Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ’ڈیڈی‘ کیس: برطانیہ کی پاکستان کو ویزا پابندیوں کی دھمکی
    • عائزہ خان کا 90s کِڈز کے لیے پیغام ہم نے ChatGPT کے بغیر ڈگریاں مکمل کیں
    • ناروے نے فیفا ورلڈ کپ کی آمدنی غزہ کے انسانی امدادی کاموں کے لیے عطیہ کر دی
    • اسپین کے ابھرتے ہوئے فٹبال اسٹار لامین یا مال کا کہنا ہے :الحمد للہ، میں مسلمان ہوں“
    • یورپی یونین نے قطر کو بھی فضائی حفاظتی انتباہی فہرست میں شامل کر دیا
    • امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ دوبارہ شروع کر دیا
    • امریکہ-ایران تنازع بڑھ گیا، تیل کی قیمت 90 ڈالر کے قریب پہنچ گئی
    • پاکستان میں سونا سستا، قیمت 4.2 لاکھ روپے کی سطح پر آ گئی
    • لاہور کے سوزو واٹر پارک میں 9 سالہ بچی جاں بحق
    • مارکیٹ میں خوف و ہراس، پی ایس ایکس کو کئی ماہ کی شدید ترین مندی کا سامنا
    • تحقیق میں انکشاف: ویڈیو گیمز کھیلنا دماغی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے
    • روپے پر دباؤ برقرار، پاؤنڈ 360 اور یورو 315 روپے تک پہنچ گی
    • صنعا ایئرپورٹ پر حملے کے بعد حوثیوں کا سعودی عرب پر میزائل حملہ
    • ایف بی آئی چیف کاش پٹیل کی محسن نقوی سے ملاقات، پاک -امریکہ تعاون کو اہم قرار دیا
    • ایشین جوجِتسو چیمپئن شپ پاکستان کی شاندار کارکردگی ،2 گولڈ اور 2 سلور میڈلز حاصل کر لیے
    • ایرانی میزائل حملوں میں امارات کے دو تیل بردارجہاز متاثر، ایک بھارتی جاں بحق
    • فرانس نے شدید گرمی کی لہر کے باعث جوہری ری ایکٹرز بند کر دیے
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کو انقرہ میں ترکی کا اعلیٰ ترین سروس اعزاز سے نوازا گیا
    • 21 سال بعد 2005 زلزلے میں لاپتہ بچے کی لاش برآمد
    • کیلیان ایمباپے کا نیا ریکارڈ، 20 ورلڈ کپ گولز تک تیز ترین رسائی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    اداروں سے مستفید ہونے والے انہیں اپنا باپ بنالیتے ہیں، نگراں وزیراعظم

    By Khabrain Newsجنوری 2, 2024
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

     لاہور: نگراں وزیراعظم انوارالحق  کاکڑ نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں نظام عدل پر بڑے سنگین سوالا ت ہیں، ریاست کے چند اداروں سے مستفید ہوتے ہیں تو انہیں ابا کا درجہ دینا شروع کردیتے ہیں، اور جب مستفید نہیں ہوتے تو انہیں سوتیلا باپ بنالیتے ہیں۔

    بیکن ہاؤس  نیشنل یونیورسٹی لاہور میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے  نگراں وزیراعظم  نے کہا  کہ نوجوان قوم کا مستقبل ہیں انہیں قومی ترقی میں اپنا کردارادا کرنا ہے۔

    ایک طالبہ کے اس سوال کہ یوسف رضاگیلانی اور نوازشریف کی حکومت کے خاتمے یا قاسم کے ابا کی گرفتاری کےلیے عدالتیں رات میں کھول دی جاتی ہیں لیکن زینب مرڈر کیس اور  موٹر وے گینگ ریپ اور اسی  جیسے دیگر واقعات میں ایسا نہیں ہوتا، کے جواب میں  نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں نظام عدل پر بڑے سنگین سوالا ت ہیں اور جب تک  ہم ان  سوالات کے جوابات تلاش نہیں کریں گے یہاں کسی کا محفوظ رہنا مشکل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اصولوں کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے۔  قاسم کے ابا جب  وزیراعظم ہوتے ہیں تو انہیں حمید کی اماں نظر نہیں آتیں۔ ریاست کے چند اداروں سے مستفید ہوتے ہیں تو انہیں ابا کا درجہ دینا شروع کردیتے ہیں، اور جب مستفید نہیں ہوتے  تو انہیں سوتیلا باپ بنالیتے ہیں۔

    معیشت سے  متعلق  ایک سوال کے جواب میں  وزیراعظم نے کہا کہ تمام حکومتیں  چاہے وہ جمہوری ہوں یا آمرانہ دورحکومت ہو، ایک تسلسل کے ساتھ  ٹیکس  وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے  کہا کہ ہمارے ہاں 10  ہزار ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری  ہوتی ہے،جس پر قابو نہیں پاسکے۔

    انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ  یہ میں دستایزی معیشت کے حوالے سے بات کررہا ہوں، جو صرف 20  فیصد ہے جبکہ باقی 80  فیصد غیردستاویزی معیشت  ہے۔

    انہوں نے  کہا کہ  سب سے پہلے ٹیکس سسٹم ڈیولپ کرنا پڑے گا، ہم سب ایک آئیڈیل اسکینڈے نیوین ملک میں رہنے کی خواہش کرتے ہیں مگر وہاں جی ڈی  پی کے  لحاظ سے ٹیکس کا تناسب 91  فیصد  ہے۔  جبکہ ہمارے ہاں یہ شرح صرف 9 فیصد ہے۔

    انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ  نگراں وزیراعظم کے  طور پر مجھے فخر ہے کہ برسوں کے بعد  ہم نے گذشتہ  سہ ماہی میں اپنا ٹیکس  ہدف پورا کیا۔  اگر ہم یہ تین مہینے میں کرسکتے ہیں تو پھر دوسری حکومتیں کیوں نہیں کرسکتیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر یہ تین مہینے میں ہوسکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مستقل بنیادوں پر بھی ہوسکتا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہورہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے حکوموتی ڈھانچے میں سنگین خامیاں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ  ملکی آمدن اور اخراجات میں بہت زیادہ فرق ہے۔تعلیم صحت اور دیگر سہولیات کے لیے ٹیکسیشن کا مربوط نظام ناگزیر ہے۔

    اسموگ کی وجوہات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ  ماحولیات کے حوالے سے معاشرے  کو بھی اپنے رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، ہمارے ملک میں قوانین کا نفاذ تمام حکومتوں کا مسئلہ رہا ہے۔ معاشرہ خود  قوانین کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

    قوانین موجود ہیں مگر جب ان کا نفاذ کرتے ہوئے کسی کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر یہ شور شروع  ہوجاتاہے کہ اس کے شخص کے حقوق کی خلاف ورزی ہوری ہے۔  اور جب بھی قوانین کے نفاذ کی کوشش کی جاتی ہے تو انسانی حقوق کے گروپ سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔

    دیگر مسائل اپنی جگہ مگر معاشرے میں بھی قوانین کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ  ڈالنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب قوانین کے نفاذ کی سطح پر اسٹرکچرل مسائل بھی پائے جاتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ہمیں سول اسٹرکچرل  اصلاحات  اور بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

    فلسطینویوں سے اظہاریکجہتی  کے طور پر سال نو کے  آغاز کی تقریبات  پر پابندی سے متعلق  سوال کے جواب میں نگراں وزیرعظم نے کہا کہ اس فیصلے پر تنقید بھی ہوئی اور تعریف بھی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ  سال نو کی تقریب نہ منانے کا مقصد دنیا کو فلسطینیوں پر مظالم سے آگاہ کرنا تھا۔ فلسطین میں جاری خونریزی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ  اس فیصلے سے ہم نے مغرب پر واضح کردیا ہے کہ  ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں جن پراسرائیل ظلم ڈھا رہا ہے۔ ہم براہ راست اس جنگ میں ملوث نہیں ہیں اور نہ ہی میں چوبیس کروڑ عوام کو جنگ میں جھونکنے کا فیصلہ کرسکتا ہوں مگر ہم ہر فورم پر فلسطین کے لیے آواز اٹھارہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح یہ جنگ بند ہو۔

    انہوں نے کہا کہ  پاکستان کی عسکری قیادت نے بھی اس مسئلے پر امریکا سے بات کی ہے، ہم نے دنیا کو بتایا  ہے کہ فلسطین میں ظلم و تشدد سے ڈیڑھ ارب مسلمان اضطراب میں ہیں۔

    اسلام آباد میں بلوچستان سے آنےو الے مظاہرین کے حوالے سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ  پہلی بات تو یہ ہے کہ احتجاج قانونی حدود میں ہونا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت  کو قانون کا نفاذ کرنا  ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں مظاہرین کو قانون کے مطابق روکا گیا، ریاست تشدد کی اجازت نہیں دے سکتی۔  مظاہرین کی  جانب سے پتھراؤ یا حملے پر قانون اپنا راستہ اختیا کرتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ حراست میں لیے گئے تمام افراد کو رہا  کردیا گیا ہے۔

    نگراں وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نوجوانوں کو بیرون ملک ضرور مواقع تلاش کرنے چاہیئں۔ ہونہار نوجوانوں کا ملک سے جانا برین ڈرین  نہیں ہے بلکہ وہ  ہمار اثاثہ بن رہے ہیں۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      ’ڈیڈی‘ کیس: برطانیہ کی پاکستان کو ویزا پابندیوں کی دھمکی

      پاکستان میں سونا سستا، قیمت 4.2 لاکھ روپے کی سطح پر آ گئی

      لاہور کے سوزو واٹر پارک میں 9 سالہ بچی جاں بحق

      تازہ ترین

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      یورپ ‘اومیگا بلاک’ کی گرفت میں، عالمی ادارہ صحت نے 1,300 اموات کی سنگین حقیقت کا انکشاف کیا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.