بھوپال: (ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست مدھیہ پریش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں کے خلاف احتجاج کی کوریج کرنے والے مقامی صحافیوں کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں تحویل میں لے کر ان کی نیم برہنہ کردیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے جس میں صحافی اور یوٹیوبر کی شرٹس اتار کر انہیں دیوار کے ساتھ لائن میں کھڑا کردیا گیا ہے۔
پولیس کے تشدد کا نشانہ بننے والے ایک مقامی صحافی اور یوٹیوبر نے بتایا کہ وہ مقامی بی جے پی ایم ایل اے کے خلاف احتجاج کی کوریج کرنے گئے تو کچھ پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی، مارا پیٹا اور شرٹس اتارنے پر مجبور کیا۔
مذکورہ واقعہ ہفتہ کو مدھیہ پردیش کے سدھی ضلع میں اس وقت پیش آیا جب صحافی بی جے پی ایم ایل اے کیدارناتھ شکلا شکلا اور ان کے بیٹے کیدار گرو دت شکلا کے خلاف جعلی فیس بک پروفائل کا استعمال کرتے ہوئے مبینہ نازیبا ریمارکس کرنے پر تھیٹر آرٹسٹ نیرج کندر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کی کوریج کرنے گیا تھا۔
صحافی کنشک تیواری نے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے کیمرہ مین کو گرفتار کیا گیا اور ان پر کئی دفعات کے ساتھ الزام لگایا گیا جس میں بے دخلی اور عوامی امن کو خراب کرنا شامل ہے۔ پولیس نے کہا کہ ’آپ ایم ایل اے کے خلاف نیوز کیوں چلا رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ متعدد صحافیوں کو 18 گھنٹے تک پولیس کی حراست میں رکھا گیا تھا، انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ہمیں 2 اپریل کو رات 8 بجے کے قریب حراست میں لیا اور 3 اپریل کو شام 6 بجے ہمیں چھوڑ دیا۔
Trending
- اقوام متحدہ نے غزہ میں نسل کشی کرنے پر اسرائیل کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا، عرب میڈیا
- مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
- قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
- سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
- مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
- آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
- معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
- صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
