Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے استعفیٰ دے دیا
    • مون سون کے بڑھتے خطرات کے درمیان پاکستان کے ڈیم 58 فیصد بھر گئے۔
    • امریکہ نے پاکستانی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا
    • شاہراہِ بلتستان پر سیلاب سے متاثرہ پل کی بحالی کا کام جاری
    • برطانیہ ایران کی دھمکیوں کے پیشِ نظر اپنے دفاع کے لیے تیار
    • ڈاکٹر نبیحہ کا دعویٰ: حارث کھوکھر روزانہ ازدواجی تعلق نبھانے کے قابل نہیں تھے
    • نابلس کے قریب اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں چار فلسطینی جاں بحق
    • ایران کے خلاف جارحیت کی حمایت کے نتائج بھگتنا ہوں گے: عباس عراقچی
    • کویت میں مظاہرین کا امریکی فوجی اڈوں کے انخلا کا مطالبہ
    • ایران کا دعویٰ: بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر ڈرون حملے
    • پنجاب نے مقامی اور عالمی کرکٹ ستاروں کے ساتھ چیمپئنز کرکٹ لیگ کا آغاز
    • روپے کی قدر میں مزید کمی,ڈالر 277، کینیڈین ڈالر 200 کے قریب
    • امریکا نے چینی اے آئی کمپنیوں پر مبینہ ماڈل ڈسٹلیشن کے الزام میں پابندیوں کی دھمکی دے دی
    • * بحیرۂ احمر کشیدگی، تیل 100 ڈالر سے اوپر
    • درفشاں سلیم نے بھارت کے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
    • وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں انگریزی اور کیمسٹری پڑھانے کا اعلان۔
    • مون سون بارشوں سے پنجاب میں 21 افراد جاں بحق، 154 زخمی۔
    • اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یورپی معیار کا پہلا طیارہ مرمت مرکز قائم کیا جائے گا۔
    • لاہور کے ایل ڈی اے اسپورٹس کمپلیکس میں تیراکی کے دوران ایک شخص جاں بحق۔
    • چین کے دورے پر وزیراعظم شہباز شریف کو کھلونا راکٹ اسحاق ڈار کو چمڑے کی بیلٹ تحفے میں دے دی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    کرپشن اورطاقت ورمافیاز

    By Daily Khabrainفروری 5, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    محمدنعیم قریشی
    یہ ضروری نہیں ہے کہ ملک میں سار ی کرپشن شریفوں کے زمانے کی ہو اور ہر رپورٹ شریف خاندان کی وجہ سے ہی جنم لے اور ہر غلطی ونقصان کو اگلے پچھلوں کے کھاتے میں ڈالنا بھی عقمندی نہیں ہوتی،سوچنے سمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ اس وقت تو حکومت امانت دار اور دیانت دار وزرااور مشیروں کے پاس ہے تو پھر پاکستان کرپشن کے میدان میں اس قدر اونچائی پر کس طرح پہنچ سکتاہے،موجودہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشل کی رپورٹ تو ہمیں یہ ہی بتاتی ہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں کی نسبت اس بارملکی کرپشن میں زیادہ اضافہ ہو اہے۔
    پاکستان تحریک انصاف اور ان کے قائد عمران خان کی جانب سے انتخابات سے قبل احتساب کے نعرے نے خوب شہرت کمائی الیکشن سے قبل تحریک انصاف نے قوم کے سامنے یہ مؤقف پیش کیا تھا کہ پاکستان کے اقتدار پر مختلف ادوار میں فائز عہدیدارروں کی بد عنوانی نے ملکی خزانے کو شدید نقصان پہنچایاہے،اور اسی بد عنوانی، کرپشن کے خاتمے اور احتساب کا نعرہ لگا کر پاکستان تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی اور 2018ء کے انتخابات کے بعد عمران خان وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے اور ان دنوں وہ اپنے پہلے دور اقتدار کے تین بر س سے زائد عرصہ گزار چکے ہیں وقت پر لگاکر اڑتارہاہے اور اب ان کے اقتدار کے تیسرے برس عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جاری کردہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ہے کہ ان تین برسوں میں پاکستان میں بدعنوانی اور رشوت خوری کی سطح میں اضافہ ہوگیا ہے۔
    رپورٹ کے مطابق 2018ء میں جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تھی تو پاکستان کا کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 117واں نمبر تھا جو اب گر کر 140ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے عالمی ادارے کی رپورٹ تیار کرنے کا طریقہ کار اور مقاصد بارے میں ماہرین کے درمیان بہت سارے تحفظات ہوسکتے ہیں، اس رپورٹ کے مندرجات میں بیان کردہ دعووں پر اعتراضات کے باوجود اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ کہیں نہ کہیں تحریک انصاف کی حکومت اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرنے میں ضرور ناکام رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کا ریاستی و سیاسی نظام اتنا بدعنوان ہوچکا ہے کہ جو شاید اب لاعلاج مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ تحریک انصاف کے بہت سے بڑوں کا یہ ماننا ہے کہ اگلی حکومت بھی تحریک انصاف کی ہی ہوگی،لیکن اس کا جواب یہ بنتاہے کہ آپکی حکومت بد عنوانی کے خاتمے اور طاقتور طبقے کے شفاف احتساب کا نعرہ لگا کر برسراقتدار آئی تھی وہ احتساب کے بارے میں فی الحال عوام کو مطمئن نہ کرسکی ہے۔ اس کے باوجودآپکو یقین ہے کہ اس با ر بھی قوم آپ ہی کو موقع فراہم کریگی جبکہ مہنگائی اور بے روزگاری کا جو عالم اس کا تو پوچھے ہی نہ تو اچھا ہوگا۔
    ہم نے دیکھا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے اجراء سے ایک روز قبل ہی وزیراعظم عمران خان کے مشیر احتساب شہزاد اکبر مستعفی ہونے پر مجبور ہو ئے انہوں نے خود استعفیٰ دیا ہے یا وزیراعظم نے ان سے استعفیٰ لیا ہے اس کے بارے میں سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں لیکن یہ درست ہے کہ وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے احتساب اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ بدعنوانی اور احتساب کے نعرے کا شور 90کی دہائی سے بہت پہلے کاہے اس نعرے نے ہردور میں ہی شہرت پکڑی ہے اس کے باوجود پاکستان کے سماج اور طاقت و اختیار کے ایوانوں میں اتنی ہی بدعنوانی بڑھتی رہی اور آج بھی ناجائز طریقہ سے یہ مال جمع کرنے کا جنون کسی نہ کسی طریقہ سے جاری ہے جس نے آجکل ایک خطرناک سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے اس کرپشن زدہ مافیا نے قومی خودمختاری، آزادی و سلامتی کو خطرے میں ڈال رکھاہے،کرپشن اور بدعنوانی نے ہر سطح پر مجرموں اور مافیاوں کو طاقتور بنا دیا ہے۔
    ان تین برسوں میں توانائی مافیا، شوگر مافیا، آئل مافیا، گیس مافیا، جیسے طبقات کی لوٹ مار سامنے آئی ہے لیکن اب تک کسی کو لگام ڈالنے یا عبرت کا مقام بنانے کی خبرسامنے نہ آسکی ہے،یہ بھی ہے کہ جب قانون سازی تیز اور عوام دوست ہوگی تو اس میں خامیاں بھی ہوسکتی ہیں لیکن کچھ دکھائی تو دے کچھ اچھا ہورہاہے حکومتی ترجمان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی جستجو سے نکلیں اور قوم کو بتائیں کہ ہم نے یہ اچھاکیاہے اور اس کے نتائج یہ نکلیں گے۔
    دوسری جانب یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم کبھی کشکول توڑ پائیں ہیں جو ہر روز آئی ایم ایف کے دروازے پر کھڑے رہتے ہیں اور آئے روز اس کی شرائط ماننے کے لیے عوام کی جیبوں کی قربانیاں دیتے رہتے ہیں۔ستر سالوں کا سفر تو ابھی تک جاری ہے شاید ہی کوئی ریاستی ادارہ یا سرکاری محکمہ ایسا ہو جہاں کرپشن کا بھوت نہ ناچ رہاہو، چاہے وہ محکمہ پولیس ہو انکم ٹیکس،کسٹم ایکسائز ہو صحت جیسے ادارے تو پہلے ہی بدنام تھے اب دیگر ریاستی اداروں سمیت محکمہ تعلیم بھی شدید بد عنوان اداروں میں شامل ہو چکے ہیں ان تمام اداروں کے اپنے اپنے طریقہ واردات اور کرپشن کے طریقے ہیں۔ جن سے اس ملک کی عواماب بخوبی واقف ہوچکی ہے کیونکہ ان تمام اداروں میں ہر شہری کو روزانہ ان تمام مشکلات اور پریشانیوں سے گزرنا پڑرہا ہے سب کچھ ویسا ہی چل رہاہے جو چوروں اور ڈاکوؤں کے ادوار میں دکھائی دیتاتھا،یہ تو وہ حقائق ہیں جن سے ملک گزشتہ ستر سالوں سے گزر رہا ہے اور گزرتا رہے گا،کیا ایسا تو نہیں ممکن کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی سیاست کے پیچھے قوم کو اصل ایشوز، غربت، مہنگائی سے توجہ ہٹانا پلاننگ کا حصہ ہو۔ میں سمجھتا ہو کہ اب بھی وقت ہے کہ ملک میں ایسے شفاف سسٹم کا اہتمام کیا جائے جس میں کرپشن کو حقیقی معنوں میں ختم کیاجائے نان ایشوز کو چھوڑ کر ایشوز میں ترجیحات کا ایسا تعین ہو جس سے سسٹم میں مضبوطی آئے اور جس میں ہر وزیر اور مشیر جواب دہ ہو۔
    (کالم نگار مختلف امورپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.