Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Trending
    • مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
    • قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
    • سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
    • مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
    • آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
    • معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
    • صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
    • گوگل ماہرین کی ’زیرو-ڈے‘ ایکسپلائٹ سے متعلق تشویشناک رپورٹ پیش
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • سنڈے میگزین
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Khabrain Group Pakistan
    Home»سائنس و ٹیکنالوجی»سائنس دانوں نے پلاسٹک کی آلودگی کا حل مگرناشپاتی کی صورت ڈھونڈ نکالا
    سائنس و ٹیکنالوجی

    سائنس دانوں نے پلاسٹک کی آلودگی کا حل مگرناشپاتی کی صورت ڈھونڈ نکالا

    Khabrain NewsBy Khabrain Newsاپریل 5, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    میڈرڈ: دنیا بھر میں  پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی مقدار ایک سنگین ماحولیاتی خطرہ بن چکی ہے، سائنس دانوں نے اس خطرے کا حل مگر ناشپاتی کی صورت میں ڈھونڈ نکالا ہے۔

    اسپین کی گیرونا یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کوردوبا کے سائنس دانوں نے مگر ناشپاتی ( avocado )  کے درخت کے پتوں اور شاخوں سے پلاسٹک کا ماحول دوست نعم البدل تیار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

    کوردوبا یونیورسٹی کے کیمیکل انسٹیٹیوٹ فار انرجی اینڈ انوائرنمنٹ سے وابستہ  اسسٹنٹ پروفیسر ایدوردو اسپینوسا اور ان کے تین ساتھی محققین نے مگر ناشپاتی کے پیڑ  سے ٹوٹ کر   گرنے والے پتوں اور شاخوں میں بڑی مقدار میں پائے جانے والے سیلولوز کی نشاندہی کی۔ واضح رہے کہ سیلولوز نامیاتی فضلے ( بایو ماس) کا بنیادی جزو ہوتا  ہے۔

    سیلولوز، پیڑ پودوں میں پایا جانے والا بایوپولیمر ہے جسے فوڈ پیکیجنگ میں استعمال ہونے والے  مصنوعی میٹیریل جیسے پولی ایتھیلین کو پائیدار بنانے والے ریشوں کی تیاری میں کام میں لایا جاسکتا ہے۔

    جہاں  پولی ایتھلین خوراک کو تازہ اور آلودگی سے محفوظ رکھنے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے، وہیں اس کی تیاری میں رکازی ایندھن ( فوسل فیول) کے استعمال سے ماحول کو نقصان پہنچتا ہے۔ تاہم پودوں سے حاصل  کیے گئے بایو ایتھانول سے اخذ کردہ پولی ایتھلین روایتی پولی ایتھلین کا ایک بہتر نعم البدل ہے۔

    پروفیسر ایدوردو اسپینوسا اور ان کے ساتھی مگرناشپاتی کی سوکھی شاخوں اور پتوں سے تیارکردہ ریشوں کو جزوی طور پر بایو پولی ایتھلین کی جگہ استعمال کرکے ایک ماحول دوست  فوڈ پیکیجنگ  تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

    محققین کے مطابق ان کی یہ  کامیابی  پلاسٹک کی آلودگی میں کمی اور غذائی صنعت کے مسائل کا ماحول دوست حل پیش کرنے کے سلسلے میں اہم پیشرفت ثابت ہوگی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Khabrain News

    Related Posts

    گوگل ماہرین کی ’زیرو-ڈے‘ ایکسپلائٹ سے متعلق تشویشناک رپورٹ پیش

    مئی 27, 2026

    موسم گرما کے دوران اے سی کو کس نمبر پر چلانا چاہیے؟ ماہرین کی رائے جانیں

    مئی 26, 2026

    لیتھیم اخذ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی تیار

    مئی 25, 2026

    Comments are closed.




    Facebook X (Twitter) Instagram Pinterest
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 ThemeSphere. Designed by ThemeSphere.

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.