تیونس سٹی: (ویب ڈیسک) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ صدر کی جانب سے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے پر ترک صدر طیب اردگان کا مذمتی بیان اندرونی معاملات میں دخل اندازی ہے جو ناقابل قبول ہے۔
عالمی میڈیا کے ماطابق اردگان نے تیونسی صدر قیس سعید کے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے حکم نامے کو جمہوریت مخالف عمل کہا تھا اور اسے تیونس کے عوام کی خودمختاری پر ’کاری ضرب‘ قرار دیا تھا۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ترک صدر کا یہ تبصرہ ملکی معاملات میں ناقابل قبول مداخلت ہے۔
وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ تیونس اپنے دوست ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کا حامی ہے لیکن ملک سے متعلق اپنے فیصلے کی آزادی پر قائم ہے اور اپنی خودمختاری میں کسی دوسرے ملک کی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔
تیونس کے وزیر خارجہ عثمان جیراندی نے ٹویٹر پر کہا کہ انہوں نے اپنے ترک ہم منصب سے بھی ٹیلی فون پر بات کی ترک سفیر کو طلب کر کے اپنے اردگان کے تبصروں کی مذمت کی۔
Trending
- اقوام متحدہ نے غزہ میں نسل کشی کرنے پر اسرائیل کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا، عرب میڈیا
- مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
- قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
- سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
- مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
- آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
- معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
- صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
