Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • آسٹریا نے ایران کے محمد اسلامی کو ویانا آنے سے روک دیا
    • مکہ معاہدے میں ہم اضافی ذمہ داری لے رہے ہیں، مقصد امن و استحکام ہے: سیکرٹری خارجہ
    • سعودی عرب، نیوم بحران کا شکار’ منصوبہ محدود کرنے کیلئے 16ارب ڈالرز خرچ ہونگے
    • اپنے سرکاری ہسپتال پر عدم اعتماد ایڈمن افیسر کا نجی ہسپتا ل سے علاج
    • اپنے ہی سرکاری ہسپتال پر عدم اعتماد؟ ایڈمن افسر کا نجی ہسپتال سے علاج پبلک ٹرانسپورٹ میں کیو آر پینک بٹن لگانے کا عمل جاری
    • مدینہ منورہ میں یورینیم پر مشتمل 11 کروڑ ٹن معدنی ذخائر دریافت
    • سعودی عرب میں 1300 سال پرانی مسجد دریافت کرلی گئی
    • کراچی، پٹرولیم لیوی کیخلاف جماعت اسلامی کا اونٹوں پر سوار ہوکر انوکھا احتجاج
    • عمرہ زائرین ویکسی نیشن کے بغیر 25 ستمبر تک سعودی عرب جاسکیں گے
    • جماعت اسلامی کا احتجاجی دھرنا 30ویں روز میں جاری رہا
    • شہریوںکیلئے مشکلات پیدا کرنیوالوں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی:فیصل کامران
    • چیف سیکرٹری پنجاب کی چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم سے ملاقات
    • وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی صورتحال’صوبوں سے 23 ہزار 500 پولیس اہلکار طلب
    • مصری شاہ’ خفیہ اطلاع پر منشیات فروش گرفتار’ 2 کلو 160 گرام چرس برآمد
    • پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیلئے کارروائیاں تیز کر دیں
    • محکمہ داخلہ پنجاب میں کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا58واں اجلاس منعقد ہوا
    • عمرے کی آڑ میں گداگری کے لیے سعودی عرب جانے والا گینگ بے نقاب خاتون سمیت 2مسافر آف لوڈ
    • کراچی: خوف کی علامت گینگ وار کا اہم کارندہ گرفتار، بھاری مقدار میں منشیات اور اسلحہ برآمد
    • عمرقید کے مجرم کی اپیل پر ڈی جی پنجاب فرانزک معاونت کیلئے طلب
    • نشتر کالونی’60 سالہ شخص نے نامعلوم وجوہات پر خودکشی کرلی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پاکستان میں زہریلی مکڑیوں کی فروخت کا غیر قانونی دھندا جس میں کروڑوں روپے کا لین دین ہوتا ہے

    By Khabrain Newsجولائی 12, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور: (ویب ڈیسک) مارچ میں ایک شخص نے لاہور سے فون کیا اور 500 بلیک وڈو مکڑیوں کا آرڈر دیا۔ ہم نے کلرکہار میں ایک شکاری سے بات کی۔ اس نے کہا میرے پاس 200 موجود ہیں۔ لیکن قیمت ایک کروڑ روپے ہوگی اور ایڈوانس میں دینی پڑے گی۔‘
    فرمان اللہ (فرضی نام) پاکستان کے شہر پشاور سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک ایسے غیر قانونی کاروبار کا حصہ ہیں جس میں نایاب نسل کی مکڑیوں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔ انھوں نےنام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات چیت کی اور پاکستان میں وسیع پیمانے پر ہونے والے اس کاروبار کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
    پشاور کے 50 سالہ جان محمد (فرضی نام) بھی اسی کاروبار سے جڑے ہیں۔ وہ گذشتہ 10 برسوں سے بچھو اور نایاب نسل کی چھپکلیوں کے علاوہ حالیہ برسوں سے مکڑیوں کا غیر قانونی کاروبار بھی کر رہے ہیں۔
    انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کو بتایا کہ پاکستان بھر میں ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے جس میں پشاور، اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے بڑے بیوپاری نایاب نسل کی مکڑیاں خرید کر مہنگے داموں بیرون ملک بھجواتے ہیں۔
    محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں ایسے گروہ سرگرم ہیں جو بچھو اور چھپکلی کے علاوہ نایاب نسل کی مکڑیوں کی غیر قانونی خرید و فرخت میں ملوث ہیں۔
    بات کرتے ہوئے سینٹر سرکل پشاور کے کنزرویٹر افتخار زمان نے بتایا کہ ’چند دن قبل ایبٹ آباد میں نایاب نسل کی ٹرنٹولا مکڑی سمگل کرنے کی کوشش کرنے والے تین افراد کو گرفتار کیا گیا جن کو وائلڈ لائف ایکٹ 2015 کے تحت ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوا۔
    جان محمد کے مطابق پاکستان میں تین اقسام کی مکڑیاں ہیں جن میں بلیک وڈو، بلیک اور براؤن کی مانگ کافی زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مکڑیوں کو خیبر پختونخوا میں چترال اور مانسہرہ جبکہ پنجاب میں کلرکہار اور چکوال سے پکڑا جاتا ہے۔ ’اس کے علاوہ کشمیر اور بلوچستان کے ٹھنڈے علاقوں میں بھی نایاب نسل کی مکڑیاں پائی جاتی ہیں۔‘
    جان محمد نے بتایا کہ مکڑی کا ریٹ نسل، وزن اور لمبائی کے حساب سے طے کیا جاتا ہے۔
    ’100 گرام تک وزن ہو تو چار سے پانچ کروڑ روپے، 200 گرام اور چھ انچ لمبائی والی ہو تو اور بھی زیادہ قیمت مل سکتی ہے۔ لیکن اتنے بڑے سائز کی مکڑیاں بہت کم مقدار میں شکاریوں کے ہاتھ آتی ہیں۔ اگر کوئی ان کو پکڑ بھی لے تو اُن کو لے جانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ جگہ جگہ سکیورٹی چیک پوسٹ ہوتی ہیں۔‘
    اُن کے بقول دو سے ڈھائی انچ اور 20 سے 30 گرام تک کی مکڑی پانچ لاکھ روپے جبکہ انتہائی چھوٹے سائز کے لیے 10 سے 15 ہزار روپے مل جاتے ہیں۔
    جان محمد کے مطابق لوگ زیادہ تر چھوٹے سائز کی مکڑیاں خرید کر کچھ عرصے کے لیے ڈبوں میں رکھ کر مخصوص درجہ حرارت میں پالتے ہیں اور ان کی خوراک کے لیے مارکیٹ سے کیڑے خریدے جاتے ہیں۔
    ’نایاب نسل کی مکڑیوں کے لیے گرم آب و ہوا بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے جب ان کو سرد علاقوں سے گرم علاقوں میں لایا جاتا ہے تو بیوپاری ٹھنڈے ماحول کا انتظام رکھتے ہیں۔
    یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ مکڑیوں کے اس غیر قانونی کاروبار کے پیچھے اصل عوامل کیا ہیں لیکن پاکستان میں مکڑیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کا دعویٰ ہے کہ ان کے زہر کے حصول کے لیے لوگ ان کو خریدتے ہیں جس کو بعد میں ادویات بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
    جان محمد کہتے ہیں کہ ’جن مکڑیوں کا کاروبار ہوتا ہے وہ انتہائی زہریلی ہوتی ہیں۔‘ اُن کہنا تھا کہ ’خریدار ہمیں صرف اتنا بتاتا ہے کہ ان کے زہر سے دوائی تیار کی جاتی ہے۔‘
    اُنھوں نے کہا کہ ان کی مانگ امریکہ، یورپی ممالک اور روس میں کافی زیادہ ہے۔
    اُن کے بقول ’بیرون ملک موجود لوگوں کے مقامی ایجنٹ یہاں اُن کے لیے خریداری کرتے ہیں۔‘ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بعض اوقات ’باہر سے لوگ یہاں آ کر مکڑیوں کو خرید کر اپنے ساتھ ہوائی جہاز میں لے جاتے ہیں۔‘ اُن کے مطابق یہ بااثر لوگ ہوتے ہیں۔
    یہ کاروبار منافع بخش بھی ہے اور خطرات سے بھرپور بھی۔ ان میں سے ایک خطرہ اس غیر قانونی کاروبار کا وہ پہلو ہے جس میں فروخت کرنے والا اور خریدار دونوں ہی ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
    جان محمد بتاتے ہیں کہ ’اس کاروبار میں جھوٹ بہت زیادہ بولا جاتا ہے۔‘
    ’مثلاً جب کسی کو ویڈیو بھیجیں اور 25 لاکھ ریٹ بتاتے ہیں تو آگے وہ دوسرے بندے کو 80 لاکھ بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ میرے پاس موجود ہیں۔‘
    انھوں نے بتایا کہ بعض لوگ گاہگ کو دھوکہ دینے کے لیے عام نسل کی مکڑیوں کو کیمیکل کے استعمال سے قیمتی نسل ظاہر کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں جس میں کم تجربہ کار بیوپاری اکثر دھوکہ کھا جاتے ہیں۔
    فرمان اللہ (فرضی نام) بتاتے ہیں کہ ’مارچ کے مہینے میں لاہور سے ایک بندے نے ان کو پانچ سو بلیک وڈو کا آرڈر دیا۔‘
    ’جب ہم نے کلرکہار میں ایک شکاری سے بات کی تو اُس نے کہا کہ میرے پاس 200 تک موجود ہیں لیکن قیمت ایک کروڑ روپے ہے جو ایڈوانس میں ادا کرنی ہوگی۔ ہمارے پاس 40 لاکھ روپے تھے۔‘
    ’ہم دو دستوں نے اُس حساب سے سودا کیا۔ مکڑیوں کو گاڑی میں ڈال کر جیسے ہی لاہور پہنچے تو گاہگ نے اپنا موبائل بند کر دیا۔ کافی دیر انتظار کرنے کے بعد ہم واپس پشاور آ گئے۔ جب ہم نے شکاری کو مال واپس لینے کا کہا تو اس نے بھی انکار کر دیا۔ ہمیں تو ان کو پالنے کی سمجھ نہیں تھی، ساری مکڑیاں مر گئیں۔‘‘‘

    Khabrain News

      Keep Reading

      انسانی مزدوروں کا مستقبل خطرے میں؟ شیاؤمی کا ہیومنائیڈ روبوٹ 98 فیصد کامیاب

      "گلیکسی اَن پیکڈ ڈیوائسز لانچ سے پہلے لیک ہو گئیں۔”

      لاہور میں ٹریفک کی نگرانی کے لیے اے آئی سے چلنے والا ڈرون سسٹم متعارف کروا دیا گیا۔

      تازہ ترین

      لاہور میں کہیں ہلکی، کہیں زیادہ بارش اگلے 3 دن مزید بارش

      سابق پاکستانی ہاکی کپتان خالد محمود 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

      27 ستمبر احتجاج؛ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلیے رابطے، سیاسی سرگرمیاں تیز

      خوبصورت بننے کا شوق جان لیوا ثابت ہوا، کاسمیٹک سرجری کے دوران معروف انفلوئنسر ہلاک

      سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت 4,400ڈالر سے نیچے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.