لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ نگار ناصر نقوی نے کہا ہے کہ جمہوری عمل مکمل ہونے کی سب سے زیادہ خوشی فوج کو ہوئی کیونکہ ماضی میں انہی پر الزامات لگتے تھے ملک کی 70 سالہ تاریخ میں فوج کی سیاست میں مداخلت اگل رہی ہے اور فوج کو شب خون مارنے کی دعوت بھی سیاستدان رہتے رہے ہیں پاکستانی انتخابات میں فوج پر مداخلت کا الزام نیا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام صرف کرپشن اور ملک کا لوٹا ہوا مال واپس لانے کی بات کر رہے ہیں۔ گزشتہ 40 سال سے ملک پر قابض گروپ نے ملک میں ایسی تباہی مچائی ہے جسے ٹدی دل فصل پر حملہ کرتا ہے۔ عوام دودھ کا دودھ پانی کا پانی چاہتا ہے۔ آنے والے انتخابات میں انٹرنیشنل میڈیا پر نظر رکھی جانی چاہیے وہ عوام کو مس گائیڈ نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں 70 فیصد لوگ ووٹ نہیں ڈالتے اس نظام کو پارلیمنٹ نے درست کرنا ہے مگر سیاسی جماعتوں میں خود جمہوریت نہیں ہے۔ ناصر نقوی نے مزید کہا کہ ملک کو ڈیم کی اشد ضرورت ہے مگر حکومتوں نے قوم کو ڈیم فول بنایا اور پوری قوم کےساتھ مذاق کیا۔ اب انہیں حساب دینا پڑے گا قوم بدھو نہیں بنے گی۔ جیساکہ شہباز شریف نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔ ریحام خان کی متنازعہ کتاب کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کتابیں وہی شہرت حاصل کرتی ہیں جو لکھی نہیں لکھوائی جاتی ہیں۔ ریحام خان کی کتاب پلان کی گئی سازش ہے۔ الیکشن کے دنوں میں عمران خان کو نقصان پہنچانے کے لیے اور پاکستان میں سازشیں سی آئی پیٹا گون امریکہ اور لندن سے ہوتی ہیں پروگرام می شریک کالم نگار وتجزیہ کار علی جاوید نقوی کا کہنا تھا کہ عوام مسائل کے انبار میں راحیل شریف کی طرح عمران خان میں نجات دہندہ دیکھ رہے ہیں۔ جعلی اکاﺅنٹ بنا کر افغانستان اور بھارت سوشل میڈیا پر انتخابات کے وقت میں پرایوگنڈا کی بات فوج نے کی ہے اور اس سے قبل فیس بک کے بانی امریکی کانگریس کمیٹی میں کہہ چکے ہیں کہ فیس بک پاکستانی انتخابات پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں الیکشن ملتوی کروانے کی بات کرنیوالوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے نوازشریف اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے لوڈشیڈنگ کے جن کاملبہ نگران حکومت پر ڈال رہے ہیں جبکہ ذمہ دار دعوے کرنے والے شاہد خاقان عباسی ہیں مگر (ن) لیگ ایسا پراپیگنڈہ کررہی ہے کہ جھوٹ بھی سچ لگنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ بیچ کر ایک ارب اکٹھا کرلیا ہے۔ پارٹیاں بدلنے والے کونسی تبدیلی لائینگے۔ سینئر تجزیہ نگار میاں حبیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اندرونی اور خطے کی صورتحال پاک فوج کا بنیادی کردار ہے اور رہیگا۔ سیاسی قائدین نقصان پہنچانے اور فائدہ اٹھانے کے لیے فوج کا نام استعال کرتے ہیں۔ قوم مشکل صورتحال میں فوج اور عدلیہ پر اعتماد کرتے ہیں اور سیاستدان بھی الیکشن فوج کی نگرانی میں چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ الیکشن قوم کی دانش کا امتحان ہیں۔ بدقسمتی سے روٹی کپڑا اور مکان پر الجھے 5سال دینے والے لوگ ایک پلیٹ بریانی آٹے گھی کے ڈؓبے پر بک جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5سال میں گونگے بہرے اسمبلی میں ایک لفظ نہ بولنے والے ممبران اسمبلی سے حرام پیسے کمائے ہیں۔ ضیا شاہد صاحب نوازشریف کے حوالے سے اہم تحریر لکھ رہے ہیں جو پڑھنے کے قابل ہے۔ قوم کو ایسے حکمران و ارکان چاہیئں جو سیاست میں کردار ادا کریں۔ حالات بدل چکے ہیں۔ حساب دینا پڑیگا۔ تجزیہ نگار مریم ارشد نے کہا کہ پاک فوج جاگتی ہے تو قوم چین کی نیند سوتی ہے۔ جمہوریت بیلٹ بکس سے آگے نہ آئی تو کیسے رائج ہوگی۔ ملک میں بحران کی کیفیت ہے ہماری 60فیصد معیشت کالا دھن ہے ٹیکس ادا نہ کرنیوالے ان لوگوں کا حساب لینا ہے۔ 20,15ہزار کمانے والے کا گھر نہیں چلتا ٹیکس کیسے دے۔ نوازشریف نے ملکی خزانے میں کچھ نہیں چھوڑا کہ بجلی فراہم کرنیوالی کمپنیوں کو دیا جائے۔ اور شہبازشریف نے رات 12بجے لوڈشیڈنگ کی ذمہ داری سے انکار کا بیان دیدیا۔ انہوں نے کہا سوشل میڈیا پر ریحام خان کی کتاب پر عمران خان کے لوگ انہیں مس گائیڈ کررہے ہیں۔ ریحام خان کی کتاب امیدوں کے ڈرائنگ روم میں ڈسکس ہوگی۔
ریحام کی کتاب سازش ، منصوبے امریکہ ، لندن بنتے ہیں : ناصر نقوی ،پاکستان کی اندرونی ، خطے کی صورتحال میں پاک فوج کا کردار ہے اور رہے گا : میاں حبیب ، عوام راحیل شریف کیطرح عمران کو نجات دہندہ دیکھ رہے ہیں : علی جاوید نقوی ،سابق حکمرانوں نے ملک میں بحران پیدا کیا : مریم ارشد چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

