چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے استعفٰی دے دیا

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) چیئرمین نجم سیٹھی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔اپنے ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے اپنے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نئے وزیراعظم کے حلف لینے کا اانتظار کر رہا تھا۔اپنے استعفے میں انہوں نے پی سی بی اور پاکستان کرکٹ کیلئے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔خیال رہے کہ جیو نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ بطور وزیراعظم عمران خان بورڈ کے سرپرست اعلیٰ ہیں اور اگر وہ اپنے کسی شخص کو پی سی بی میں لانا چاہتے ہیں تو مجھے اشارہ کردیں میں استعفیٰ دے دوں گا۔انہوں نے کہا تھا کہ نیا چیئرمین مقرر کرنا، پیٹرن ان چیف کا استحقاق ہے۔جس دن تبدیلی کا اشارہ ملا پی سی بی کو خیر باد کہہ دوں گا، نجم سیٹھیجب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا آپ عمران خان کے آنے کے بعد چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے تو انہوں نے انتہائی محتاط انداز میں کہا تھا کہ ‘میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی ذات کی خاطر عدم استحکام اور انتشار سے دوچار نہیں کرنا چاہتا، اگر مجھے عمران خان یا ان کے کسی بھی مشیر کی جانب سے یہ اشارہ مل گیا کہ وہ مجھے چیئرمین کی حیثیت سے نہیں دیکھنا چاہتے اور اپنا آدمی لانا چاہتے ہیں تو میں از خود پاکستان کرکٹ بورڈ کو خیر باد کہہ کر گھر چلا جاو¿ں گا’۔نجم سیٹھی نے کہا تھا کہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاو¿ں گا جس سے پی سی بی کو نقصان ہو، کرکٹ سے میری روزی روٹی وابستہ نہیں ہے، میں ٹی وی پر اپنا شو بھی شروع کرسکتا ہوں، میں نے کوئی کوئی غلط کام نہیں کیا ہے کہ گھبراو¿ں۔احسان مانی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا سربراہ مقرر کیے جانے کا امکان2013 کے عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی تو نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے نجم سیٹھی کو کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری سونپ دی گئیں جو ان عام انتخابات کے موقع پر پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی سی بی میں چیئرمین کا عہدہ خالی ہوتا ہے تو قائم مقام چیئرمین کا عہدہ پی سی بی کے الیکشن کمشنر کو مل جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نجم سیٹھی کی جگہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سابق صدر احسان مانی کو پی سی بی کا چیئرمین مقرر کیا جاسکتا ہے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے۔

2 سال بعد رومن رینز کا خواب پورا

نیویارک(ویب ڈیسک) ڈبلیو ڈبلیو ای کے مقبول ترین ریسلرز میں سے ایک رومن رینز نے آخر کار 2 سال بعد چیمپئن بننے کا خواب دوبارہ پورا کرلیا۔رومن رینز ریسل مینیا 33 میں ڈبلیو ڈبلیو ای ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن بنے تھے اور جون میں سیٹھ رولنز کے ہاتھوں شکست کے بعد اس سے محروم ہوگئے تھے۔اس کے بعد سے وہ ورلڈ چیمپئن شپ سے محروم تھے اور رواں سال اس مقصد کے لیے وہ بروک لیسنر کے ہاتھوں ریسل مینیا 34 اور سعودی عرب میں ہونے والے ایون گریٹسٹ رائل رمبل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔مگر گزشتہ شب ڈبلیو ڈبلیو ای کے ایونٹ سمر سلیم میں رومن رینز نے بروک لیسنر کو شکست دے کر ڈبلیو ڈبلیو ای یونیورسل ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔ڈبلیو ڈبلیو ای رومن رینز کی کامیابی کے لیے ڈیڑھ سال سے میدان بنانے میں مصروف تھی جس کا مقصد ریسلر کو جان سینا کی جگہ کمپنی کا نیا چہرہ بنانا ہے۔اس میچ کے آغاز پر منی ان دی بینک جیتنے والے برآن اسٹرومین بھی رنگ کے پاس موجود تھے اور انہوں نے اعلان کیا تھا کہ جو بھی میچ میں کامیابی حاصل کرے گا، وہ اس کے خلاف اپنا کنٹریکٹ کیش کروائیں گے۔تاہم میچ کے دوران ہی بروک لیسنر نے برآن اسٹرومین کو اپنے مخصوص دآ ایف 5 کا نشانہ بنانے کے بعد بریف کیس اٹھا کر دور پھینک دیا۔

ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کا فیصلہ آخر نئی حکومت نے کر ہی لیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی قرقی کیلئے برطانیہ کی عدالت سے رجوع کرنے اور پیسہ پاکستان لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کئی بڑے فیصلے کئے گئے جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز کا پیسہ وطن واپس لانے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز پاکستان کے عوام کی ملکیت ہیں اور آج کابینہ نے وزارت قانون کو ہدایت دی ہے کہ ان جائیدادوں کی قرقی کیلئے برطانیہ کی عدالت سے رجوع کریں اور ان کا پیسہ پاکستان لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے نیب کے وکیل شہزاد کبر کی زیر صدارت ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے اور اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔ اس ٹاسک فورس میں ایف آئی اے، نیب، سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، ایف بی آر، وزارت قانون اور وزارت خارجہ کے نمائندے شامل ہوں گے۔

اسد عمرکا وزیر خزانہ بننے کے بعد پہلا بیان ،قوم کے دل کی بات کہ دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجا گیا پیسہ واپس لانے کا حکم دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سوئس بینکوں میں کتنی رقم پڑی ہے کوئی علم نہیں، اسحاق ڈار نے چار سال پہلے بتایا تھا 200 ارب ڈالرز پڑے ہیں، دبئی میں پاکستانیوں کی 8 ارب ڈالرز کی جائیدادیں ہیں، وزیراعظم نے منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجا گیا پیسہ واپس لانے کا حکم دیا ہے، حکومت کی پہلی ترجیح بیرون ملک سے پیسہ واپس لانا ہے۔وزیرخزانہ کا کہنا تھاکہ ملازمین کی وجہ سے پی آئی آئی اے اوراسٹیل ملز تباہ نہیں ہوئی، پی آئی اے اور اسٹیل ملز سے کسی کوبے روزگار نہیں کررہے جب کہ وزیراعظم ہاو¿س میں 500 ملازمین ذاتی نوکری پر مامور تھے، اب یہ ملازمین عوام کی خدمات پرمامور ہوں گے، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، یہ پہلے سے طے ہوچکا ہے کہ اوورسیزپاکستانیوں کے لیے بانڈزجاری کریں گے، چند روز میں بانڈز کی حتمی منظوری دے دی جائے گی۔

سردار عثمان بزدار نے وزارت اعلیٰ کا حلف اُٹھا لیا

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد عثمان بزدار نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ,قائم مقام گورنر پنجاب چوہدری پرویز الہی نے ان سے حلف لیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے، اس موقع پر قائم مقام گورنر چوہدری پرویز الہی، نگراں وزیراعلی حسن عسکری اور رکن پنجاب اسمبلی علیم خان سمیت متعدد اراکین اسمبلی بھی گورنر ہاو¿س موجود تھے۔میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ قوم کا پیسہ قوم پر خرچ ہو گا، سرکاری وسائل کو امانت سمجھ کر دیانت داری سے خرچ کریں گے۔اس سے قبل عثمان بزدار اپنے عہدے کا حلف لینے کے لیے سرکاری گاڑی کے بجائے ذاتی گاڑی میں گورنرہاو¿س پہنچے۔واضح رہے عثمان بزدار پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزارت اعلی کے منصب کے لیے نامزد کیے گئے اور 186 ووٹ حاصل کر کے وزیراعلی منتخب ہوگئے، ان کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما حمزہ شہباز نے 159 ووٹ حاصل کیے تھے،وزارت اعلیٰ کے لیے ہونے والے انتخاب میں پاکستان پیپلزپارٹی نے کسی امیدوار کو ووٹ نہیں دیا، اس سے قبل وزارت عظمی کے انتخابات کے دوران بھی پیپلزپارٹی غیرجانبدار رہی تھی۔

شریف فیملی کی سزا کیخلاف دائر اپیلوں پر سماعت ،عدالت نے اہم فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے شریف فیملی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کی۔آج کی سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر عباسی نے اپنے دلائل مکمل کیے جس کے بعد عدالت نے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا۔دوران سماعت نیب نے مو¿قف اپنایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کیے اور عدالت عظمیٰ کے حکم پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی۔نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ لندن فلیٹس نیلسن اور نیسکول کے نام پر تھے، ہم نے دستاویزات سے ثابت کردیا کہ ان کمپنیوں کے مالک نواز شریف ہیں اور یہ فلیٹس انہی کی ملکیت میں ہیں جب کہ ان فلیٹس کی ملکیت ثابت کرنا نواز شریف کا ہی کام ہے۔نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ نواز شریف اور دیگر ملزمان کو جیل میں ہی رکھا جائے اور سزا معطل کرنے کی درخواست خارج کی جائے جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ابھی کوئی فیصلہ فریقین کو متاثر کرسکتا ہے، عام تعطیلات کے بعد یہ درخواستیں اپیل کے ساتھ سن لیتے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے مکالمے کے دوران کہا کہ آپ کو وہ مشورہ دیں گے جو آپ کے حق میں ہو، فیصلہ لکھتے ہوئے ہم نے وجوہات لکھنی ہیں، آپ کے فائدے میں ہے ان درخواستوں کو زیر التوائ رہنے دیں۔اس موقع پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ‘میرا نہیں خیال میرے دلائل حد سے بڑھے ہوئے ہیں، میرا بہت سادہ سوال ہے، آج میں یہ کہتا ہوں کہ یہ میرا اثاثہ ہے، اب قانون کی پوزیشن بہت سمپل ہے’۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ نیب کے قانون کے مطابق مقدمات فکس کرنے کے بعد فیصلہ دینا ہے، ہم سزا معطلی کی درخواستوں پر مناسب فیصلہ سنائیں گے۔بینچ میں شامل دونوں ججز نے مشاورت کی جس کے بعد عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔