اسلام آباد (انٹر ویو :ملک منظور احمد ،تصاویر نکلس جان ) اسلام آباد میں تعینات سری لنکا کے نئے ہائی کمشنر نور الدین شاہد کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سرلنکا کے درمیان دو طرفی تعلقات اور تجارتی حجم میں اضافہ کی ضرورت ہے ، پا کستان اور سری لنکا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر نظر ثانی ہونی چا ہیے ، سارک تنظیم کے قیام سے علاقائی ملکوں کو بہت سے فوائد حاصل ہوئے ہیں ،اگر شمالی اور جنوبی کوریا ستر سال بعد اپنے باہمی روابط میں بہتری لا سکتے ہیں تو پا کستان اور بھارت کیوں نہیں ؟ انھوں نے کہا سری لنکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی پاکستان کی مسلح افواج اور حکومت کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھی ،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا مل کر نالج کاریڈور کا قیام عمل میں لا رہے ہیں جس کے تحت ڈھائی سو سری لنکن طلباءسالانہ پا کستان میں تعلیم حاصل کر سکیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے چینل فائیو پروگرام ڈپلومیٹک انکلیو میں خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کیا ۔
اسلام آباد میں تعینات کے سری لنکاکے سفیر نور الدین شاہد کا کہنا ہے کہ سارک جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے بہت ہی اہم علاقائی تنظیم ہے ،جب سے سارک کا وجود عمل میں آیا ہے ،علاقائی ممالک کے لیے بہت سے فائدے ساتھ لا یا ہے ،اور اس تنظیم کے دائرہ کار کے تحت بہت سے اچھے کام ہوئے ہیں ،تجارتی اور سماجی رابطے بڑھے ہیں ،لیکن بدقسمتی سے تنظیم کا آخری اجلاس 2014 ءمیں ہوا ،اس کے بعد اجلاس پا کستان میں ہونا تھا لیکن سیاسی مسائل کی وجہ سے نہ ہو سکا ،ہندوستان اس اجلاس میں شرکت سے گریز کر رہا ہے ،لیکن مجھے امید ہے کہ اس سلسلے میں بہتری آئیگی کیونکہ پاکستان کی نئی لیڈر شپ نے ہندوستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے ،اور اسی سلسلے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کرتار پور کوریڈور کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے ،پر امن بقا ئے باہمی کے تحت ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے ،اور انھیں امید ہے کہ اس سلسلے میں پیشرت ہو گی اگر صدر ٹرمپ ،شمالی کوریا کے لیڈر کے ساتھ ملاقات کر سکتے ہیں تو پا کستان اور بھارت کے لیڈر کیوں نہیں ۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ بالکل میں مطمئن ہیں،لیکن پا کستان اور سری لنکا ہمیشہ سے ہی ہر معاملے پر بہت قریب رہے ہیں ،آزادی کے فوری بعد سے ہی پاکستان اور سری لنکا نے ہر شعبہ میں چاہے وہ تعلیم یا ثقافت ،یا معیشت ہو یا تجارت ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ہے ،ہمارے ملکوں کے قائدین نے بھی ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے کیے ہیں ،سری لنکا کے وزیر اعظم ڈایس سری نئکا نے 1948میں پاکستان کا دورہ کر کے قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات کی تھی ،اس کے بعد کئی پا کستانی قائدین نے سری لنکا کے دورے کیے ،فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1964ءمیں سری لنکا کا دورہ کیا ،اس وقت سری لنکا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بڈر نئکا بر سر اقتدار تھیں ،اور ایوب خان کے اس دورے سے پا کستان اور سری لنکا کے تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچے اس دورے کے دوران ،سری لنکن صدر نے پاکستانی صدر بو پودے کا تحفہ بھی پیش کیا جو صدر ایوب نے ٹیکسلا میوزیم کے کمپاﺅنڈ میں لگوا دیا ،پاکستان اور سری لنکا کے گہرے تعلقات ہر دور میں ہر لیڈر شپ کے تحت رہے ہیں ۔
ایک سوال کو جواب دیتے ہوئئے انھوں نے کہا کہ سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا نے جب میرا تقرر بطور نان ملٹری پرسن کیا تو ان کا یہی وژن تھا کہ سری لنکا اب جنگ کے دور سے نکل چکاہے ،اس قبل سری لنکا نے تین دہائیاں حالت جنگ میں گزاریں اس جنگ کے با عث سری لنکا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا اور عوامی املاک بھی اس جنگ کی زد میں آئیں ،جنگ کے باعث سری لنکا کے تجارتی اداروں کو بھی نقصان پہنچا اور سری لنکا کسی بھی ملک کے ساتھ صیح معنوں میں تجارتی سرگرمیاں نہ جاری رکھ سکا ،پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے 12جون 2005ءکو سری لنکا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخظ کیے ،اس آزاد تجارتی معاہدہ پر دستخط کا مقصد دونوں ممالک میں تعا ون بڑھانا تھا ،لیکن بد قسمتی اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہ ہو سکا میرا بطور سفیر ایک مقصد یہ ہی ہے کہ اس معا ہدے پر دونوں ممالک کے مفاد میں اسر نو غور کیا جائے ،اور اس کو بہتر کرنے کی کوشش کی جائے ،سری لنکا میں ماحول اب تبدیل ہو چکا ہے ،سری لنکا اب ایک پر امن ملک ہے ، سیاحت فروغ پا رہی ہے ،اس لیے اب دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارت میں بھی اسی حساب سے تبدیلی آنی چاہیے ۔
سری لنکن سفیر کا کہنا تھا کہ ابھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بہت زیادہ نہیں ہے ،400ملین ڈالر ہے ،میں نے لا ہور سیالکوٹ اور فیصل آباد چیمبرز کے دورے کیے اور ان دوروں کے دوران میں نے تاجروںسے کہا کہ میرا ہدف باہمی تجارت کے ہدف کو 1ارب ڈالر تک پہنچانا ہے ،اور سری لنکا اس حوالے سے بہت سکت رکھتا ہے ،جس کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ،پا کستان ایک ملکی نمائشیں منعقد کرتا تھا ،اور پا کستان میں کئی حوالوں سے دلچسپی پائی جاتی ہے ،خاص طور پر قیمتی پتھروں کے تا جروں نے سری لنکن پتھروں میں بہت دلچسپی کا اظہار کیا ہے ،اس حوالے سے خصوصی طور پر پشاور سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے سری لنکن تاجروں کے ساتھ مل کر اس صنعت کو فروغ دینے میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔میرا ایک مرکزی ہدف پا کستان کے ساتھ چائے کی تجارت کو بڑھانا ہے ،کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پا کستان ایک چائے کے ساتھ محبت کرنے والا ملک ہے ،اور پاکستان میں چائے بہت پسند کی جاتی ہے ،لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے پا کستان میں سری لنکن چائے کی کھپت میں کمی دیکھی جا رہی ہے اس کی ایک بڑی وجہ پا کستانی لوگوں کو زوق ہے جو گاڑھے رنگ کی چائے زیادہ پسند کرتے ہیں ،اور حالیہ برسوں میں سری لنکن چائے جو کہ دنیا کی بہترین چائے مانی جاتی ہے ،کے رنگا اور زائقے میں کچھ تبدیلی آچکی ہے ،تو ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہم کس طرح اپنی چائے کو پا کستانی لو گوں کے ذوق کے مطابق تبدیل کرکے اس کی فروخت کو بڑھا سکتے ہیں ۔
جوا ب:میں نے جب پاکستان کی چیمبرز کا دورہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ پا کستانی تاجر کئی مصنوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں ، سری لنکا پا کستان سے سوت اور کپڑا درآمد کرتا ہے اور یہ ہی چیزیں ہندوستان سے بھی منگوائیں جاتیں ہیں ،پاکستان کی نسبت ہندوستان سے یہ مصنوعات سری لنکن تاجروں کو زیادہ سستے پڑتی ہیں کیونکہ ہندوستان سری لنکا سے زیادہ قریب ہے ،تو کچھ رابطوں کے مسائل ہیں ،اور یہ مصنوعات ہمیں پا کستان سے کچھ مہنگی بھی پڑتیں ہیں ،لیکن اگر میں اس حوالے سے بات کروں تو ائر لنکا پا کستان مسلسل اپنی پروازیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس پا کستان کے مشکل وقت میں بھی جب دنیا پاکستان کو ائر لا ئنز کے لیے خطرناک ملک قرار دیتی تھی اس وقت بھی یہ آپریشن جاری رکھا گیا ،ائر لنکا کا پاکستان میں آپریشن گزشتہ تیس برس سے جاری ہے ،ہم اس وقت بھی کراچی اور لاہور سے براہ راست
پروازیں آپریٹ کرتے ہیں اور جہاں تک میں نے پا کستانی منڈیوں کو اسٹڈی کیا ہے ،ہمیں اس فلائیٹ آپریشن کے دائرہ کار کو مزید توسیع دینے کی ضرورت ہے ،اسلام آباد اور سیالکوٹ سے بھی پروزیں چلنیں چاہیے ،کیونکہ میں سیالکوٹ کے تاجروں سے بھی ملا ہوں اور انھوں نے مجھے کئی مصنوعات پر رعا یت کا بھی یقین دلا یا ہے ،سیالکوٹ ایک صنعتی حب ہے ،سری لنکا کو اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
سوال کے جواب میں نور الدین شاہد نے کہا کہ سری لنکا پا کستان اور بھارت دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے والا ملک ہے ،اور پا کستان نے بھی ہر موقع پر سری لنکا کا ساتھ دیا ہے ، اور خاص طور پر جنگ کے دوران اگر پا کستان سری لنکا کا ساتھ نہ دیتا تو شاید سری لنکا یہ جنگ نہ جیت سکتا ،سری لنکا پوری کوشش کرے گا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کسی قسم کی مفا ہمت کروائی جاسکے اور سارک تنظیم کو بھی مکمل فعال کرکے اس کو ایشیا میں ایک مضبوط تنظیم کے طور پر سامنے لایا جا سکے ۔
سوال کے جواب میںان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا کی دوستی 1975ءمیں نئی بلندیوں تک پہنچی ،1971ءکی پا ک بھارت جنگ کے دوران سری لنکا نے پا کستان کو اپنے طیارے سری لنکن ہوائی اڈوں پر اتارنے کی اجازت دی
یہ سری لنکا کی جانب سے پاکستان کے لیے دوستی کا عملی ثبوت تھا ،اور اس وقت سے دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی موجود ہے ،اس کے بعد پا کستان نے بھی ہر موقع پر سری لنکا کا ساتھ دیا ہے ۔اگر میں کہو تو 2009ءکے بعد جب سری لنکا نے دہشت گردوں کے خلاف اپنی جنگ جیت لی ،یہ ایک مشکل جنگ تھی دہشت گردوں کے پاس جنگی جہاز اور اپنی نیوی تک موجود تھی ،لیکن سری لنکا کی بہادر افواج نے یہ جنگ جیت لی ،لیکن یہ جنگ جیتنے کے کریڈٹ میں اگر پا کستان کو حصہ نہ دیا جائے تو یہ ذیادتی ہو گی ،پاکستان نے نا صرف جنگ کے دوران سری لنکا کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کیا بلکہ ،سری لنکا کی مسلح افواج کو تربیت اور اسلحہ اور ہتھیار بھی فراہم کیے ،بلکہ 2009ءمیں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی ایک موقع پر اقوام متحدہ میں سری لنکا کی مسلح افواج کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام پر ایک کمیشن بنانے کی کوشش کی گئی جس کی پا کستان نے بھر پور مخالفت کی ،اقوام متحدہ میں پا کستان کے سفیر ضمیر اکرام صاحب نے بہت ہی مظبوطی سے پا کستان کا کیس لڑا اور دنیا کے سامنے پیش کر کے اس کوشش کو ناکام بنایا گیا ،انھوں نے دنیا کو یہ باور کروایا کہ یہ انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سری لنکا کے خلاف ایک سیاسی چال ہے ان کے اس اقدام کو دنیا میں تسلیم کیا گیا ،اس کے بعد مختلف قرار دادوں کو سری لنکا نے پا کستان کی بھرپور سپورٹ سے ہی ناکام بنایا ۔
ان معاملات میں لیڈرشپ کا بہت ہی اہم رول ہوتا ہے ،اور میری خوش قسمتی ہے کہ میں ایسے
وقت میں پا کستان کا میں آیا ہوں جب عمران خان اقتدار میں ہیں ،انھوں نے اپنے آپ کو عالمی کرکٹ میں ایک اعلیٰ پا ئے کے لیڈر کے طور پر منوایا ہے ،اور ان کی جنگ کے معاملات میں ہمیشہ سے ایک ہی اپروچ رہی ہے کہ ان معاملات کو افہام اور تفہم کے ساتھ اور بات چیت کا راستہ اپنا کر حل کیا جائے ،مجھے پوری امید ہے کہ وہ اپنی دانشمندانہ پولیسیز کے زریعے دہشت گردی کے مسئلہ پر بھی بخوبی قابو پا لیں گے ۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں پا کستان اور سری لنکا کے تعلقات کو تمام شعبوں میں ہی بہت بہتر ہوتے دیکھ رہے ہیں ،پا کستان ہر شعبے میں سری لنکا کی بھرپور معاونت کر رہا ہے ،پا کستان نے سری لنکا کے لیے ایک نالج کوریڈور کا اعلان کیا ہے جس میں سری لنکن طلباءکو میڈیکل انجئنرنگ اور آئی ٹی سمیت تقریباایک ہزار وظیفے دیے جا رہے ہیں ،لیکن اس سے پہلے بھی پا کستان اس شعبے میں سری لنکا کی بھر پور مدد کرتا رہا ہے ،نا لج کوریڈور کا منصوبہ اگلے سال شروع ہو جائے گا ،مستقبل دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید بہتری کی جانب ہی جاتا دیکھ رہا ہوں ،میری پوری کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید فروغ دیا جائے ،میں پا کستان میں جہاں بھی جاتا ہوں مجھے عوام سے بہت ہی پیار ملتا ہے ،اس سے آپ دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کا اندازہ لگا سکتے ہیں ،اور اسی طرح جب کوئی پا کستان سے سری لنکا جاتا ہے تو سری لنکن عوام بھی اسی طرح گرم جوشی سے استقبال کرتے ہیں ،اور یہ صرف کرکٹ کی وجہ سے ءنہیں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ پا یا جاتا ہے ،اور یہ تعلقات مستقبل میں مزید بڑھتے ہی جائیں گے ۔
جواب :آپ نے بہت ہی اچھا سوال کیا ہے ،پا کستان بدھ مت تہذیب کا اہم مرکز ہے ،میں نے بھی حال ہی میں پشاور اور ٹیکسلا کا دورہ کیا ہے ،اور مجھے یہ دیکھ کر بہت ہی خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان کی
حکومت نے پاکستان میں بدھ مت کے ماننے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہونے کے باوجود ،اس مذہب کے مجسموں کی بہت حفاظت کی ہے اور ان کی تزین و آرائش کا پورا بندوبست کیا ہے ،میرا ارادہ ہے کہ دونوں ممالک میں درمیان مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جائے اور اس سلسلے میں میں نے پا کستان کے ایک انسٹیٹیوٹ سے بھی رابطہ کیا ہے جو ہماری اس سلسلے میں مدد کر سکے ،ہم یہ چاہتے ہیں کہ مذہبی سیاحت کا سلسلہ نالج کو ریڈور کے ساتھ ہی شروع ہو جائے ،اور میں ایک میڈیا وفد بھی ساتھ لانا چا ہتا ہوں جو واپس سری لنکا جا کر لو گوں کو بتا سکے کہ پاکستان بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے ایک جنت ہے ،اور سری لنکا کو یہ بتا یا جائے کہ پا کستان نے گندھارا تہذیب کو محفوظ کر رکھا ہے ،نہ صرف سری لنکا کے لوگوں کو بلکہ ایسے تمام ممالک کے لوگوں کو جو بدھ مت کے ماننے والے ممالک میں رہتے ہیں جیسا کہ نیپال ،بھوٹان ،تھائی لینڈ وغیرہ ،اور وزیر اعظم عمران خان کی یہ دیرینہ خواہش بھی ہے کہ پا کستان میں سیا حت کو فروغ دیا جائے ۔
کرکٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ،کرکٹ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کرادار ادا کیا ہے ،پا کستان میں کچھ عرصے سے کرکٹ نہیں کھیلی جارہی لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ ،پا کستان میں کرکٹ دوبارہ کھیلی جائے ،میں اس سلسلے میں ایک کوشش کر رہا ہوں کہ پا کستان کی 1992ءکی کرکٹ ٹیم جس نے پاکستان کے لیے ورلڈ کپ بھی جیتا اور جس کی قیادت جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب نے خود کی تھی،اس ٹیم کے درمیان اور سری لنکا کی سن 92ءکی ٹیم جس کی قیادت ارجنا رانا ٹنگا صاحب جو اب خود بھی ایک سیاست دان ہیں انھوں کی تھی کے درمیان ایک میچ کروایا جائے جس سے دنیا کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ پاکستان کھیلوں کے لیے ایک محفوظ ملک ہے ،امید ہے وزیر اعظم میری یہ درخواست قبول کریں گے ۔
سی پیک سے متعلق اپنے خیا لات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ یہ منصوبہ سری لنکا کے لیے کتنا سود مند ہے کیونکہ یہ ایک بہت ہی بڑا منصوبہ ہے ،چین پہلے سے ہی سری لنکا میں بہت سرمایہ کاری کر رہا ہے ،اور انھوں نے سری لنکا کی ایک بندرہ گاہ پر بھی ترقیاتی منصوبے شروع کر رکھے ہیں ،اس کے علا وہ کولمبو میں بھی انھوں نے 500ایکڑ زمین حاصل کی ہے جس پر مختلف منوبوں کا قیام عمل میں لا جا رہا ہے ،بالکل اگر یہ منصوبہ اگر سری لنکا کے مفاد میں ہوا تو اس میں سرمایہ کاری کی جائے گی ۔
ایک سوال کے جواب مین نور الدین شاہد نے کہا کہ مذہبی سیاحت سمیت کئی شعبے ہیں جن میں دو طرفہ تعاون کو بڑھا یا جا سکتا ہے ،سری لنکا ایک بہت ہی خوبصورت ملک ہے اور اس کے لوگ بہت ہی خوبصورت ہیں ،میں بہت سے پا کستانیوں سے ملا ہوں جو کہتے ہیں کہ سری لنکا جا چکے اور کہتے ہیںکہ سری لنکا ایک بہت ہی خوبصورت ملک ہے اور میں کہتا ہوں کہ پا کستان اور اس کے لوگ بھی بہت ہی خوبصورت ہیں ،امید ہے مستقبل میں یہ دوستی اور دونوں ممالک کے تعلقات مزید بڑھتے جائیں گے ،آخر میں میں یہی کہنا چا ہوں گا کہ پا کستان زندہ باد سری لنکا پا ئندآباد
جواب :آپ کا بہت شکریہ مجھے یہ موقع دینے کے لیے ،میں تھوڑا سا فکر مند تھا کہ میں کیسے یہ انٹرویو دوں گا ،لیکن آپ نے یہ موقع دیا اس کئی مواقع پیدا ہوئے اور اس خطے میں میرے کیرئیر کو بڑھانے میں بھی مدد دے گا ،آپ کا بہت شکریہ ۔
پاکستان میں اپنے قیام کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں ،کیونکہ میرے ان کےدو بیٹے پاکستان سے پڑھ کر گئے ہیں وہ دونوں ڈاکٹر ہیں اور ایک علامہ اقبال میڈیکل کالج جبکہ دوسرے نے کنگ ایڈ ورڈ میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی تو پا کستان نے مجھے میرے خاندان میں دو ڈاکٹر دیے ہیں ،اس ملک سے میرا گہرا تعلق بنتا ہے ،میں ایک پیشہ ور سفارت کار نہیں ہوں ،میں نے قانون میں تعلیم حاصل کر رکھی ہے ،مجھے خاص طور پر سری لنکا کے کے صدر نے اپنے ملک کی نمائندگی کے لیے نان ملٹری پرسن کی حیثیت سے چنا ہے ،
اس سے قبل کئی دہائیوں سے فوج سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی بطور سفیر خدمات انجام دیتے تھے ،میرے دوسرے بیٹے نے ساہیوال سے تعلق رکھنے والی پاکستانی لڑکی سے شادی کر لی ہے ،وہ دونوں
ڈاکٹر ہیں اور اب امریکہ میں مقیم ہیں ،پاکستان نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور یہ میرے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کہ مجھے پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشز کے طور پر تعینات کیا گیا ہے ۔