یروشلم: اسرائیلی فوجیوں نے عید الاضحیٰ کی نماز کے اجتماع کو روکنے کے لیے مسجد اقصی رکاوٹیں کھڑی کردیں اور وہاں آنے والی مسلم خواتین کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے وقوف عرفہ کے اہم موقع پر اور آن لائن خطبہ حج سننے مسجد اقصیٰ آنے والے مسلمانوں کو زبردستی سے باہر نکال دیا جب کہ انتہا پسند یہودیوں کو اپنی رسومات کی ادائیگی کے لیے داخلے کی اجازت دیدی۔
انتہا پسندوں یہودی اسرائیلی فوجیوں کی ایماء پر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور اپنی عبادات ادا کیں حالانکہ فریقین نے طے کیا تھا کہ یہودیوں کو کمپاؤنڈ میں مذہبی اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی۔
فلسطینیوں نے معاہدے کے برخلاف یہودیوں کے کمپاؤنڈ میں مذہبی رسومات ادا کرنے پر اسرائیلی فوج سے شدید احتجاج کیا جس پر اسرائیلی فوج یہودیوں کو کمپاؤنڈ سے نکالنے میں ناکام رہی اور غصہ فلسطینیوں پر اتارا۔
اسرائیلی فوجیوں نے احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر ہینڈ گرنیڈ پھینکے، آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ہوائی فائرنگ کی۔ اس دوران اسرائیلی فوجیوں نے مسلم خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔
مصر کے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصی کے معاملات کو طے شدہ معاہدے کے تحت چلایا جائے اور یہودیوں کو کمپاؤنڈ میں عبادت سے روکا جائے۔مصر کے زیر انتظام مسجد اقصیٰ کے محکمہ اوقاف نے بھی واقعے پر شدید احتجاج کیا۔

