقافت سے دور رکھنے کے لیے چینی میڈیا کا انوکھا طریقہ

بیجنگ(ویب ڈیسک) چین میں مرد ماڈلز کے کانوں میں بالیاں پہننے کے فروغ کو روکنے کے لیے ایک انوکھا طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے ٹیلی وڑن پر گزشتہ کئی ہفتوں سے چند مرد ماڈلز کی پرفارمنس اور انٹرویو کے دوران ان کے کان چھپا دیئے جاتے ہیں۔ کانوں پر سنسر کے لیے استعمال ہونے والی پٹی آویزاں کردی جاتی ہے۔شائقین غیر محسوس طریقے سے اس انوکھے اقدام سے متعلق شش و پنج میں مبتلا ہوگئے اور سوشل میڈیا پر حیرت انگیز اقدام کے حوالے سے چہ مہ گوئیاں ہونے لگیں۔صارفین کے اضطراب کو دیکھتے ہوئے ٹیلی وڑن انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کانوں میں بالیاں پہننا چینی ثقافت نہیں بلکہ مغربی کلچر ہے جس کی حوصلہ شکنی کے لیے بالیوں کو دھندلا (bluered) کردیا جاتا ہے۔گزشتہ برس کےآخر میں چین کے تمام ٹیلی وڑن چینل کو ایک ضابطہ اخلاق بھیجا گیا تھا جس کے تحت مرد ماڈلز کی کانوں کی بالیوں کو چھپانے کا حکم دیا گیا تھا۔ضابطہ اخلاق کے متن کے مطابق مرد کا کانوں میں بالیاں پہننا مغربی کلچر ہے جسے چین میں فروغ نہیں دینا چاہتے۔ مرد ماڈلز کو کانوں میں بالیاں پہن کر پروگرام میں شرکت کرنے سے روکنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔