Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ایران کا انتباہ، امریکی ناکامی پر ردِعمل کی دھمکی
    • GTA 6 نے ایک دن میں 39 ملین سے زائد پری آرڈرز کے ساتھ عالمی ریکارڈ توڑ دیے۔
    • اسرائیل-لبنان مذاکرات بحال، ایران کے جہاز پر حملے کے بعد ہرمز انخلا منصوبہ معطل
    • اداکارہ پوجا بھٹ کا والد مہیش بھٹ کے اسلام قبول کرنے کا انکشاف
    • عالمی تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں کمی، قیمت 65 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی
    • اسرائیلی نژاد امریکی انفلوئنسر نے پاکستان کو اپنا پسندیدہ ملک قرار دے دیا
    • پنجاب فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کا شہدائے کربلا کی یاد میں مفت پودے تقسیم کرنے کی مہم کا آغاز
    • امریکی سپریم کورٹ کی ٹرمپ کو ہیٹی اور شامی شہریوں کے عارضی تحفظات ختم کرنے کی ہدایت
    • عراق نے 50 سال سے کم عمر پاکستانی مرد زائرین کے اکیلے داخلے پر پابندی عائد کر دی
    • یو اے ای نے مزید 6 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت متعارف کرا دی
    • خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت، ایران کا پاکستانیوں کے لیے مفت ویزوں کا اعلان
    • وینزویلا میں تباہ کن زلزلے، 700 سے زائد افراد زخمی ،ہلاکتوں کی تعداد 164 تک پہنچ گئی
    • مقامی افراد کا جنازے کا بائیکاٹ، سرگودھا کیس کے ملزم کو دفن کی جگہ دینے سے انکار
    • ایران نے 9 دن میں 4 کروڑ بیرل تیل برآمد کر دیا
    • گلگت بلتستان میں 6-k چوٹی پر برفانی تودہ گرنے سے فرانسیسی کوہ پیما جاں بحق
    • مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک میں داخل؛ کئی اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی
    • پاکستان نے 435 کلومیٹر آئل پائپ لائن کی منظوری دے دی
    • جاپان کے شمالی حصے میں 6.9 شدت کا زلزلہ
    • 9 محرم آج پاکستان بھر میں مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    غربت کا کیسے خاتمہ ہو سکتا ہے

    By Daily Khabrainجولائی 20, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق
    ریاست مدینہ کے حقیقی خد و خال کا جائزہ لیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مثالی معاشرہ کی تشکیل میں ریاست مدینہ ہی حقیقی مثالی معاشرہ کا آئینہ ہے جس میں کوئی فرد بھوکا نہیں رہ سکتا اور نہ ہی کوئی بیروزگاری کا رونا رو سکتا ہے، فرائض کی ادائیگی اور حقوق کی ضمانت ہے، پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک ایک بھی عوام کو راہنما نہیں ملا سوائے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے، ان کو بھی مہلت نہ مل سکی اور وہ جہان فانی سے کوچ کر گئے، ان کے بعد عوام بھی قوم نہ بن سکی اور عوام کو راہنما نہ مل سکا، جیسی عوام ویسے ہی سیاستدان ملتے تھے اور عوام زخم پہ زخم کھاتے رہے اور مسلسل کھا رہے ہیں،سب سے زیادہ اقتدار کا دورانیہ ہمارے خود ساختہ جلا وطن بادشاہ نواز شریف کا تھا جنہوں نے عوام کی غربت تو ختم نہ کی اپنی آنے والی نسلوں کی آرزو پوری کر دی اور پانچ کروڑ عوام کا لقمہ ء تر پر ان کی اولاد قابض ہے، سیاستدانوں کی بات چھوڑیں ہماری این جی اوز نے غربت کے خاتمے کی دوکانیں کھولی ہوئی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ طعام المساکین پر عمل کیا جائے تو پاکستان میں ایک بھی بے روزگار اور غریب نہیں رہتا مگر یہ لوگ نہیں چاہتے کہ غربت ختم ہو اور اگر ایسا ہو جائے تو ان کے مال پلازے، سٹور اور دوکانیں بند ہو جائیں ان کے کاروبار غربت کی بنیادوں پر استوار ہیں اور غریب ان کی دوکان کی مصنوعات کی تشہیر کا ذریعہ ہے، ہمارے بہت سے معتبر خدمت انسانی کے ادارے اپنے دائرے میں تو غربت ختم کر نہیں سکتے وہ بلوچستان، کشمیر، فلسطین اور شام تک پہنچ جاتے ہیں ان کے جاننے والے افراد خوددار ہیں اور وہ اپنا دستِ سوال دراز نہیں کر سکتے اور ان کا مطمح نظر بھی یہی ہوتا ہے غربت بڑھتی رہے اور غریب ہمیشہ محتاجی کی زندگی بسر کر کے اس جہان فانی سے کوچ کر جائے، ریاست مدینہ میں این جی اوز کا تصور نہیں وہاں صرف ریاست ہی فلاح و بہبود کے لیے اپنی زمہ داریاں پوری کرتی ہے،
    بات ہو رہی تھی غربت کے خاتمے کی اور جس انداز سے غربت کا خاتمہ ہم چاہتے ہیں اس سے غربت بڑھ رہی اور غریب تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہو گیا ہے، این جی اوز کا تصور سراسر غلط ہے کہ لوگوں کی مدد صرف کھانے کی حد تک کی جائے اور غریبوں کے نام پر فنڈز جمع کر کے ذاتی آسائش کے سامان استعمال میں لائے جائیں، ریاست مدینہ میں کوئی ایسا سوچ بھی نہیں سکتا دور و دراز علاقوں میں غربت کے خاتمے کے لیے جہاد کرنے والوں کو اپنے گھر سے فلاح و بہبود کا کام کرنا چاہیئے جس سے میں دعویٰ سے کہہ سکتی ہوں۔ غربت ختم ہو جائے گی غریب اپنے قدموں پر کھڑا ہو جائے گا اور یہ دوکانداریاں بند ہو جائیں گی، آؤ آج سے ہم عہد کریں کہ سب سے پہلے اپنے غریب رشتہ داروں کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ہے اور ایک دائرے میں سب کو لا کر خود انحصاری، خود کفالت اور خود روزگاری کی شرح کو بڑھا کر پاکستان سے غربت کو دور بہت دور بھگا کر دم لینا ہے یہی ایک جامع نصابِ خوشحالی ہے جس پر عمل پیرا ہو کر غربت کا خاتمہ ہو سکتا ہے
    پاکستانی عوام کا ہجوم منظوم نہیں ہو سکا جس کی وہ سزا کاٹ رہے ہیں، سیاستدانوں نے اپنے اردگرد اپنے خوشامدی اطاعت گزار سپوٹرز اور ووٹرز کی سرپرستی کرتے ہیں اور ان کے فرائض میں اپنے لیڈر کی خدمات کا ڈنڈھورا پیٹنا ہوتا ہے جس کا وہ معقول معاوضہ وصول کرتے ہیں اور ایک وقت ایسا بھی آ جاتا ہے سیاستدان کا سپورٹر لوگوں کے کام کاج کروا کر پیسے بھی بٹورنا شروع کر دیتا ہے اور اپنے سیاسی لیڈر سے بھی آگے نکل جاتا ہے آپ خود اپنے حلقے کو سامنے رکھ کر جائزہ لیں تو آپ محسوس کریں گے کہ میں جو بات کر رہی ہوں وہ آپ کے دل میں پہلے ہی موجود تھی، غربت کا خاتمہ یہ لوگ نہیں چاہتے یہ تو غریب کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں، غریبوں کے نام پر فنڈز جمع کرنے والی این جی اوز کے سربراہان کی مالی حیثیت کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے ان کی اولادیں امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اعلیٰ ترین عہدوں پر سمندر پار پاکستانیوں کی خدمت پر اپنے آپ کو مامور سمجھتی ہیں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہی نہ ہو سکے کہ ان کی اولادیں امریکہ میں مقیم ہیں، غربت کا خاتمہ امیروں کی سخاوت سے حل نہیں ہو گا اور نہ ہی دسترخوانوں پر بھوکوں کو کھانا کھلانے سے ہو گا، اس کے لئیے روزگار اور غربت کے خلاف برسرپیکار رہنے کی ضرورت ہے
    ابھی ایک اور غربت کا ریلا اللہ نہ کرئے وہ دامن کوہ ہمالیہ سے آنے والا ہے جس سے پاکستان کی معاشی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے اور وہ ریلا ہے افغانستان میں خانہ جنگی کے دوران لاکھوں افغانیوں کی پاکستان میں ہجرت اور ان کی مہمان نوازی کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر ہو گی اور ان کو ایک مخصوص علاقے میں پابند کرنا پڑے گا وگرنہ پورے پاکستان میں ان کا پھیلاؤ پاکستان کا امن کا توازن بگاڑ دے گا اس لئیے ضروری ہے کہہ ہم پہلے اپنی عوام کو مہنگائی کے جن سے نجات دلائیں اور بجلی پانی، سوئی گیس اور مواصلاتی اخراجات میں کمی لائے یہ بہت ضروری ہے۔
    (کالم نگار معروف شاعرہ، سیاسی
    وسماجی موضوعات پر لکھتی ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      عراق نے 50 سال سے کم عمر پاکستانی مرد زائرین کے اکیلے داخلے پر پابندی عائد کر دی

      خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت، ایران کا پاکستانیوں کے لیے مفت ویزوں کا اعلان

      مقامی افراد کا جنازے کا بائیکاٹ، سرگودھا کیس کے ملزم کو دفن کی جگہ دینے سے انکار

      ایران نے 9 دن میں 4 کروڑ بیرل تیل برآمد کر دیا

      جاپان کے شمالی حصے میں 6.9 شدت کا زلزلہ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.