سیاسی جماعتوں نے عام انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کا انتخاب مکمل کرلیا ہے۔باقی جماعتوں میں تو ٹکٹوں کی تقسیم کے مسائل نہیں تھے لیکن مسلم لیگ ن کو یہ اہم چیلنج ضروردرپیش تھا۔ن لیگ نے جو ڈیڑھ ماہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاسوں والی مشق کی اس کا مقصد ٹکٹ دینے کے فیصلوں سے زیادہ ٹکٹیں نہ دینے کے فیصلے کرنا زیادہ اہم تھا۔اگر تین ہزارلوگ ٹکٹوں کے خواہشمند تھے تو ان میں سے دوہزار کو انکار کرنا اورپھر ٹکٹ سے محروم رہ جانے والے یا ٹکٹوں کی خواہش پوری نہ ہونے والے لوگوں کا اپنے اپنے حلقوں میں ردعمل اور اس رد عمل کے اثرات جانچنا انتہائی اہم تھا۔مجموعی طورپر اگر ن لیگ کی طرف سے ٹکٹوں کی تقسیم کا جائزہ لیں تو فیصلوں میں پارٹی مفاد اوردانشمندی نظر آتی ہے۔گوکہ میڈیا کے لیے دانیال اور طلال کو ٹکٹ نہ ملنا ایک خبر اور بحث کا موضوع ضرور ہے لیکن ٹکٹ سے محروم رہ جانے والے ہرشخص کے لیے پارٹی کے پاس ایک معقول وجہ ضرور موجود ہے۔
دانیال عزیزکا معاملہ تھوڑا مختلف ہوسکتا تھا ۔ان کو ٹکٹ دے کر پارٹی اپنا وقاربہت بلند کرسکتی تھی لیکن دانیال کے معاملے میں چھوٹے دل کا مظاہرہ کیا گیا۔ہمارے ہاں قیادت میں کسی قسم کی الزام تراشی برداشت کرنے اور تنقید سننے کا رواج ہے نہ حوصلہ اس لیے دانیال کا پارٹی سے نکلنا طے تھا۔دانیال عزیز نے غلط موقع پر پارٹی کے خلاف محاذکھول لیا تھا۔ سب جانتے ہیں کہ مہنگائی کا اکیلا احسن اقبال ذمہ دار نہیں تھا لیکن دانیال اس کو اکیلا ذمہ دارثابت کرنے پر بضد تھے۔اور موقع اس لیے غلط تھا کیونکہ اس وقت ن لیگ کی سولہ ماہ کی حکومت خود ان کے لیے سیاسی وبال بنی ہوئی ہے ۔مہنگائی ہر انسان کا مسئلہ ہے اور ن لیگ اپنے یہ سولہ ماہ جو تباہی کا دور تھا اس کو بھول جاناچاہتی تھی لیکن دانیال عزیزگلے میں ڈھول باندھ کرمیڈیا پر ہی آگئے ۔ان کا یہ عمل ناقابل معافی اور ناقابل تلافی تھا۔میں نے اسی دن دانیال عزیز سے کہا تھا کہ آپ نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے اس سے آپ کے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا اور آپ کو ٹکٹ بھی نہیں ملے گا۔جانتے وہ بھی تھے کہ پارٹی احسن اقبال کے ساتھ کھڑی ہے اس لیے انہوں نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹکٹ نہیں ملے گا تومیرااللہ مالک ہے۔دانیال کے معاملے میں اگر پارٹی نے بڑا پن نہیں دکھایا تو دانیال نے بھی پارٹی کا خیال نہیں کیا ۔دونوں کا حساب اب برابر ہوچکا ہے ۔دانیال کے سامنے الیکشن لڑنے اور مسلم لیگ ن کو ہرانے کا بڑا چیلنج ہے۔ان کو حلقے کے عوام پر بھروسہ ہے تو ہم بھی دعا گوہیں نتیجہ آٹھ فروی کو آجائے گا۔
یہاں تک طلال کا مسئلہ ہے تو اس میں کسی کا بھی قصور نہیں ہے ۔اب یہ طلال کی قسمت ہی ٹھہری کہ عدم اعتماد کے وقت ان کے حلقے سے پی ٹی آئی کا ایم این اے منحرف ہوااورشہبازشریف سے تمام منحرف اراکین کو ٹکٹ دینے کی گارنٹی حاصل کی گئی ۔اب اگر طلال کے حلقے میں نواب شیر وسیر کو ٹکٹ نہ دی جاتی تو اس وعدے کی خلاف ورزی ہوتی جو سندھ ہاؤس میں جمع پی ٹی آئی کے اراکین سے کیا گیا تھا۔یہ طے بھی تھا اورآخر فیصلہ بھی یہی ہوا کہ اس حلقے میں ٹکٹ نواب شیر وسیر کو دیا گیا اورطلال چودھری سے معذرت کرلی گئی ۔طلال چودھری کی امیدمریم نوازاور نوازشریف تھے ان کو آخرتک یقین تھا کہ پارٹی ان کافیصلہ کرے گی لیکن پارٹی کوئی بھی ہو قیادت ایک حد تک ہی اکیلے فیصلے کرتی ہے ۔عمومی طورپر پارٹی کی مرکزی اسٹیبلشمنٹ ہی کے فیصلے چلتے ہیں ۔یہاں بھی ن لیگ کی مرکزی اسٹیبلشمنٹ اس گارنٹی کا حصہ تھی جو نواب شیر وسیر کو دی گئی تھی۔اس میں رانا ثناللہ مرکزی ضامن تھے اورشہبازشریف نے اس وعدے پر عمل کرنا تھا ۔ایسی صورت میں طلال چودھری کتنا ہی ناگزیر ہوتا فیصلہ یہی ہونا تھا۔اس میں صرف طلال کی قسمت کا ہی دوش ہے کہ وہ اپنے حلقے سے ہارے ہوئے تھے اور جیتا ہوارکن منحرف ہوا۔
اب اس حلقے میں الیکشن لڑا جانا ہے۔ٹکٹ کے مسئلے پر طلال چودھری حلقے میں نواب شیر وسیر کو کافی لعن طعن کرچکا ہے۔اس کی ٹیم نواب شیر وسیر کو لوٹا کہہ کر مہم چلا چکی ہے۔اب آگے الیکشن جیتنا نواب شیر وسیر کا امتحان ہوگا لیکن ان کے اپنے برادری کے کافی ووٹ اس حلقے میں ہیں اور سٹی جڑانوالہ میں نواب شیر وسیر نے ترقیاتی کام بھی کروارکھے ہیں جو ان کو فائدہ دیں گے۔اچھا کام یہ ہواکہ طلال کو منا لیا گیا ہے اور ان کا ردعمل دانیال والا نہیں آیا ۔ان کو کیسے منایا گیا یا خاموش کرایا گیا اس میں ایک تو ان کو سینیٹ میں لے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے ساتھ ہی یہ چانس بھی ہے کہ لاہور کے حلقوں سے ن لیگ کی مرکزی قیادت لڑرہی ہے اگر مریم کا فیصلہ پنجاب میں رہنے کا ہوتا ہے تو طلال کو لاہور سے ضمنی الیکشن میں جگہ دیجاسکتی ہے۔اس کے علاوہ حلقے میں صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستیں طلال چودھری کی خواہش پر ہی دی گئی ہیں۔ ایک صوبائی اسمبلی کی نشست پر ان کے والد کو ٹکٹ دے دیا گیا ہے اور دوسری پر ان کے حمایت یافتہ خان بہادر ڈوگر کو ٹکٹ دے دیا گیاہے۔گوکہ خان بہادرڈوگر بھی پہلے پی ٹی آئی میں ہی تھے ۔دھرنے کے دوران انہوں نے وہاں اسلام آباد میں تندورلگاکر دھرنے والوں کی خدمت کی تھی اور اس خدمت کے بدلے گزشتہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے خواہشمند تھے لیکن اس الیکشن میں ان کو ٹکٹ دینے کی بجائے مالکان کے حکم پرق لیگ سے منحرف ہوکر پی ٹی آئی میں آنے والے چودھری ظہیرالدین کو اس حلقے میں ٹکٹ دے دیا گیا تھا ۔خان بہادر پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے محروم رہنے کے بعد بنی گالا میں ٹکٹیں نہ ملنے والوں کے ساتھ احتجاج کرنے بھی گئے تھے لیکن فائدہ نہیں ہوا تھا اس کے بعد وہ پارٹی سے ناراض ہوکر آزاد الیکشن میں کود گئے تھے لیکن صرف چند ہزار ووٹ ہی حاصل کرپائے تھے۔ اس کے بعد وہ طلال چودھری کے کیمپ میں ان کے ساتھ آگئے اور اس بار ن لیگ کے ٹکٹ کے امیدوارتھے ۔پارٹی نے طلال کو منانے کے لیے صوبائی اسمبلی کے دونوں ٹکٹ ان کی نامزدگی پر دے کر اس معاملے کو حل کرلیا ہے۔
اسی حلقے کے ساتھ والے حلقہ این اے 97میں ن لیگ کا ٹکٹ علی گوہر بلوچ کو دینے پر ان کی بھابھی عائشہ رجب بلوچ ناراض ہیں اور انہوں نے آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا گیاہے ۔اس اعلان کے بعد اس حلقے میں بلوچ ووٹ تقسیم ہونے کا امکان ہے۔یہ حلقہ استحکام پاکستان کے ہمایوں اخترخان کے آنے کی وجہ سے اہمیت اختیار کرگیا ہے۔اس حلقے میں پیپلزپارٹی کا ووٹ بھی موجود ہے۔اس حلقے میں دوہزار تیرہ میں عائشہ رجب کے خاوند رجب علی بلوچ کامیاب ہوئے تھے ۔ دوہزار اٹھارہ میں الیکشن شیڈول کے دوران ہی رجب بلوچ کا انتقال ہوگیا تو اس حلقے میں الیکشن ملتوی ہوگئے ۔ن لیگ نے رجب بلوچ کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ عائشہ رجب کو ن لیگ نے مخصوص نشست پر ایم این اے بنادیا۔اس حلقے میں بعد میں جو الیکشن ہوا اس میں ن لیگ نے رجب بلوچ مرحوم کے بھائی علی گوہر کو ٹکٹ دیا ۔علی گوہر نے پی ٹی آئی کی حکومت بننے کے بعد اس حلقے میں کامیابی حاصل کی اور اسمبلی پہنچ گئے۔عائشہ رجب اسمبلی دورانیے کے دوران کچھ تنازعات کا شکار ہوئیں۔ پارٹی ا ن سے راضی نہیں تھی تو اس مرتبہ ان کو مخصوص نشست کے لیے بھی نامزد نہیں کیا اور ٹکٹ بھی دوبارہ علی گوہر کو دے دیا اس پر وہ ناراض ہیں ۔میرے خیال میں اس حلقے کا ٹکٹ علی گوہر کو ہی دیاجانا چاہئے تھا جوکہ پارٹی نے درست اور زمینی حقائق کے مطابق فیصلہ کیا لیکن عائشہ رجب کو قومی اسمبلی میں نہیں تو کم از کم صوبائی اسمبلی کی مخصوص نشست کی لسٹ میں جگہ دینی چاہئے تھی تا کہ وہ خاموش رہتیں ۔ویسے ان کا گلہ یہ ہے کہ قیادت نے ان سے رابطہ بھی نہیں کیا ورنہ وہ آزادلڑنے کا اعلان نہ کرتیں ۔چلیں ممکن ہے اب پارٹی ناراضگی ختم کرنے کے لیے ان سے رابطہ کرلے۔
لاہور میں مریم اور نوازشریف کے آنے سے پہلے لڑنے والے جن میں علی پرویز ملک اور حید عالم ٹکٹوں سے محروم رہے ہیں۔اسی طرح علیم خان اور عون چودھری سے ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ملک ریاض اور خواجہ احمد حسان بھی ٹکٹ سے محروم رہے ہیں ،باقی کھوکھربرادران لاہور میں سب سے زیادہ نوازدیے گئے ہیں ۔لاہور میں جو ٹکٹوں سے محروم ہوئے ہیں ان میں سے بھی کسی کو کوئی ایشو نہیں ہے اس لیے یہاں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔بلاول کے مقابلے میں شائستہ پرویز کی جگہ عطاتارڑ کو لاکر بھی بہتر فیصلہ کیاگیا ہے۔

