کراچی: مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستانی آم کی برآمدات کو دھچکا لگا ہے۔
مشکلات کے باوجود پاکستانی آم کی پہلی برآمدی کھیپ آج بیرون ملک روانہ ہو گئی تاہم آم کا برآمدی ہدف 1لاکھ 10ہزارٹن سےکم کر کے 80 ہزار ٹن مقرر کیا گیا ہے جس کی مالیت 80 ملین ڈالر متوقع ہے۔
شپنگ کمپنیوں کی سمندری فریٹ لاگت 1200ڈالر سے بڑھ کر 7000 ڈالر تک پہنچ گئی ہے جب کہ خلیجی ریاستیں آم کی 35 فیصد برآمدی منڈی ہیں جس سے طلب متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستانی آم کی 80 فیصد برآمدات خلیجی ممالک، افغانستان اور ایران کو کی جاتی ہیں تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رواں سال آم کی پیداوار 20 فیصد کم رہنے کا امکان ہے۔
افغانستان بارڈر بندش سے وسط ایشیائی ریاستوں کو برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ علاقائی بحران کے باوجود ایران کی منڈی میں پاکستانی آم کی طلب بڑھنے کی توقع ہے۔
مشرق وسطیٰ بحران سے شپنگ سروسز متاثر اور جہازوں کی آمد و رفت میں تاخیر کا سامنا ہے۔ برآمد کنندگان کا فریٹ سہولیات اور پورٹ کلیئرنس کیلئے فوری حکومتی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
لاجسٹک مسائل حل نہ ہوئے تو کم کیا گیا برآمدی ہدف پانا بھی مشکل ہوگا اور آم کی برآمدات میں کمی سے ملکی زرمبادلہ اور عالمی منڈی میں حصہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
