لندن (ویب ڈیسک)پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے لگی لپٹی اب بلکل ترک کردی ہے۔ جیسا کہ توقع تھی، انھوں نے احتساب عدالت سے اپنے خلاف ایون فیلڈ ہاو¿س اپارٹمنٹس کا فیصلہ آتے ہی ’چند ججوں اور چند جرنیلوں‘ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔مجھے جو سزا دی جارہی ہے وہ کرپشن کی وجہ سے نہیں دی جا رہی بلکہ میں نے 70 برس سے جاری ملک کی تاریخ کا جو رخ موڑنے کی جدوجہد شروع کی ہے یہ اس کی سزا دی جارہی،‘ جمعے کو مجرم قراد دیے جانے اور قید کی سزا پانے کے بعد نواز شریف نے اپنے پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے باقاعدہ ردعمل کا اظہار کیا ہے۔میں نے میاں صاحب سے پوچھا کہ آپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ 70 برس سے چند جج اور چند جرنیل ملک کو جب چاہے یرغمال بنا لیتے ہیں تو اس مرتبہ ان کے خلاف کون سازش کر رہا ہے؟جواب میں میاں صاحب نے الٹا سوال پوچھ لیا کہ آپ بتائیں کہ وہ کون ہیں جو ہمارے لوگوں کی وفاداریاں بدل رہے ہیں، ہماری حکومت گرانے کی سازشیں کر رہے ہیں، ہمارے خلاف ججوں کو استعمال کر رہے ہیں، ہمارا حق میں بولنے والوں کو اغوا کر رہے ہیں، میڈیا کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہمارے ایک امیدوار کو مارا پیٹا اس نے کہا آئی ایس آئی کے لوگ تھے، دوسرے روز اس کا بیان تبدیل کروایا اور اس نے کہا محکمہ زراعت کے لوگ تھے، اب آپ بتایے، کیا یہ سب محکمہ زراعت کے لوگ کر سکتے ہیں؟معلوم نہیں میاں صاحب کے ان خیالات سے ان کی پارٹی کے حالیہ صدر اور ان کے بھائی شہباز شریف کتنے متفق ہیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ نواز شریف کی قیادت میں پنجاب میں فوج اور اسٹیبلشمنٹ مخالف سوچ میں اضافہ ہورہا ہے۔پاکستانی کالم نویس اور ایکٹویسٹ گل بخاری کا کہنا ہے کہ پنجاب میں آج جتنا فوج مخالف جذبات پائے جاتے ہیں، اتنا تو شاید جنرل ضیا کے زمانے میں بھی نہیں تھے۔گل بخاری کا کہنا ہے کہ نواز شریف اب ایک حقیقی عوامی رہنما بن کر ابھرے ہیں اور یہی بات اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آرہی۔
نواز شریف نے فیصلہ آتے ہی ’چند ججوں اور چند جرنیلوں‘ کو آڑے ہاتھوںلے لیا ،بی بی سی کا اہم تجزیہ
