اسلام آباد: ملک میں پانی کے شدید بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دیامر بھاشا، مہمند، کرم تنگی اور نئی گاج ڈیمز پر تعمیراتی کام ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے بڑھتی ہوئی آبی ضرورت کے پیشِ نظر ان چاروں میگا پراجیکٹس کی جلد تکمیل کو اولین "قومی ترجیح” قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان نئے ڈیموں کے فعال ہونے سے پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت میں 80 لاکھ ایکڑ فٹ (8 MAF) سے زائد کا تاریخی اضافہ ہوگا۔ اس منصوبے کا سب سے کلیدی حصہ دیامر بھاشا ڈیم ہے، جو تنہا 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت پاکستان اپنی ضروریات کے لیے زیادہ تر تربیلا، منگلا اور چشمہ بیراج پر انحصار کر رہا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی طلب کی وجہ سے ان پرانے ذخائر پر دباؤ حد سے بڑھ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے نئے آبی ذخائر کی بروقت تعمیر کے لیے ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں۔
