All posts by Daily Khabrain

نیوزی لینڈ کا پاکستان کو جیت کیلئے 369 رنز کا ہدف

ہیملٹن( ویب ڈیسک )  نیوزی لینڈ نے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو جیت کے لئے 369 رنز کا ہدف دیا ہے۔ہیملٹن کے سیڈن پارک میں کھیلے جا رہے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کی جانب سے دیئے گئے 369 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے ایک رن بنا لیا ہے جب کہ جیت کے لئے اسے مزید 368 رنز درکار ہیں۔ کھیل کے چوتھے روز نیوزی لینڈ نے اپنی دوسری اننگز 313 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر دی۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے دوسری اننگز میں روس ٹیلر نے 102 رنز ناٹ آؤٹ جب کہ ٹام لیتھم نے 80 رنز اسکور کئے۔ پاکستان کی جانب سے عمران خان نے 3 جب کہ عامر اور وہاب ریاض نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔نیوزی لینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 271 رنز اسکور کئے تھے جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 216 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی اور میزبان ٹیم کو پہلی اننگز میں 55 رنز کی سبقت حاصل ہو گئی تھی۔ پاکستان کی جانب سے پہلی اننگز میں سہیل خان نے 4، عمران خان نے 3 اور محمد عامر نے 2 وکٹیں حاصل کی تھیں جب کہ نیوزی لینڈ کی جانب سے پہلی اننگز میں ٹم ساؤتھی نے 6 اور نیل ویگنر نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا

بیوی سے زیادتی پھر قتل۔۔۔

لاہور(نامہ نگار) ریس کورس کے علاقے چنبہ ہاﺅس کے کمرہ نمبر 26سے ملنے والی خاتون سمعیہ چودھری کے تین بچے ہیں اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ اسلام آباد میں ہی رہائش پذیر تھی ۔خاتون 20نومبر کو ن لیگ کے کارکنوں کے ساتھ شورٹ کوٹ شادی کی تقریب میں گئی تھی اور 22نومبر کو لاہور میں چمبہ ہاﺅس گئی خاتون کی آخری مرتبہ اپنے شوہر سے 24نومبر کو بات ہوئی تھی ۔26نومبر کو خاتون کی چمبہ ہاﺅس کے کمرے سے لاش برآمد ہوئی ۔ خاتون سمعیہ چودھری کے شوہر آصف محمود نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ اس کی بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا ہے ۔

لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم کی قبل از وقت ریٹایرمنٹ کا امکان،لیفٹیننٹ جنرل رمدے شاید سروس جاری رکھیں

لاہور (سیاسی رپورٹر سے) جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف مقرر کئے جانے کے بعد قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ جن چار لیفٹیننٹ جنرل حضرات کو ”سُپرسیڈ“ کر کے لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف بنایا گیا ہے، کیا پیچھے رہ جانے والے لیفٹیننٹ جنرل حضرات سروس جاری رکھیں گے یا ماضی کی مثالوں کی طرح قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لیں گے۔ کیونکہ ماضی میں اس طرح کی دونوں روایات موجود ہیں۔ یہ خبریں گردش میں ہیں کہ ملتان کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم کے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کے امکانات موجود ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین اور لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خاں 13 جنوری 2017ءکو اپنی چار سالہ معینہ مدت پوری کر کے ریٹائر ہو جائیں گے تاہم جنرل اشفاق ندیم اور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے کا دورانیہ8 اگست 2017ءکو پورا ہو گا۔ چونکہ چاروں اعلیٰ افسران کا تعلق 62 ویں لانگ کورس سے ہے اس ناطے چیئرمین اور آرمی چیف کی تاریخ کمیشن ایک ہی ہے۔ تاہم پی اے نمبر (پرسنل آرمی نمبر) کی رو سے واجد حسین، نجیب اللہ خاں، اشفاق ندیم اورجاوید اقبال رمدے حالیہ نامزد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سینئر ہیں۔
پاکستانی فوج کی تاریخ میں فیلڈ مارشل ایوب خاں پہلے پاکستانی کمانڈر انچیف مقرر ہوئے جن کا عرصہ کمان 16 جنوری 1951ءسے 26 اکتوبر 1958ءتک ہے۔ انہیں کمانڈر انچیف نامزد کیا گیا تو میجر جنرل اکبر خاں، میجر جنرل محمد رضا، میجر جنرل محمد اشفاق المجید کو سپر سیڈ کر کے ایوب خاں لائے گئے تھے۔ یاد رہے کہ محمد اشفاق المجید پہلے بنگالی میجر جنرل تھے جنہوں نے بنگلہ دیش کی شورش میں مکتی باہنی کی تنظیم میں دیگر منحرف بنگالی افسروں کے ہمراہ بغاوت میں حصہ لیا۔
دوسرے کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ کا دورانیہ 27 اکتوبر 1958ءسے 17 جون 1966ءتک تھا۔ ان کو آرمی چیف نامزد کرتے وقت میجر جنرل شیر علی خاں پٹودی، میجر جنرل لطیف خان اور میجر جنرل آدم خان کو سپر سیڈ کیا تھا۔ یاد رہے کہ جنرل شیر علی خاں بعد ازاں یحییٰ دور میں پاکستان کے وزیراطلاعات بھی رہے۔ وہ انڈین کرکٹ ٹیم کے منصور علی خاں پٹودی کے رشتہ دار تھے پٹودی کی بیوی مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور ہیں اور بیٹا سیف علی خاں اور بیٹی سوہا علی بھی اداکارہ ہے۔ تیسرے پاکستانی کمانڈر انچیف جنرل محمد یحییٰ خاں 18 جون 66 سے 20 دسمبر 1971ءتک کمانڈر انچیف کے عہدے پر فائز رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل الطاف قادر اور لیفٹیننٹ جنرل بختیار رانا پر ترجیح دے کر یحییٰ خاں کو کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا۔
چوتھے کمانڈر انچیف جنرل گل حسن 20 دسمبر 1971ءسے 3 مارچ 1972ءتک مختصر دورانیہ کے آرمی چیف رہے۔ جنہیں فل جنرل کے عہدے پر ترقی نہیں دی گئی تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خاں کو سپر سیڈ کر کے جنرل گل حسن کو بھٹو صاحب نے آرمی چیف مقرر کیا تھا لیکن جنرل ٹکا خاں نے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ اپنے سے جونیئر افسر کی ماتحتی میں ملازمت کرتے رہے۔ پانچویں کمانڈر انچیف جنرل ٹکا خاں 3 مارچ 1972ءسے یکم مارچ 1976ءتک چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر رہے جنہیں بھٹو صاحب نے مقرر کیا تھا۔ یاد رہے کہ جنرل ٹکا خاں عسکری تاریخ کی واحد مثال ہیں جو سپر سیڈ ہونے کے باوجود اگلی بار پھر آرمی چیف مقرر کئے گئے۔ انہوں نے سینئر موسٹ ہونے کے ناطے کسی بھی افسر کو سپر سیڈ نہیں کیا۔
چھٹے چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد ضیاءالحق کو یکم مارچ 1976ءکو بھٹو صاحب ہی نے مقرر کیا جو 17 اگست 1988ءتک تا دم شہادت اس عہدے پر فائز رہے یاد رہے کہ بہاول پور کے حادثے میں ان کا طیارہ پھٹ گیا تھا۔ جنرل ضیاءالحق کے آرمی چیف نامزدگی کے وقت لیفٹیننٹ جنرل محمد شریف سینئر موسٹ تھے جنہیں چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے نئے عہدے پر نامزد کیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل آفتاب احمد خاں، لیفٹیننٹ جنرل اکبر خاں، لیفٹیننٹ جنرل عظمت بخش اعوان، لیفٹیننٹ جنرل آغا ابراہیم اکرم، لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان اور لیفٹیننٹ جنرل عبدالمجید ملک، جنرل ضیاءالحق سے سینئر تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خاں نے اپنے جونیئر افسر کے ماتحت کام جاری رکھنے کو ترجیح دی۔ دیگر تمام افسران اپنے عہدوں سے قبل از وقت ریٹائر ہو گئے تھے۔ یاد رہے کہ جنرل عبدالمجید ملک بعد ازاں سیاست میں آئے اور نوازشریف صاحب کی پہلی وزارت عظمیٰ میں وفاقی وزیر رہے۔ دوسری طرف کام جاری رکھنے والے جنرل غلام جیلانی خاں دو اسباب کی بنیاد پر یاد رکھے جائیں گے۔ اول نیپ پر پابندی کا سارا کیس انہوں نے تیار کر کے سپریم کورٹ میں بھٹو صاحب کے ایما پر داخل کیا تھا۔ دوم جنرل ضیاءالحق کے دور میں انہیں پنجاب کا گورنر مقرر کیا گیا اور میاں محمد نوازشریف کو سیاست میں لانے والے بھی وہی تھے۔
ساتویں آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے 17 اگست 1988ءکو جنرل ضیاءالحق کے حادثے کے بعد آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا۔ اسلم بیگ اس وقت وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز تھے۔ اور سینئر موسٹ ہونے کے باعث کسی نے استعفیٰ نہیں دیا۔ وہ 17 اگست 88ء16 اگست 1991ءتک آرمی چیف رہے۔
آٹھویں آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ 16 اگست 1991ءکو آرمی چیف نامزد ہوئے جس وقت بے نظیر بھٹو، وزیراعظم تھیں اور جنرل جنجوعہ کو سینئر موسٹ ہونے کی وجہ سے دو ماہ قبل ہی آرمی چیف بننے کا اشارہ دیدیا گیا تھا۔
8 جنوری 1993ءکو جنرل جنجوعہ کی اچانک وفات کے بعد عہدہ خالی ہو گیا۔ یہ الزام لگا کہ وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف کے مابین چپقلش تھی اور ان کی اچانک وفات سے چہ میگوئیوں کے نتیجے میں قبر کھول کر ان کی میت نکالی گئی اور اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا لیکن الزام ثابت نہ ہو سکا۔
نویں سربراہ ”جنرل عبدالوحید کاکڑ“ کو وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری جو صدر غلام اسحاق خاں کو بھیجی گئی، پانچویں نمبر پر ہونے کے باوجود 11 جنوری 93ءکو آرمی چیف مقرر کیا گیا۔ فہرست میں دیگر ناموں میں لیفٹیننٹ جنرل رحمدل بھٹی، لیفٹیننٹ جنرل محمد اشرف، لیفٹیننٹ جنرل فرخ خاں اور لیفٹیننٹ جنرل عارف بنگش شامل تھے۔ ان میں سے جنرل رحمدل بھٹی اور جنرل محمد اشرف نے سپرسیڈ ہونے کی بنا پر قبل از وقت ریٹائر ہو گئے۔ جنرل فرخ خاں اور جنرل عارف بنگش، جنرل عبدالوحید کاکڑ کے کورس میٹ تھے اور کاکڑ صاحب کی خواہش کے احترام میں اپنی ملازمت جاری رکھی اور مستعفی نہیں ہوئے۔ اس دور میں آئین کی رو سے صدر مملکت افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہونے کی وجہ سے سروسز چیفس اور اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف مقرر کرنے کے مجاز تصور کئے جاتے تھے۔ وزیراعظم کا منصب مشاورت تک محدود تھا جسے تسلیم کرنا صدر کے لئے ضروری نہ تھا۔ عبدالوحید کاکڑ کے دور کمان میں وزیراعظم نوازشریف اور صدر مملکت غلام اسحاق خان کو اپنے عہدے چھوڑنے پڑے تھے کیونکہ آرمی چیف نے دونوں کو مجبور کیا تھا کہ وہ اقتدار سے الگ ہو کر نئے الیکشن کے لئے راستہ ہموار کریں جنرل عبدالوحید کاکڑ کا عرصہ کمان 11 جنوری 1993ءسے 12 جنوری 96ءتک ہے۔
دسویں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سنیارٹی کے اصول کے مطابق سربراہ مقرر کئے گئے اس وقت بھی وزیراعظم بے نظیر بھٹو تھیں۔ جہانگیر کرامت کے آرمی منصب مقرر کئے جانے کے وقت کسی کو سپر سیڈ نہیں کیا گیا تھا۔ 6 اکتوبر 1998ءکو وزیراعظم نوازشریف نے ان سے قبل از وقت استعفیٰ طلب کر لیا کیونکہ جنرل جہانگیر کرامت نے آئی ایس پی آر کے ذریعے ایک تجویز شائع کروا دی تھی کہ ملکی سکیورٹی کی دیکھ بھال کے لئے مستقل سکیورٹی کونسل وجود میں لائی جائے جس میں صدر، وزیراعظم، دفاع، خارجہ، داخلہ امورکے وزراءکے ساتھ تینوں سروسز چیفس اور لیڈر آف اپوزیشن بھی شامل ہوں۔ اس تجویز کو اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے جمہوری حکومت کے آئینی اختیار میں مداخلت تصور کیا اور جہانگیر کرامت سے استعفیٰ طلب کر لیا۔ جنرل جہانگیر کرامت کا دورانیہ کمان 12 جنوری 1996ءسے 6 اکتوبر 1998 تک ہے۔ گیارھویں آرمی چیف بننے کا منفرد اعزاز ڈرامائی طور پر جنرل پرویز مشرف کو حاصل ہوا جو اپنے تئیں ریٹائر ہو کر گھر جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ جنرل جہانگیر کرامت کے قبل از وقت استعفیٰ کے باعث وزیراعظم نوازشریف کو آرمی چیف کا انتخاب کرنے میں مسائل درپیش تھے۔ موجودہ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خاں کے بڑے بھائی لیفٹیننٹ جنرل (ر) افتخار علی خاں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سیکرٹری ڈیفنس کے اہم عہدے پر فائز تھے۔ انہیں وزیراعظم کا اعتماد حاصل تھا اور انہی کی سفارش پر لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خاں اور لیفٹیننٹ جنرل خالد نواز کو سپر سیڈ کر کے وزیراعظم نوازشریف نے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کیا۔ آئینی ترمیم نافذ ہونے کی وجہ سے اختیارات کا توازن وزیراعظم کی طرف منتقل ہو چکا تھا اور صدر مملکت رفیق تارڑ وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری پر دستخط کرنے کے پابند تھے۔ صرف ایک سال بعد بغاوت یا جوابی بغاوت کے نتیجے میں جنرل پرویز مشرف نے حکومت پر قبضہ کر کے منتخب وزیراعظم نوازشریف کی حکومت ختم کر دی۔ کیونکہ وزیراعظم نوازشریف نے سری لنکا کے دورے سے واپسی سے پہلے ہی جنرل پرویز مشرف کے دوران سفر انہیں برخاست کر کے لیفٹیننٹ جنرل ضیاءالدین بٹ کو جو آئی ایس آئی کے چیف تھے کو آرمی چیف مقرر کر دیا تھا۔ جو سنیارٹی میں پانچویں نمبر پر تھے۔ جنرل ضیاءالدین بٹ کی کمان سنبھالنے سے پہلے ہی منظر الٹ گیا اور جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کے علاوہ خود ہی چیف ایگزیکٹو بن گئے اور وزیراعظم نوازشریف کو جیل بھیج کر ہائی جیکنگ کا مقدمہ قائم کر دیا۔ نتیجے میں کچھ عرصہ بعد نواز شریف اہلخانہ سمیت سعودی حکومت کی مداخلت پر جیل میں سے براہ راست جدہ سعودی عرب پہنچ گئے۔
بارھویں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جنرل پرویز مشرف نے بحیثیت صدر مملکت اور آرمی چیف، اپنا جانشین مقرر کیا جو پہلے ہی سے وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز تھے 29 نومبر 2007 کو جنرل کیانی کو آرمی چیف مقرر کیا گیا۔ ملکی سیاست میں غیر متوقع تبدیلی ہوئی جنرل پرویز مشرف کو وردی سے ہاتھ دھونا پڑے اور انہوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی پر اعتماد کرتے ہوئے ازخود بری فوج کی کمان سونپی۔ کچھ عرصہ بعد ہی جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو قصر صدارت سے فارغ کر دیا گیا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا دور کمان نومبر 2007ءمیں ختم ہو رہا تھا کہ انہیں پیپلزپارٹی کی حکومت نے تین سالہ مدت کی توسیع دے دی جس کی کوئی مثال سول حکومت میں نہیں ملتی۔ 29 نومبر 2013ءتک جنرل اشفاق پرویز کیانی بری فوج کے سربراہ رہے۔ ان کے بطور آرمی چیف ترقی پانے سے لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی سپر سیڈ ہوئے لیکن وہ پہلے ہی 1 سالہ توسیع پر تھے اور سٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کے انچارج کے طور پر کام کر رہے تھے جس کے تحت نیو کلیئر نظام کام کر رہا ہے۔ تیسرے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو 29 نومبر کو 2013ءکو آرمی چیف مقرر کرنے کا اعزاز بھی وزیراعظم نوازشریف کو جاتا ہے۔ جنرل راحیل شریف کل 29 نومبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں انہیں آرمی چیف مقرر کیا گیا تو سنیارٹی فہرست میں وہ تیسرے نمبر پر تھے۔ سب سے اوپر لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم سپر سیڈ ہونے پر قبل از وقت ریٹائر ہو گئے تھے۔ دوسرے نمبر پر جنرل راشد محمود کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنایا گیا تھا جو جنرل راحیل شریف کے ساتھ ہی ریٹائر ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر ہونے والے جنرل زبیر محمود حیات سنیارٹی میں پہلے نمبر پر ہیں۔ نامزد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مجموعی طور پر سنیارٹی لسٹ میں چھٹے نمبر پر تھے۔ دوسرے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین اور تیسرے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان کو کسی لڑاکا کور کی کمان کا تجربہ نہ ہونے کے باعث آرمی چیف کے لئے قابل غور نہیں سمجھا گیا۔ چوتھے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم، پانچویں نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے تھے۔ یاد رہے کہ ان تمام افسران کا تعلق 62 ویں لانگ کورس سے ہے اور لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اس فہرست کے آخر میں آتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل واجد حسین اور لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خاں ویسے بھی دو ماہ بعد 13 جنوری 2017ءکو ریٹائر ہو رہے ہیں لیکن لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد کے بارے میں اتوار کا سارا دن یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ وہ اگلے 24 گھنٹے میں اپنے عہدے سے قبل از وقت ریٹائر ہو رہے ہیں۔ تاہم لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے کے بارے میں جو اشفاق ندیم ہی کی طرح سپر سیڈ ہوئے ہیں ابھی تک خاموشی ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنے جونیئر کی ماتحتی میں سروس جاری رکھیں گے یا نہیں۔ ماضی کی روایات میں کورس میٹ آرمی چیف کی خواہش کے احترام میں سروس جاری رکھنے کی مثالیں بھی موجود ہیں جن کا تذکرہ ہم اوپر کر چکے ہیں۔ لہٰذا اگلے چند روز میں توقع ہے کہ نئے آرمی چیف نے اگر اپنے کورس میٹ جنرل جاوید اقبال رمدے سے یہ درخواست کی وہ اپنے فرائض ادا کرتے رہیں تو عین ممکن ہے کہ جنرل رمدے مان جائیں جن کا سابق جسٹس سپریم کورٹ خلیل رمدے، سابق اٹارنی جنرل چودھری محمد فاروق اور مسلم لیگی ایم این اے اسد الرحمان تینوں بھائیوں سے قریبی عزیز داری ہے تاہم یہ فیصلہ انہیں کرنا ہے کی تاریخ ریٹائرمنٹ 8 اگست 2017ءہے اور وہ چاہیں تو اس تاریخ تک فوج میں خدمات کو انجام دے سکتے ہیں۔

کل اہم ترین تقریب۔۔۔

راولپنڈی (این این آئی) پاک فوج کے سربراہ کی کمان نئے آرمی چیف کو سونپنے کیلئے باضابطہ تقریب 29 نومبر کو جی ایچ کیو میں ہوگی اس سلسلے میں اتوار کو جنرل ہیڈکوارٹرز میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف کی کمان کی تبدیلی کیلئے جی ایچ کیو میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ۔ بیان کے مطابق پاک فوج کے سربراہ کی کمان کی تبدیلی کے حوالے سے باضابطہ تقریب منگل 29 نومبر کو ہوگی۔

نئے آرمی چیف کی تقرری، امریکہ کا اہم بیان سامنے آگیا

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف تقرری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کی منتخب اور عسکری قیادت کے ساتھ کام کرتا رہے گا ، ہمسایہ ملکوں کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دینے کے عزم پر امریکہ پاکستان کی مدد کرتا رہے گا۔ اتوار کو اپنے ایک بیان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف تقرری خوش آئند ہے ، امریکہ پاکستان کی منتخب اور عسکری قیادت کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملکوں کے خلاف سرزمین استعمال نہ کرنے دینے کے عزم پر امریکہ پاکستان کی مدد کرتا رہے گا ۔ امریکی سفیر نے جنرل راحیل شریف کو مدت ملازمت کامیابی سے مکمل کرنے پر مبارکباد بھی دی ۔

عالیہ بھٹ اور شاہ رخ کی ڈیئرزندگی کا پہلے دن پونے 9 کروڑ کا بزنس

ممبئی(شو بز ڈیسک) بالی ووکنگ شاہ رخ خان اور عالیہ بھٹ کی فلم ڈیئرزندگی دنیا بھر میں ریلیز ہوگئی جب کہ فلم کا اسٹارٹ بہت ہی حوصلہ افزارہا۔ فلم نے پہلے دن پونے نو کروڑ روپے کا بزنس کیا ہے۔گوری خان، کرن جوہر اور ایس آر کی مشترکہ فلم ہے۔ شائقین نے فلم کے اسکرپٹ کو بہت سراہ رہے ہیں۔ یہ فلم ایک ناول سے ماخوز ہے۔ شاہ رخ خان کی وجہ سے فلم بیرونی ممالک کے سینماں میں بہت رش لے رہی ہے۔

نثار سن لیں ,ایسا بم پھاڑوں گا سب یاد رکھیں گے

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے )انصاف پروفیشنل فورم کے زیرِاہتمام ہیلتھ اور ایجوکیشن کے موضوع پر سیمینار مرکزی رہنماءڈاکٹر یاسمین راشد نے انعقاد کیا ، سیمینار کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور ان کی کابینہ وزیر تعلیم عاطف خان ،وزیر صحت شہرام ترکئی ، پبلک ہیلتھ کے منسٹر شاہ فرمان اور کے پی کے اسمبلی کے سپیکراسد قیصر نے شرکت کی ،چیف منسٹر پرویز خٹک نے اپنے خطاب میں کہاکہ پنجاب پولیس نے 30 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کی کابینہ اور ورکروں کے ساتھ بڑی زیادتی کی اور ان پر ظلم وتشدد اور آنسوگیس کے شیل پھینکے گئے ، انہوںنے کہاکہ ہم پنجاب کے وزیراعلیٰ کو چیلنج کرتے ہیں کہ جس طرح کے پی کے نے تعلیم ، ایجوکیشن اور پولیس میں ریفارمز کئے ہیں وہ بھی ایسا کرکے دکھائیں،انہوںنے کہاکہ ہم سی پیک منصوبے کے خلاف نہیں لیکن مغربی روٹ پر وفاقی حکومت کی طرف سے وعدہ خلافی پر برہم ہیں، پاکستان سب کا ہے صوبائیت کا بیج نوازشریف نے بویا ہے ، انہوں نے کہاکہ نوازشریف صرف اپنے بھائی شہبازشریف کے صوبے میں سب پروجیکٹ شروع کررہا ہے ، انہوں نے مزید کہاکہ کے پی کے کی گورنمنٹ نے جو ریفارمز کئے ہیں اس کے دور رس نتائج برآمد ہوںگے، ہم ایسے منصوبے شروع نہیں کرتے جو لوگوں کو نظر آئیں، پنجاب کے ددستوں کے پرزور اسرار پر بڑے پروجیکٹ شروع کررہے ہیں، جلد کے پی کے میں میٹرو کا پروجیکٹ شروع کیا جائے گا اور یہ پنجاب کے میٹروپروجیکٹ سے کم لاگت میںبنے گا۔ اس موقع پر تحریک انصاف کی مرکزی رہنماءعندلیب عباس نے کے پی کے میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے(presentaiton ) ویڈیوفلم دکھائی ، انہوں نے کہاکہ کے پی کے میں گورنس میں 25 میں سے 18 شعبوں میں پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کو پیچھے چھوڑ دیا ، خاص طور پر تعلیم اور صحت میں ، انہوں نے کہاکہ ورلڈ بنگ نے بھی اس کا اعتراف کیاہے کہ سب سے زیادہ ترقی کے پی کے کی گورنمنٹ کی ہے ۔خیبرپختوانخوا کے سیکرٹری ایجوکیشن عاطف نے کہاکہ ہماری گورنمنٹ سے پہلے سرکاری سکول خستہ حال تھے اور معیار تعلیم کا بُرا حال تھا ، سکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کے لئے فرنیچر تک نہ تھاہماری گورنمنٹ نے آ کر سکولوں کی حالت بہتر کی ہے اور معیار تعلیم پرائیویٹ سکولوں کے برابر لے آئے ہیں اورگورنمنٹ سکولوں کوانگلش میڈیم کیا ہے ، انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا واحدصوبہ ہے جہاں پرائیویٹ سکولوں سے بچوں نے گورنمنٹ سکولوں کا رخ کیا ہے، انہوں نے کہاکہ سرکاری سکولوںمیں 12ہزار ٹیچر بھرتی کئے ہیں ، سکولوں میںٹیچروں کی حاضری کو یقینی بنایا ہے ۔منسٹر ہیلتھ شہرام ترکئی نے کہاکہ ہسپتالوں کو بااختیار بنا دیا اور ڈاکٹروں کی تنخواہیں پنجاب کے ڈاکٹروں سے ڈبل کردی گئی ہیں، سپیکر اسد قیصر اور منسٹر پبلک ہیلتھ اسد قیصر نے کہاکہ سب سے زیادہ قانون سازی کے پی کے کی اسمبلی نے کی ہے ، صوبے میں صاف پانی کی سکیموں کا جال بچھایاجارہا ہے۔بعدازا ں تحریک انصا ف کے مرکزی رہنماءاعجاز چوہدری نے اپنی رہائشگاہ پر پرویزخٹک اور ان کی کابینہ کے اعزاز میں ٹی پارٹی کا اہتمام کیا جس میں پارٹی کے رہنماﺅں نے شرکت کی ۔اس موقع پر ایم این اے ساجدہ ذوالفقار ،عبدالعلیم خان، اعجازاحمدچوہدری ،میاں محمودالرشید، شعیب صدیق، میاں اسلم اقبال،ظہیرعباس کھوکھر، ولید اقبال، حماد اظہر، عمر چیمہ ، دیوان غلام محی الدین ، سعدیہ سہیل ، ڈاکٹر نوشین حامد معراج، جمشید چیمہ، مسرت چیمہ، فواد چوہدری، حافظ فرحت ، عائشہ چوہدری ، مراد راس ، چوہدری اصغر گجر، شنیلاروت ، طارق ثناءباجوہ ، عدنان جمیل سمیت دیگررہنماﺅں نے شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ایک بار پھر وفاقی وزیر داخلہ کو للکار دیا، کہتے ہیں چوہدری نثار خبردار رہیں، میرے پاس ایک بم ہے، ایسا بم پھاڑوں گا کہ یاد رکھیں گے، ملک میں ظالم اور ڈکٹیٹر کی حکومت ہے، پنجاب میں ادارے مغل بادشاہوں کے غلام بن گئے ہیں۔ پی ٹٰی آئی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دھرنا ملتوی کرنے پر تکلیف ہوئی، ہم انجوائے کررہے تھے، پٹاخوں سے گھبراتے نہیں، چوہدری نثار خبردار رہیں، میرے پاس ایک بم ہے، بم پھاڑوں گا تو وہ یاد رکھیں گے، پاکستان میں ظالم اور ڈکٹیٹر کی حکومت ہے، ہمیں روکا نہ جاتا تو پتا چل جاتا ڈکٹیٹروں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ملک میں آواز بلند کرنا سب کا حق ہوتا ہے، نظام تبدیلی کرنے کیلئے تعلیمی نظام بدلنا ہوگا، ہم نے آج کیلئے نہیں آنیوالے کل کیلئے کام کرنا ہے، ہمیں اس ملک کے بارے میں سوچنا ہوگا، کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔ پرویز خٹک کہتے ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب پولیس کا استعمال کرنا چھوڑ دیں، ادارے بااختیار نہیں ہوں گے تو عوام کی خدمت کے قابل نہیں رہیں گے، آج ادارے مغل بادشاہوں کے غلام بن گئے ہیں، محنت کش مغل باشاہوں کو نیچے گرا کر دکھائیں گے۔
لاہورا¿مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ایک بار پھر وفاقی وزیر داخلہ کو للکار دیا، کہتے ہیں چوہدری نثار خبردار رہیں، میرے پاس ایک بم ہے، ایسا بم پھاڑوں گا کہ یاد رکھیں گے، ملک میں ظالم اور ڈکٹیٹر کی حکومت ہے، پنجاب میں ادارے مغل بادشاہوں کے غلام بن گئے ہیں۔ پی ٹٰی آئی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دھرنا ملتوی کرنے پر تکلیف ہوئی، ہم انجوائے کررہے تھے، پٹاخوں سے گھبراتے نہیں، چوہدری نثار خبردار رہیں، میرے پاس ایک بم ہے، بم پھاڑوں گا تو وہ یاد رکھیں گے، پاکستان میں ظالم اور ڈکٹیٹر کی حکومت ہے، ہمیں روکا نہ جاتا تو پتا چل جاتا ڈکٹیٹروں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوری ملک میں آواز بلند کرنا سب کا حق ہوتا ہے، نظام تبدیلی کرنے کیلئے تعلیمی نظام بدلنا ہوگا، ہم نے آج کیلئے نہیں آنیوالے کل کیلئے کام کرنا ہے، ہمیں اس ملک کے بارے میں سوچنا ہوگا، کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔پرویز خٹک کہتے ہیں شہباز شریف! پنجاب پولیس کا استعمال کرنا چھوڑ دو، ادارے بااختیار نہیں ہوں گے تو عوام کی خدمت کے قابل نہیں رہیں گے، آج ادارے مغل بادشاہوں کے غلام بن گئے ہیں، محنت کش مغل باشاہوں کو نیچے گرا کر دکھائیں گے۔وزیراعلیٰ کے پی بولے کہ تبدیلی پر سوال کرتا ہوں، کہا جاتا ہے میگا پراجیکٹ بناو¿، جو کام پنجاب حکومت 1 سال میں کرتی ہے، ہم 5 ماہ میں کرتے ہیں، ہم نے اپنے صوبے کو ٹریک پر ڈال دیا ہے۔

دنیا کو بتاتی ہوں پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ہے

لاہور(شو بز ڈیسک) نامور گلوکارہ سائرہ نسیم نے کہا ہے کہ پاکستانی موسیقی جلد دلوں میں اتر جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری زبان نہ سمجھنے والے بھی اسے سن کر جھومنے پر مجبور ہو جاتے ہیں،پاکستان کے بارے میں منفی پراپیگنڈے کا تاثر زائل کرنے کےلئے بیرون ممالک جانے والے شوبز ، کھیلوں سے وابستہ شخصیات اور تاجروں کے وفود کو بھرپور سفارتکاری کے فرائض سر انجام دینے چاہئیں۔ ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ اگر آج دنیا میں میری کوئی پہچان ہے تو وہ پاکستان کی وجہ سے ہے اس لئے میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ بیرون ممالک دوروں میں پاکستان کا روشن چہرہ اجاگر کروں اور اس میں کامیاب بھی رہی ہوں ۔دنیا کو بتایا جائے پاکستان ایک پرمن ملک ہے اور دہشتگردی کا سبب بننے کی بجائے خود اس کا شکار ہے ۔ اس کے علاوہ ہمیں قانون کی پاسداری اور اپنے مثبت عمل سے بھی خود کو ایک اچھا پاکستانی ثابت کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت کرانے کے لئے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طو رپر پاکستان کی بہتری کےلئے کام کرنا ہوگا ۔

زیادہ معاوضہ مانگنے پرشردھا کپورکی “گول مال فور” سے چھٹی

ممبئی(شو بز ڈیسک )بالی ووڈ کی کامیڈی فلم “گول مال” نے نہ صرف باکس آفس پر بھی خوب بزنس کیا تھا بلکہ فلم بینوں کو بھی خوب محظوظ کیا تھا بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ ہدایتکارروہت شیٹھی کی جانب سے جب سے فلم “گول مال فور” بنانے کا اعلان کیا گیا تو اس وقت سے ہی مداح یہ جاننے کیلئے بے چین تھے کہ ہنسی کے اس طوفان میں اب کون سی اداکارہ ناظرین کومحظوظ کرتی نظر آئے گی۔ فلم کے ہدایتکارکی جانب سے شردھا کپورکومرکزی کردارکی پیش کش کی گئی تاہم اداکارہ کی جانب سے فلم کے لیے زیادہ معاوضے کا تقاضہ کیا گیا جس کے بعد روہت شیٹھی اورپروڈیوسراجے دیوگن نے شردھا شردھا کپورکی جگہ اداکارہ پرنیتی چوپڑا کو فلم میں کاسٹ کرلیا۔رپورٹس کے مطابق شردھا کپورکو فلم میں کردار ادا کرنے کے لیے ہدایتکار کی جانب سے ایک کروڑ کی آفرکی گئی تھی جب کہ اداکارہ نے ڈیڑھ کروڑروپے معاوضہ لینے کا مطالبہ کیا تھا جس کے باعث ان کی جگہ پرینیتی چوپڑا کو کاسٹ کرلیا گیا ہے۔واضح رہے کہ فلم “گول مال فور” کے معروف کردارتشارکپوراورارشد وارثی اپنے پچھلے کردارنبھاتے ہوئے دکھائی دیں گے۔

بسوں میں کیسٹوں سے لے کر ٹی وی سٹیشن پہنچنے کا سفر

بینجمن سسٹرز جب نئی نئی گلوکاری کی دنیا میں آئیں تب عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کی کیسٹوں نے میانوالی کی بسوں میں خاصی دھوم مچا رکھی تھی مگر ٹی وی والے ان کی پذیرائی نہیں کررہے۔ پھر ایسا ہوا کہ 1985ءمیں الحمرا ہال میں بینجمن سسٹرز اور عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کا ایک گرینڈ موزیکل شو ہوا جس کا ٹکٹ اس زمانے میں ایک ہزار روپے کا تھا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اس شو کو بینجمن سسٹرز کے پرستاروں سے زیادہ عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کے پرستار دیکھنے آئے اور شو کی مقبولیت دیکھ کر ٹی وی والوں کو بھی خیال آگیا اور انہوں نے عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کو کالی قمیض سمیت چھوٹی سکرین پر پہنچا دیا۔ میانوالی کی بسوں میں کیسٹوں سے لے کر ٹی وی سٹیشن تک پہنچنے کا یہ طویل سفر انہوں نے تیس برس میں طے کیا تھا۔ لالہ عطاءاللہ کو جب یہ واقعہ یاد دلا یا گیا تو وہ کہنے لگے جناب ثقافتی اداروں میں جو لوگ بیٹھے ہیں انہیں لال پیلی نیلی پریاں اچھی لگتی ہیں ان کے طفیل مجھ جیسے گائیکی کے مزدور کو بھی ٹی وی پر جگہ ملی گئی۔