لندن:(ویب ڈیسک)مچھر ایک مہلک مخلوق ہیں جو ہر سال لاکھوں اموات کا سبب بنتے ہیں۔مچھروں پر تحقیق کے دوران معلوم ہوا ہے کہ مچھر اپنے پروں کی مدد سے بھنبھناتے ہیں اور یہ آواز ان کے تولیدی عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مچھر اپنے جنسِ مخالف کو اس بھنبھناہٹ سے تلاش کرتے ہیں۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ اس آواز میں خلل ڈال کر مچھروں کے مسئلے کا تدارک کر سکتے ہیں۔سائنسدان مچھروں کے بھنبھنانے کی آواز کی مدد سے ان کی آبادی کو کم کرنے پر تحقیق کر رہے ہیں اور انہیں انسانی ا?بادی سے دور رکھنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مادہ مچھر کے پروں کا وزن کم ہوتا ہے، اسی لیے اس کی بھنبھناہٹ ہلکی ہوتی ہے جبکہ سیکڑوں کے جھنڈ میں اپنی مادہ کو تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سائنسدانوں کو یقین ہے کہ وہ مچھروں کی زبان یا بھنبھنانے کے انداز کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کی ا?واز میں خلل ڈال کر خطرے کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔
Trending
- مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
- قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
- سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
- مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
- آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
- معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
- صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
- گوگل ماہرین کی ’زیرو-ڈے‘ ایکسپلائٹ سے متعلق تشویشناک رپورٹ پیش
