امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران پر مزید فوجی حملے فی الحال روک دے گا کیونکہ ان کے بقول مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں کی مدد سے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ معاہدے کے بنیادی نکات طے پا گئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کا خاتمہ شامل ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل بھی اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی ٹرمپ سے رابطہ کر کے مزید فوجی کارروائی سے گریز اور سفارتی حل پر زور دیا، جس کے بعد امریکی صدر نے حملوں کو روکنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم، ایران کی جانب سے اس اعلان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، اس لیے معاہدے کی حتمی منظوری یا اس کی شرائط کی تصدیق ابھی باقی ہے۔

