Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Trending
    • اقوام متحدہ نے غزہ میں نسل کشی کرنے پر اسرائیل کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا، عرب میڈیا
    • مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
    • قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
    • سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
    • مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
    • آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
    • معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
    • صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • سنڈے میگزین
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Khabrain Group Pakistan
    Home»سائنس و ٹیکنالوجی»موت کے بعد انسانی جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ سائنس دانوں کے حیران کن انکشافات
    سائنس و ٹیکنالوجی

    موت کے بعد انسانی جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ سائنس دانوں کے حیران کن انکشافات

    Khabrain NewsBy Khabrain Newsمئی 4, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    انسانی موت کو عموماً ایک اختتام سمجھا جاتا ہے، لیکن سائنس ہمیں ایک بالکل مختلف اور حیرت انگیز زاویہ فراہم کرتی ہے۔ مشہور ماہرِ فلکیات نیل ڈی گراس ٹائسن کے مطابق، موت کے بعد انسانی جسم حقیقت میں ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ اپنی حالت تبدیل کر کے کائنات کے لامتناہی سفر کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ محض ایک حیاتیاتی انجام نہیں، بلکہ توانائی کی منتقلی کا ایک عظیم الشان عمل ہے۔

    اسی تناظر میں، مشہور امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ’ کی ایک حالیہ رپورٹ نے موت کے بعد انسانی وجود کے حوالے سے ایک نئی سائنسی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹائسن کا ماننا ہے کہ موت درحقیقت کسی ’غائب‘ ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ مادے کی وہ تبدیلی ہے جو کائنات کے مستقل ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ ان کے اس نظریے نے لاکھوں قارئین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہمارا وجود اس کائنات میں کتنا گہرا اور غیر فانی ہے، جہاں ہم فنا ہونے کے بجائے صرف اپنی شکل بدل کر کائنات کی وسعتوں میں بکھر جاتے ہیں

    انسانی وجود کے اس سفر کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے زندگی بھر جس جسم کی آبیاری کی، وہ موت کے بعد بھی بیکار نہیں جاتا۔ نیل ڈی گراس ٹائسن کی وضاحت کے مطابق، جب کسی جسم کو دفن کیا جاتا ہے، تو اس میں موجود توانائی ضائع ہونے کے بجائے ’ری سائیکلنگ‘ کے عمل سے گزرتی ہے۔
    جسم کے مالیکیولز مٹی میں موجود خرد بینی اجسام اور پودوں کے لیے خوراک بن جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہماری حیاتیاتی توانائی زمین کی ہریالی اور نئے جانداروں کی صورت میں دوبارہ زندہ ہو اٹھتی ہے۔

    دوسری جانب، احتراق یا جسم کو جلانے کا عمل اس توانائی کو ایک کائناتی وسعت عطا کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران جسم کی ذخیرہ شدہ توانائی حرارت میں تبدیل ہو کر انفراریڈ لہروں کی صورت میں کائنات کی طرف سفر شروع کر دیتی ہے۔

    ٹائسن اس بات کی ایک حیرت انگیز مثال دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو محض چار سال قبل جلایا گیا ہو، تو اس کے وجود کی لہریں اب تک زمین کے قریب ترین ستارے ’الفا سنٹوری‘ تک پہنچ چکی ہوں گی۔ یہ تصور ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم مرنے کے بعد بھی ستاروں کی روشنی اور خلا کی خاموشی کا حصہ بن جاتے ہیں۔

    یہ سارا عمل دراصل ”تھرمو ڈائنامکس کے پہلے قانون“ کی عملی تفسیر ہے، جس کی رو سے مادہ یا توانائی کبھی فنا نہیں ہوتی، بلکہ صرف اپنا روپ بدلتی ہے۔

    اس تصور میں ایک گہری فکر بھی پوشیدہ ہے۔ ہمارے جسم کے ایٹمز مٹی میں مل کر دوبارہ پودوں کا حصہ بنتے ہیں اور بالآخر خوراک کے ذریعے دوسرے جانداروں کے جسم میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم مر کر بھی کسی نہ کسی صورت میں اس کائنات کا مستقل حصہ رہتے ہیں۔

    ہماری ہستی مٹتی نہیں، بلکہ وہ زندگی کے ایک لامتناہی اور خوبصورت چکر میں شامل ہو کر کائنات کی وسعتوں میں بکھر جاتی ہے، یعنی سائنس کے مطابق موت دراصل اختتام نہیں بلکہ ایک تبدیلی ہے، جس میں انسان کسی نہ کسی صورت میں کائنات کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Khabrain News

    Related Posts

    گوگل ماہرین کی ’زیرو-ڈے‘ ایکسپلائٹ سے متعلق تشویشناک رپورٹ پیش

    مئی 27, 2026

    موسم گرما کے دوران اے سی کو کس نمبر پر چلانا چاہیے؟ ماہرین کی رائے جانیں

    مئی 26, 2026

    لیتھیم اخذ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی تیار

    مئی 25, 2026

    Comments are closed.




    Facebook X (Twitter) Instagram Pinterest
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 ThemeSphere. Designed by ThemeSphere.

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.