ایران نے امریکا کے 15 عہدیداروں پر پابندی عائد کردی ہے جن میں سابق ملٹری شخصیات بھی شامل ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جوہری توانائی معاہدے میں واپسی کے لیے ہونے والے مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
ایران نے جوہری معاہدے میں تعطل کو امریکی عہدیداروں کی جان بوجھ کر ڈالی گئی رکاوٹ کو قرار دیتے ہوئے مزید 15 امریکی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن میں سابق آرمی چیف آف اسٹاف جارج کیسی اور سابق صدر ڈونلد ٹرمپ کے اٹارنی جنرل روڈی جولیانی بھی شامل ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ایران اور امریکا نے ایک دوسرے پر پابندیاں عائد کی ہوں۔ جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے جاری مذاکرات کے دوران بھی ایک دوسرے پر پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
خیال رہے کہ 2015 میں ایران کے ساتھ عالمی قوتوں کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے 2018 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا تاہم دیگر ممالک نے اس کی مخالفت کی تھی۔
ایران نے امریکا کی دستبرداری کے بعد معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیئم کی افزودگی شروع کردی تھی تاہم امریکا میں نئی حکومت آنے کے بعد دونوں کے درمیان معاہدے میں دوبارہ شمولیت کے مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔
Trending
- اقوام متحدہ نے غزہ میں نسل کشی کرنے پر اسرائیل کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا، عرب میڈیا
- مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
- قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
- سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
- مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
- آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
- معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
- صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
