Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ
    • * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات
    • قانون شکنی کرنیوالوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا: گورنر کے پی کے
    • فلائی دبئی ہائی جیکنگ، پائلٹ اسرائیلی ایئرپورٹ پر طیارہ ٹکرانا چاہتا تھا، یو اے ای
    • چکوال :کرولی میں جانوروں کی پراسرار بیماری نے سراٹھا لیا
    • کراچی، آٹزم سے متاثرہ بچوں کی مفت تعلیم اور تھراپی کا انتظام
    • پمز’ مریضوں کیلئے سہولتیں بڑھانے کا فیصلہ’ نئے شعبے’ خصوصی تعلیمی پروگرام شروع
    • اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ کی لاش ملنے کے معاملے میں مزید تلخ انکشاف
    • کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں کے اعلی سطحی اجلاس کے موقع پر زبیر موتی والا ،انجم نثار ، مرزا اختیار بیگ ،زکریہ عثمان ،حنیف گوہر ،یونس بشیر ،شیخ عمر ریحان ، فیصل معیز اور دیگر موجود ہیں
    • کراچی تباہ حال ،صنعتکاروں اور تاجروں نے شہر کو خطرناک قرار دیدیا
    • وزیراعلیٰ سندھ کل چین کے دورے پر روانہ ہوں گے
    • 5 اگست 2019کو کشمیر کی تقسیم سوچی سمجھی سازش تھیسردار عتیق احمد خان
    • مظفرآباد: وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی پاور ڈویلپمنٹ آف آرگنائزیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔
    • گولڈ میڈلسٹ لائبہ اعجاز کی موت، ہارورڈ میں داخلے کا جھانسہ دینے کا الزام
    • 1965کے تحت 2023 تک کے زیر التوا 86 فیصد مقدمات کے فیصلے
    • لمز میں فضائی آلودگی کے اسباب اور پھیلا پر تحقیق کیلئے نیا مرکز قائم
    • دو مزید واقعات میں 8 سالہ معصوم بچیوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کا انکشاف
    • سندھ حکومت کا آٹا 6روپے فی کلو سستا کرنے کا فیصلہ، ایکس مل قیمت 161 سے کم کر کے 155 روپے فی کلو مقرر
    • کراچی،ائیرلائنز کی آن لائن ٹکٹس بک کرنیوالی ایپلیکیشن پر جرمانہ عائد
    • راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں سنوکر کلبوں اور شیشہ سینٹرز کی بھرمار
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سوشل میڈیا پر بھارت کا نیا وار ،پاکستانی نوجوانوں کو پھانسنے کیلئے خوبرو ہندو لڑکیوں کا جال ڈال دیا :ضیا شاہد

    By Daily Khabrainدسمبر 29, 2017
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    zia shahid
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اپنی صحافتی زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں کہ ایک نااہل وزیراعظم عدلیہ کے خلاف تحریک چلانے جا رہا ہے۔ زرداری دور میںوزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیجا گیا۔ نہ تو انہوںنے اور نہ ہی ان کی پارٹی نے کوئی تحریک چلائی اور ”عدلیہ مخالف بیانات دیئے۔ ایک مرتبہ فاروق احمد خان لغاری جب صدر ہوتے تھے۔ نوازشریف صاحب وزیراعظم تھے۔ دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ جسٹس (ر) سجاد علی شاہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے ان کے پاس کچھ مقدمات لگے ہوئے تھے۔ جو کہ نوازشریف کے خلاف تھے۔ اس وقت لاہور سے کچھ لوگ اسلام آباد لے جائے گئے۔ ان لوگوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا اور جسٹس (ر) سجاد علی شاہ نے بھاگ کر دوسرے کمرے میں کنڈی چڑھا کر اپنی جان بچائی۔ جسٹس سجاد علی شاہ کے دو ساتھیوں نے کوئٹہ رجسٹری میں بیٹھ کر انہیں آﺅٹ کر دیا۔ لہٰذا انہیں گھر جانا پڑا۔ دو ایم این ایز طارق عزیز اور میاں منیر صاحب (جو اچھرے سے ایم این اے تھے) نے سپریم کورٹ پر اس حملے کی قیادت کی تھی۔ ان کے خلاف کیس چلا اور دونوں کو نااہل کر دیا گیا۔ لہٰذا ان کا سیاسی کیریئر بالکل ختم ہو گیا۔ موجودہ صورتحال میں ہمیں تحمل اور برداشت سے کام لینا چاہئے عدالتوں سے خلاف فیصلے آنے پر دوسری عدالتوں میں اپیلیں کرنی چاہئے۔ نظرثانی کی درخواست کرنی چاہئے۔ جب ملک کی اعلیٰ ترین کورٹس کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے وہاں نظام نہیں چل سکتے اب نوازشریف صاحب نے اپنی تحریک کو بدل کر ”عدل کی تحریک“ کا نام دے دیا ہے۔ انہوں نے بیان دیا ہے کہ عدلیہ کے خلاف نہیں چلیں گے۔ بلکہ ”تھنک ٹینکس“ بنائیں گے جو خراب قوانین کو درست کرے گا۔ ملک میں (ن) لیگ کی حکومت ہے۔ شاہد خاقان عباسی بھی نوازشریف ہی کے وزیراعظم ہیں میاں نوازشریف کے سعودی عرب چلے جانے کے بعد 8 سال تک چوہدری نثار علی خان نے لیڈر آف اپوزیشن کا کردار بڑی جرا¿ت اور ہمت سے نبھایا۔ وہ بھی بار بار کہتے رہے ہیں کہ عدلیہ کے خلاف تحریک نہ چلاﺅ۔ ظفر اللہ جمالی صاحب نے اس طرز عمل پر پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ لہٰذا (ن) لیگ کے اپنے اندر بھی ”ہاکس“ کی کمی نہیں ہے۔ لیکن قیادت یعنی نوازشریف صاحب ذہنی طور پر عدلیہ کے فیصلے کو قبول نہیں کر رہے وہ اب بھی پوچھتے ہیں ”کیوں نکالا“۔ مریم نواز نے 120 میں الیکشن مہم کے دوران اداروں پر بہت الزامات لگائے۔ اس طرح سعد رفیق بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ مسلم لیگ (ن) کا مزاج ہی ایسا ہے کہ قیادت کی مخالفت کرنے والا کوئی بھی نہیں ہوتا۔ بادشاہ کا جو حکم ملا اس کی تعمیل ضروری ہوتی ہے۔ دانیال عزیز اور طلال چودھری نے اسے ثابت بھی کر کے دکھایا۔ دانیال عزیز جو مشرف کے بھی وزیر تھے۔ نوازشریف کے آنے کے بعد ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ انہوں نے جی بھر کر اپنی بڑھاس نکالی، عمران خان کے متعلق تو انہوں نے اخبار نویس کو یہ کہہ دیا کہ وہ تیرا ”جوائی“ لگتا ہے۔ اس پر احتجاج ہوا طلال چوہدری اور دانیال عزیز پارٹی کے ”ہاکس‘’ ہیں۔ خواجہ آصف جب سے خارجہ کے وزیر بنے ہیں اب دھیمے ہو گئے ہیں۔ ایک اور بڑی تبدیلی آئی ہے۔ خواجہ سعد رفیق صاحب اٹھتے بیٹھتے بھٹو صاحب کی تعریف کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ دیگر ارکان بھی اب بینظیر شہید کی تعریف کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اب تاریخ نئے سرے سے لکھی جا رہی ہے۔ نیا انداز یہ ہے کہ بھٹو صاحب بالکل ٹھیک تھے۔ اور ضیاءالحق نے بالکل غلط کیا تھا۔ ضیاءالحق دور کے وزیراعلیٰ، وزیراعظم وزراءاب انہیں گالیاں دیتے نظر آ رہے ہیں۔ صحافیوں کو خصوصی طور پر بتایا جاتا تھا کہ آپ اسلام، عدلیہ اور فوج کے خلاف کوئی بات نہیں کر سکتے۔ فوج سپاہی کاحب الوطنی اور اپنے سپہ سالار کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے سپہ سالار کا حکم فوراً پورا کرتے ہیں لہٰذا فوج کے خلاف تنقید کو خلاف آئین تصور کیا جاتا ہے۔ نواز شریف آٹھ سال سعودیہ رہے۔ ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ اب بھی کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب، جس نے بے شمار دفعہ پاکستان کی مدد کی ہے۔ تیل کے ذریعے، تیل ادھار دینے کے سلسلے میں ہماری اکنامی کو بچایا ہے۔ وہ میاں شہباز شریف کے سلسلے میں ملک میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ایک اور این آر او کروا دیا جائے جس کے ذریعے نوازشریف پر تمام مقدمات کو ختم کروا دیا جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کو اسی مقصد کے لئے آگے لایا گیا ہے تا کہ وہ فوج اور عدلیہ کو بھی خوش رکھے۔ اور اپنی فیملی کے خلاف دائر مقدمات کو رفتہ رفتہ ختم کروانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ کوشش ہے کہ شہباز شریف سعودیوں کو راضی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ طیارہ بھیج کر بلوانے کا مطلب یہ لگتا ہے کہ انہیں طلب کیا گیا ہے۔ نیم عریاں لڑکیوں کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کو پھانسنے کا ”را“ کی نئی کارروائی ہے۔ ایک صحافتی حملہ نہیں ہے بلکہ سیاسی وار ہے۔ اس سارے عمل کے پیچھے ایک سازش چھپی ہوئی ہے۔ جتنی لڑکیوں کے نام اس میں سامنے آئے ہیں وہ سب کی سب ”ہندو نام رکھتی ہیں۔ان میں درج ذیل نام شامل ہیں۔مثلاًپائل پٹیل، پنکی کماری، ریکھا سنگھ، اینجل چاندنی، پریا سنگھ پریہار، سمن سسرا، ریشماں پروین، پوجا سنگھ، کاویتا سنگھ، پوجا گاﺅتھ، نیتوکماری، نیشا کماری، پٹیل شیتل، سنیتا کماری، دیوسینی، کانیکاورشے، سیرارانی، سنگھیتا وگھانی، سونو سونانی، ریتو شرما وغیرہ۔ سوشل میڈیا پر ایسی لڑکیوں کی روزانہ کی بنیاد پر 30,20 تصاویر آ رہی ہیں۔ تصاویر کے نیچے ای میل ایڈریس اور بعض کے ساتھ تو ٹیلی فون نمبر بھی لکھے ہوئے ہیں۔ 70ءاور80ءکی دہائی میں روس کی خفیہ ایجنسی کے بی جی نے لڑکیوں کے ذریعے جاسوسی کا نظام پھیلایا۔ روس سے 10 ہزار لڑکیاں ٹرینڈ کر کے افغانستان بھیجی گئیں۔ جو اہم لوگوں کو قابو کر کے ان کے بارے معلومات ماسکو پہنچاتی تھیں دوسری جنگ عظیم میں جاسوسی کے لئے سب سے زیادہ لڑکیاں استعمال کی گئیں۔ اٹلی کے ایک دانشور نے ”دی پرنس“ کے نام سے کتاب لکھی جس میں حکمرانی کے اصول لکھے۔ ضیاءالحق نے بھی ہر طریقہ اختیار کیا۔ پانچ دنوں تک ٹی وی پر کرکٹ میچ دکھایا جاتا رہا۔ تا کہ لوگ سیاسی معاملات سے دور رہیں۔جنرل مجیب الرحمن نے مجھے بتایا کہ یہ فوج کی پالیسی ہے کہ لوگوں کا دھیان دوسری طرف لگا دو۔ ”دی پرنس“ میں لکھا ہے کہ جب عوام بادشاہ کے خلاف ہو جائیں تو میلے ٹھیلے اور کھیلوں کا انعقاد کرو۔ تا کہ لوگ دوسری طرف متوجہ ہو جائیں اور سب کچھ بھول جائیں۔ بھارت ایک قدم آگے ہے۔ بھارتی گورو جس کا نام ”چانکیا“ تھا اس نے کتاب میں لکھا مخالف راجہ کے محل میں خوبصورت لڑکیاں داخل کر دو۔ کوشش کرو خوبصورت لڑکی راجہ کے بستر تک پہنچ جائے۔ پھر تمہیں راجہ کی ایک ایک بات معلوم ہوتی رہے گی۔ ”را“ کی کوشش فحاشی نہیں بلکہ ایک منظم سازش ہے۔ جو ننگ دھڑنگ لباس میں دوستوں کو مدعو کر رہی ہے۔ اور دوستی کرنے کے لئے دعوت دے رہی ہے۔ اگر پانچ دس ہزار ہی مرد اس طرف راغب ہو جاتے ہیں اور کچھ بھارت بھی ہو آتے ہیں۔ تو وہ اپنے رابطوں کے حساب سے 50 ہزار اور لاکھ تک پھیل جائیں گے اور آسانی سے ”را“ کے لئے مخبری کریں گے۔ عشق محبت اور چیٹنگ میں وہ سب کچھ بھلا دیں گے۔ یہاں بیٹھ کر وہ ”را“ کے ایجنٹ بن جائیں گے۔ اسی ”را“ نے 50 بلین بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لئے مختص کئے ہیں ہماری آئی ٹی نے ایک مرتبہ ”گوگل“ پر پابندی لگا دی تھی۔ آئی ٹی منسٹری کو اس معاملے کو فوری طور پر پکڑنا چاہئے۔ دنیا ہماری فوج اور آئی ایس آئی کو مانتی ہے۔ یہ بہت اہل اور سمجھدار لوگ ہیں اسے فوری طور پر ”بلاک“ کریں۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      قانون شکنی کرنیوالوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا: گورنر کے پی کے

      تازہ ترین

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      قانون شکنی کرنیوالوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا: گورنر کے پی کے

      ٹرمپ کے بجائے جج کو نوبیل امن انعام’ امریکا نے عالمی عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

      سائبیرین لیبارٹری واقعے پر جھوٹی معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، ماریہ زخارووا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.