عصمت شوکت
اپنی شہرہ آفاق قلبی واردات ”تلخیاں“ کی طویل نظم پر چھائیاں میں ”مادام“ سے خطاب کرتے ہوئے ساحر لدھیانوی مرحوم نے ایک کائناتی حقیقت کچھ یوں بیان کی ہے کہ:
آپ کہتی ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتی ہوں گی
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میرے ماحول میں انسان نہ بستے ہوں گے
بھوک آداب کے سانچے میں نہیں ڈھل سکتی
مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بے شک یہ بھوک ہی ہے جس کی زیادتی عصمت کو کانچ کی چوڑی سے بھی ارزاں کر دیتی ہے اور بھوک کے ”مذہب“ میں جہنم کاکوئی کھٹکا بھی نہیں ہوتا اور حدیث مبارکہ بھی تو یاد کریں کہ ”بھوک کی انتہا انسان کو کفر تک لے جاتی ہے“۔ اپنے فر د فرد معاشرے کو دیکھ لیں، یہ عوامل صاف دکھائی دیں، شرط یہ ہے کہ آنکھوں پر اقتدار و اختیار کی عینک نہ لگی ہو۔ وہ جو دوسروں کی نظر سے دیکھنے اور دوسروں کی زبانوں سے سننے کے عادی ہیں، اگر انہیں ”سب اچھا“ ہی دکھائی دیتا ہے تو تاریخ میں زیادہ پیچھے جا کر انقلاب فرانس کی وجوہات جاننے کی مغز ماری کرنے کی بجائے اس ”بندوبست“ کا 2008ء کے انتخابات میں ہونے والا حشر ملاحظہ کر لینا چاہیے جو اپنے تیئں حکمران بن چکے اور حلف برادری کی تقریب میں زیب تن کرنے کے لیے شیروانیوں تک کے آرڈر دے چکے تھے۔
حکمرانوں کے نزدیک اگر”سب اچھا“ ہے تو کیا ان سے یہ پوچھنے کی جسارت کی جا سکتی ہے کہ روپے کی لاش پر ڈالر کا رقص ابلیس کیوں تھمنے میں نہیں آرہا، پٹرول تو ایک طرف، ہماری زرخیز دھرتی پر وافر مقدار میں پیدا ہونے والا آلو فی کلو کے اعتبار سے ڈالر تک کیوں جا پہنچا۔ آلو دہ ہوامیں سانس لینے اور آلودہ پانی پینے سے اپنے جسم کو موذی امراض میں مبتلا ہو جانے والوں کی دسترس سے زندگی بچانے والی ادویات کیوں باہر ہو گئی ہیں۔ غریب عوام کے بچوں کے فیڈر میں دودھ کیوں ختم ہوتا جارہا ہے۔ کیا کوئی حکمران خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ دعوٰی کر سکتا ہے کہ عوام کو معیاری اور سستی اشیائے خورد و نوش واقع میسر ہیں؟
خاتمے کے نمائشی نہیں حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان مسائل کو ختم کرنا ہوگا۔ جو ہمارے وسائل کو ہڑپ کرتے جا رہے ہیں۔
وطن عزیز دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جسے قدرت نے جی کھول کر نعمتیں عطا کی ہیں۔ ہمارے ہاں اب بھی اتنا کچھ موجود ہے کہ ہم نہ صرف ترقی یافتہ ملکوں کے ہم پلہ ہو سکتے ہیں بلکہ امداد دینے والے بن سکتے ہیں۔ مسئلہ صرف نیتوں کے کھوٹ کا ہے اور جب حاکم طبقات کی نیتوں میں کھوٹ آجائے تو برکت اٹھ جایا کرتی ہے۔ دنیا کی زرخیز ترین زمینوں پر بھوک اگنے کا آغاز تب ہوا جب فیلڈ مارشل ایوب خان نے معاہدہ سندھ طاس کر کے تین دریا بھارت کے حوالے کر دیئے اس ملکی معیشت جس کا دارومدار ہی زراعت پر ہے۔ ہ پہلی ضرب تھی اس کے بعد آج تک ہر کسی نے اس کو لوٹا اور سرمایہ بیرون ملک منتقل کر دیا۔ یہ طبقہ کون ہے جس کے یورپ، عرب میں محلات ہیں اور سوئس بینکوں میں دولت کے انبار، سبھی جانتے ہیں۔ اکانومی کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب کسی معاشرے میں معیار زندگی لڑکھڑا جائے تو وہاں اخلاقی جرائم بڑھ جاتے ہیں وہی بات جو عرصہ قبل سلطان صلاح الدین ایوبی نے بھی کہی تھی کہ ”جس معاشرے میں روٹی مہنگی ہو جائے وہاں مرد کی غیرت اور عورت کی عزت سستی ہو جاتی ہے۔ کیا آج یہ باتیں ہمیں ہمارے معاشرے میں دکھائی نہیں دیتیں؟ اگر کسی کو نہیں دکھائی دیتیں تو اس کے بارے میں مکرم الٰہی کچھ یوں فرماتے ہیں کہ ”آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں“ ہمیں اپنی معاشی حالت سدھارنی ہے تو بدامنی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ آئی ایم ایف کا کاسہ لیسی کی بجائے اپنے دستیاب وسائل کو استعمال میں لانا ہو گا۔ یہ بد امنی ہی ہے کہ جس کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری منجمند ہو کر رہ گئی اور ملکی سرمایہ دار بھی مغربی، خلیجی اور مشرقی بعید کے ممالک کی طرف چلا گیا۔ توانائی کے بحران کے حل کے لیے پچھلے کئی سالوں سے سن رہے ہیں کہ ”کوڑے سے بجلی بنے گی، منصوبہ بن گیا“ ترکی سے توانائی کے بحران کے حل کے لیے معاملات طے، اور یہ ہو گیا وہ ہو گیا،لیکن ایسا کوئی بھی منصوبہ ہمیں سر زمین پاکستان پر تکمیل کے مراحل طے کرتا تو دور کی بات اپنی بنیادیں استوار کرتا بھی نظر نہ آیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہزاروں صنعتی یونٹ بند پڑے ہیں اور لاکھوں مزدور بیکار۔
خیر بات چلی تھی غربت و افلاس کی۔ اس کا خاتمہ صرف خلوص نیت سے ہی ممکن ہے۔ معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیے بغیر اس کے استحکام کی توقع عبث ہے۔ بدامنی کا خاتمہ خواہ کسی بھی طور پر ہو، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی اولین شرط ہے۔ تاجر برادری کے لیے مراعاتی پیکج ایک بہتر اقدام ہے۔
توانائی کا بحران حل نہیں ہو تا تو کسی بھی درجے کے ملنے سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں۔ ایک بات اور، غریب غریب کی رٹ لگانے والی پارلیمنٹ کے گوشواروں کے مطابق امیر ترین جماعت کے مذکورہ بالا تمام منصوبوں میں غریب کے لئے کچھ نہیں ، سوائے تسلیوں، دلاسوں اور خوابوں کے۔ عمران خان سے التجا ہے کہ اپنے وزیروں سے کہیں کہ اپنے دفاتر کے درروازے کھولیں تاکہ غریب عوام کے مسائل حل ہو سکیں۔
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتی ہیں)
٭……٭……٭

