لاہور(خبر نگار) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ (ن) لیگ کا کبھی احتساب نہیں ہوا آج پوچھ گچھ سے چیخیں نکل گئی ہیں،ہمیں پھانسیاں دی گئیں ،جیلوں میں ڈالا گیا، آپ کی تو انگلی تک نہیں موڑی گئی ، تخت رائیونڈ ایک بار پھر اداروں سے تصادم کی پالیسی پر چل پڑا ہے اورملک کو انارکی کی جانب د ھکیلا جا رہا ہے، نواز شریف نوے کی سیاست زندہ کر رہے ہیں۔یہ باتیں انہوںنے پیپلز پارٹی پنجاب کی تنظیم کی جانب سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کہیں ۔ اس موقع پر پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور احمد، سیکرٹری اطلاعات پنجاب مصطفی نواز کھوکھر، قائم مقام سیکرٹری جنرل سمیت مرکزی وصوبائی عہدیداروں اور جیالوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ بلاول بھٹو نے عید الفطر کے بعد عوام مہم کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام اور جیالوں کی طاقت سے پانامیوں اور سونامیوں کو شکست دیں گے۔ آپ کی پوچھ گچھ پر چھینکیں نکل رہی ہیں، فوٹو کیا آئی آپ نے آسمان سر پر اٹھا لیا، آج جب پہلی مرتبہ آپ سے حساب مانگا جا رہا ہے تو آپ دھمکیاں، گالیاں دےکر اداروں پر دباﺅ ڈال رہے ہیں میاں صاحب یاد رکھیں ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ہم نے ہمیشہ اداروں کا حکم مانا ہے اب آپ کو بھی ماننا پڑےگا آپ وزیراعظم رہتے ہو یا نہیں ، آپ کی حکومت رہتی ہے یا نہیں اب ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہم نظام کو پٹڑی سے نہیں اترنے دیں گے۔ آپ کی ہر سازش کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو جائیں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ میاں صاحب آپ ہمیشہ بچتے رہے اب بچ گئے تو عوام آپ کو نکال باہر کریں گے ۔شریف برادران کبھی ا سٹیبلشمنٹ سے معافی تو کبھی معافی نامہ لکھ کر باہر بھاگ گئے ۔شریف خاندان مشرف کے ساتھ معاہدہ کر کے چالیس سوٹ کیس اور ملازموں سمیت فرار ہو گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے میاں صاحب کہتے ہیں کہ بچے کو ایسے بٹھایا گیا جیسے اربوں کی کرپشن کی ہو ،جی ہاں میاں صاحب آپ نے ٹھیک کہا یہ اربوں کی کرپشن کا ہی معاملہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپ کے اس بچے پر ملک و قوم دولت لوٹنے کی ہی تحقیقات ہو رہی ہے جے آئی ٹی میں اٹھا رہ اور انیس گریڈ کے افسران وزیراعظم سے کیا تحقیقات کریں گے سپریم کورٹ کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی تضحیک کہنے والے یاد کریں ہم پر کیا کیا ظلم کئے تھے ۔ میاں صاحب اپنا دور یاد کرو ایک منتخب وزیراعظم کو جیل بھیجا تھا ، ایک خاتون بچوں کیساتھ گھنٹوں انتظارکرتی تھی، نتیجہ ان ججوں کو فارغ ہونا پڑا لیکن آپ کو ہاتھ بھی نہیں لگا، آپ کو یاد کرائیں کیسے ظلم کرتے تھے آپ کے حواری؟ کراچی میں آصف علی زرداری کی تحقیقات کےلئے زبان کاٹ دی گئی لیکن آپ کی انگلی بھی نہیں موڑی گئی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میاں صاحب کی حکومت ناکام ہو چکی ہے، آج بھی بدترین لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، آپ عوام سے جھوٹ سے جھوٹ بول رہے ہیں اگر 19 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہورہی ہے تو اتنی لوڈشیڈنگ کیوں ہے؟ ملتان میں ہر گھنٹے بعدبجلی بند ہورہی ہے اور لوگ بجلی کیلئے ترستے ہیں، غربت، مہنگائی اور روزگاری میں اضافہ ہوگیا ہے ، یہ واحد حکومت ہے جو امپورٹ بڑھنے پر خوش ہو رہی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عالم اسلام میں بھی ہماری کوئی حیثیت نہیں رہی ایک وقت تھا پاکستان کلیدی کردار ادا کرتا تھا لاہور میں بھٹو دور میں کانفرنس ہوئی اور تمام مسلم ممالک شریک ہوئے لیکن آج کوئی پوچھتا نہیں،انہیں فکر ہے تو حرام سے کمائی دولت کی اور جے آئی ٹی سے بچنے کی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کچھ انکل نے بے نظیر کو چھوڑا کچھ مجھے چھوڑ رہے ہیں مجھے ان کے جانے کا افسوس نہیں میری طاقت آپ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اذیتیں کاٹیں، ہمارے لوگوں پر تشدد کیا گیا، کوڑے کھائے،ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا حکم مانا، آپ کو بھی ماننا ہو گا،ہم سسٹم کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، چیئرمین پی پی نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی نہ پہلے کبھی ختم ہوئی تھی نہ اب ختم ہو گی، ہم سونامیوں اور پانامیوں کا مقابلہ کریں گے ، جیت ہماری ہو گی۔
نواز حکومت رہے نہ رہے, بیان نے ہلچل مچا دی

