Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Trending
    • اقوام متحدہ نے غزہ میں نسل کشی کرنے پر اسرائیل کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا، عرب میڈیا
    • مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
    • قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
    • سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
    • مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
    • آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
    • معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
    • صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • سنڈے میگزین
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Khabrain Group Pakistan
    Home»سائنس و ٹیکنالوجی»نظامِ شمسی کے آخری کناروں پر موجود فلکیاتی جسم پر زمین جیسا ماحول دریافت برفانی دنیا میں ایک حیران کن دریافت نے ماہرینِ فلک
    سائنس و ٹیکنالوجی

    نظامِ شمسی کے آخری کناروں پر موجود فلکیاتی جسم پر زمین جیسا ماحول دریافت برفانی دنیا میں ایک حیران کن دریافت نے ماہرینِ فلک

    Khabrain NewsBy Khabrain Newsمئی 5, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    نظامِ شمسی کے انتہائی دور دراز حصے، جہاں سردی اور خاموشی کا راج ہے، وہاں ایک نئی سائنسی دریافت نے ماہرینِ فلکیات کو چونکا دیا ہے۔ اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان دور افتادہ برفانی اجسام میں صرف پلوٹو ہی ایسا ہے جس کے گرد فضا موجود ہے، لیکن اب ایک نئے دریافت ہونے والے جسم نے اس تصور کو بدل دیا ہے۔

    فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ خبر خاص طور پر اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ کائنات کا ایک نیا باب کھولتی ہے۔ نیچر اسٹرونومی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ خلائی جسم، جسے (612533) 2002 XV93 کا نام دیا گیا ہے، نیپچون سیارے سے بھی آگے واقع ہے اور ان اجسام میں شامل ہے جنہیں ٹرانس نیپچونین آبجیکٹس کہا جاتا ہے۔

    اس کا قطر تقریباً 500 کلومیٹر ہے، جو پلوٹو اور ایریس جیسے بڑے اجسام کے مقابلے میں کافی چھوٹا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی فضا نہایت پتلی ہے، جو زمین کی فضا کے مقابلے میں لاکھوں گنا کمزور اور پلوٹو کی فضا سے بھی کئی گنا ہلکی ہے۔

    سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس فضا میں میتھین، نائٹروجن یا کاربن مونو آکسائیڈ جیسی گیسیں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس دریافت نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ اتنے چھوٹے اور سرد اجسام پر فضا قائم نہیں رہ سکتی۔

    رائٹرز کے مطابق ماہر فلکیات کواریماٹسو کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ نظام شمسی کے بیرونی حصے میں موجود یہ چھوٹے برفیلے اجسام اتنے ساکت نہیں جتنے پہلے سمجھے جاتے تھے۔ ان کے مطابق ان میں ایسے عمل جاری ہو سکتے ہیں جن کا ہمیں پہلے اندازہ نہیں تھا۔

    سائنسدانوں نے اس فضا کی موجودگی کی دو ممکنہ وجوہات بیان کی ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ اس جسم کے اندر سے گیسیں خارج ہو رہی ہیں، جیسے کہ برفانی آتش فشاں کے ذریعے، جس سے فضا برقرار رہتی ہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ کسی چھوٹے خلائی جسم کے ٹکرانے سے عارضی طور پر گیسیں خارج ہوئیں، جنہوں نے فضا بنا دی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فضا عارضی ہے تو آنے والے برسوں یا دہائیوں میں ختم ہو سکتی ہے، لیکن اگر یہ برقرار رہتی ہے یا موسم کے ساتھ بدلتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ اندرونی طور پر گیسوں کی فراہمی جاری ہے۔

    اس تحقیق کے لیے جاپان میں موجود زمینی دوربینوں کا استعمال کیا گیا۔ سائنسدانوں نے ایک خاص طریقہ اپنایا جس میں اس جسم کو ایک دور دراز ستارے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس دوران ستارے کی روشنی میں آنے والی تبدیلیوں سے اس جسم کی خصوصیات کا اندازہ لگایا گیا۔

    یہ خلائی جسم کوائپر بیلٹ نامی علاقے میں واقع ہے، جو نیپچون سے آگے پھیلا ہوا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تقریباً 4.5 ارب سال پرانا ہے اور نظام شمسی کی ابتدا کے زمانے کا حصہ ہے۔ یہ سورج کے گرد ایک بیضوی مدار میں گردش کرتا ہے اور ایک چکر مکمل کرنے میں اسے 247 سال لگتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اس کی ساخت میں برف، چٹانیں اور نامیاتی مادے شامل ہو سکتے ہیں۔ دریافت کے وقت یہ سورج سے تقریباً 5.5 ارب کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، جو زمین اور سورج کے فاصلے سے کئی گنا زیادہ ہے۔

    اگرچہ اس کا موجودہ نام کچھ زیادہ متاثرکُن نہیں، لیکن ماہرین کو امید ہے کہ مستقبل میں اسے کوئی بامعنی نام دیا جائے گا۔ اس دریافت نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کائنات میں کتنے ایسے راز ابھی باقی ہیں، جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں، مگر خاموشی سے اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Khabrain News

    Related Posts

    گوگل ماہرین کی ’زیرو-ڈے‘ ایکسپلائٹ سے متعلق تشویشناک رپورٹ پیش

    مئی 27, 2026

    موسم گرما کے دوران اے سی کو کس نمبر پر چلانا چاہیے؟ ماہرین کی رائے جانیں

    مئی 26, 2026

    لیتھیم اخذ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی تیار

    مئی 25, 2026

    Comments are closed.




    Facebook X (Twitter) Instagram Pinterest
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 ThemeSphere. Designed by ThemeSphere.

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.