لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) اعتکاف بیٹھنے والوں کو اللہ تعالیٰ روزہ قیامت عرشیں عظیم کے سائے میں اپنا مہمان بنائے گا۔ چینل ۵ کے پروگرام مرحبا رمضان میں علامہ ضیاءاللہ شاہ بخاری نے کہا ہے کہ اعتکاف کے معنی مخصوص نیت کے ساتھ اللہ کے گھر میں دنیاوی چیزوں کو ترک کر کے اس کے ذکر میں مشغول ہو جاتا ہے۔ اعتکاف بیٹھنا سنت مبارک ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج لوگوں نے اعتکاف کو بھی فیشن بنا لیا ہے جس مدرسے میں سحر وافطار کے انتظامات اچھے اور اے سی کی ٹھنڈک موجود ہو لوگ اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ اعتکاف کو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت عمل بنایا ہے اور محسوس آداب بنائے ہیں۔ دکھاوا تمام عمل اور نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے۔ نبی اکرم نے دکھاوے کو سختی سے منع کیا ہے۔ صحابہ کرام ریاقاری کو شرک اصغر کہتے تھے لہٰذا اعتکاف میں زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر اور نبی اکرم پر درود پڑھنا چاہیے۔ اعتکاف میں طاق راتوں کا آنا مسلمانوں کیلئے بہت بڑی خوشخبری اور خوش قسمتی ہے۔ اعتکاف میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے۔ نبی اکرم کی سنت پر چلتے ہوئے خلوص نیت سے آداب اعتکاف کو مدنظر رکھتے ہوئے دس روز عبادت کرنی چاہیے۔ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے انسان کا ہر لمحہ بہت عظیم ہوتا ہے۔ نعت خواں شاہد نذیر نے رسول اکرم کی شان مقبول میں مختلف نعتیں پڑھ کر مسلمانوں کا ایمان تازہ کر دیا۔ انہوں نے سرکار دوعالم کی شان میں اسلام کا نذرانہ پیش کر کے آغاز کیا۔
اے صادر مصطفی سے جا کہنا
غم کے مارے سلام کہتے ہیں
یاد کرتے ہیں آپ کو شام وسحر
دل ہمارے سلام کہتے ہیں
ایک اور نعت میں انہوں نے ہم گنہگاروں کی جانب سے نذرانہ پیش کیا۔
ہے دو جہاں تمہارے لیے
ہم آئے یہاں تمہارے لیے
اٹھے بھی وہاں تمہارے لیے
اعتکاف میں دکھاوے سے بچنا چاہئیے : علامہ ضیااللہ بخاری ، چینل ۵ کی خصوصی ٹرانسمیشن ” مرحبا رمضان “ میں گفتگو ، نعت خواں شاہد نذیر نے گلہائے عقیدت پیش کر کے سماں باندھ دیا

