عمران کی تقریر قوم کے روشن مستقبل کی نوید ، اللہ انکی مدد کرے ، میں یہ بھی جانتا ہوںکہ وہ مخالفت کی پروا کئے بغیر آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، معروف صحافی ضیا شاہد کی پر گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد نے کہا ہے کہ 51 سال سے جرنلزم میں ہوں پوری زندگی میں کبھی کسی وزیراعظم یا صدر کو ان موضوعات پر بات کرتے نہیں سنا جن پر وزیراعظم عمران خان نے بات کی، اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے اور ہم سب پاکستانیوں کو بھی توفیق دے کہ ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں اور انہیں ان کے عزائم پورے کرنے میں کامیاب بنائیں۔ چینل ۵ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ عمران خان نے جو پروگرام دیا ہے اس میں کرپٹ عناصر کیلئے کوئی رعایت نہ ہو گی۔ منی لانڈرنگ، کرپشن میں ملوث عناصر کا سخت احتساب ہو گا، نیب کے ادارے کو مضبوط بنایا جائے گا اسے سہولتیں دی جائیں گی تا کہ اس کی کارکردگی میں اصافہ ہو، اسی طرح تمام اداروں کے راستے میں حائل رکاوٹیں ختم کی جائیں گی۔ ان کی کمی کوتاہی ازخود دور ہو جائے گی وزیراعظم عمران خان نے عدالت سے غریب بیواﺅں کو سہولت دینے کی بات کر کے قوم کے دل جیت لئے میں اس بات پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں، میں بطور صحافی خوب آگاہ ہوں کہ بیواﺅں اور یتیموں پر کیا گزرتی ہے جب انہیں عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا۔ عمران خان نے تعلیم اور صحت کی زبوں حالی کی بات کی موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کاریوں، گندگی کے نقصانات کی بات کی جو آج سے پہلے کسی اعلیٰ عہدیدار کو کرنا نصیب نہ ہوئی۔ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی، کراچی کے ساحل سمندر کو سیاحت کیلئے خوبصورت بنانے کی بات کی۔ کیا ایسی باتیں پہلے کسی نے کبھی کی ہیں، مالدیپ چھوٹا سا ملک ہے لیکن اس نے اپنے سمندری 63 جزیروں کو اس طرح خوبصورت بنا رکھا ہےکہ ساری دنیا سے سیاح ان کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں، پاکستان میں کراچی سے گوادر تک ساحل سمندر پر بے شمار جگہوں پر ساخت کی سہولیات دے کر بھاری زرمبادلہ اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان کی ایسی خوبصورت تقریر کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں، انہوں نے ٹھیک کہا کہ جب کرپٹ طبقہ کے مفادات کو زک پڑے گی تو وہ ضرور چلائے گا کہ جمہوریت کو خطرہ ہے۔ ملک کو لوٹنے والوں اور ان موٹے پیٹ والوں کو تو یقینی طور پر خطرہ محسوس ہو گا۔ میں جس عمران خان کو جانتا ہوں وہ راستے میں آنے والی ہر مخالفت کی پرواہ کئے بغیر چلتا چلا جائے گا، اس نے 22 سال جدوجہد کی ہے جو ایک مشکل ترین کام ہے۔ عمران خان کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہے کہ وہ اسی طویل جدوجہد میں ایک بار بھی مایوس نہ ہوئے اور ظالمانہ نظام کے خلاف لڑتے رہے۔ عمران خان سیاست کی پرخار وادی کے بجائے ایک لگژری زندگی باآسانی گزار سکتے تھے، جمائما سے طلاق ہوئی تو برطانوی جج نے کہا کہ آپ اربوں کی آدھی جائیداد چھوڑ رہے ہیں تو جواب میں عمران نے کہا کہ جمائما میرے بچوں کی بہتر تربیت کر سکتی ہے۔ جج صاحب اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ آپ عظیم آدمی ہیں۔ جمائما چاہتی تھی کہ عمران خان اسکے ساتھ برطانیہ میں رہیں لیکن عمران نے انکار کر دیا اور ایک طویل جدوجہد کا پرخطر راستہ اختیار کیا۔ آج وہی عمران خان پاکستانی قوم کو ایک نئے روشن مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں۔

بھارت میں ڈھابے پر جھاڑو پونچھا لگانے والی’’ کویتا ‘‘ ایشین گیمز میں شریک

جکارتہ(ویب ڈیسک)بھارت میں ڈھابے پر جھاڑو پونچھا لگانے والی کویتا ایشین گیمز میں شریک ہیں۔بھارت میں ڈھابے پر جھاڑو پونچھا لگانے والی کویتا ٹھاکر ایک بار پھر ایشین گیمز میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے بے چین ہیں۔ ہماچل پردیش کے علاقے منالی سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پرواقع گاو¿ں میں ”کویتا“ کے والدین کا ایک ڈھابا ہے،کویتا وہیں پر رہتیں اور برتن دھونے کے ساتھ جھاڑو پونچھا لگاتی تھیں۔واضح رہے کہ 2007میں انھوں نے اپنے سکول میں کبڈی کھیلنا شروع کی اور 2009میں دھرم شالا میں سپورٹس اتھارٹیز کو جوائن کیا۔ 2014میں انھوں نے ایشین گیمز کے کبڈی ایونٹ میں اپنی ٹیم کو گولڈ میڈل جتوایا اور اب انڈونیشیا میں ٹائٹل کا دفاع کریں گی۔ کویتاکے والد اور والدہ دونوں اب بھی اسی ڈھابے پر چائے بسکٹ بیچتے ہیں، تاہم اب اچھے علاقے میں کرائے کے گھر میں رہنے لگے ہیں۔

بھارتی کرکٹر گوتم گمبھیر کا سیاست میں آنے کا فیصلہ

نئی دہلی(ویب ڈیسک)عمران خان کی کامیابی سے متاثر بھارتی کرکٹر گوتم گمبھیر نے بھی سیاست کی دنیا میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی بلے باز گوتم گمبھیر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو کر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔بی جے پی نے انہیں دلی سے انتخابات میں ٹکٹ دینے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے، اس کے علاوہ اداکار اکشے کمار کو بھی بی جے پی کا ٹکٹ دیئے جانے کا امکان ہے۔یاد رہے کہ گوتم گمبھیر بھارت کی جانب سے 58ٹیسٹ اور 147 ایک روزہ میچز میں نمائندگی کرچکے ہیں جس میں انہوں نے 20سنچریوں کی بدولت مجموعی طور پر 9 ہزار 392رنز بنائے۔

قوم کو عمران کے وعدوں پر اعتماد ، شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی مثال

تجزیہ: امتنان شاہد

وزیراعظم عمران خان نے کل اپنے قوم سے پہلے خطاب میں جو باتیں کی ہیں وہ ان باتوں کا تسلسل ہے جو انہوں نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنی تقریر میں کی تھیں۔ پہلی تقریر میں وہی سب کچھ کہا سب سے پہلے احتساب کی بات کی، سادگی سے حکومت چلانے کے لئے اخراجات کم کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے 4 منٹ تک پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں بات کی اور اس کے بعد ایک گھنٹہ 40 منٹ کے قریب کے ڈومیسٹک ایشوز، اندرونی مسائل کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے سب سے بڑی بات سول سروس ٹھیک کرنے، پانی کے مسئلہ پر کی۔ لیکن ان کے خطاب کے بنیادی خیال کو دیکھا جائے تو اس میں سب سے بنیادی چیز جو میرے خیال میں انہوں نے کی کہ وہ عام آدمی کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے کے بارے میں کی گئی ہے جس میں ہیلتھ ایجوکیشن، جوڈیشل سسٹم ، انصاف کا حصول ہے۔ پولیس سسٹم میں اصلاحات ہیں یہ سب جڑے ہوئے ہیں اس عام آدمی کے مسائل سے جو ان اداروں میں جا کر دھکے کھاتا ہے کس طرح سے اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ کس طریقے سے اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے اس بارے میں انہوں نے بات کی ہے۔ جو ان کا سب سے بڑا اور اہم اعلان ہے سادگی کہ اس حکومت کو چلانے کے لئے سب سے ضروری طریقہ کار کیا ہونا چاہئے جو ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے نہیں کیا کہ ہم قرضے تو لیتے رہے۔ ہمارے اخراجات ہماری آمدن سے کئی گنا زیادہ رہے۔ اگر آپ کو یاد ہو کہ میں نے پہلے بھی لکھا بھی تھا اور کہا بھی تھا کہ جس عمران خان کو میں جانتا ہوں وہ یہ سب کچھ کر گزریں گے۔ میں نے الیکشن سے دو دن بعد ہونے والی تقریر میں جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ وزیراعظم ہاﺅس میں نہیں رہیں گے۔ وہاں رہنا تو دور کی بات ہے وہ وزیراعظم ہاﺅس کو کسی سوشل ادارے میں بدل دیں گے یہی بات میں نے گورنر ہاﺅسز کے بارے میں کہی تھی کہ انہوں نے اپنے گورنروں کو گورنر ہاﺅسز میں رہنے سے روک دیا ہے اور میری یہ بات بھی یاد رکھیں کہ گورنر ہاﺅسز کو یا تو کمرشلائز کر دیا جائے یااسے کسی پرائیویٹ سیکٹر میں دے دیا جائے گا۔ اسی طرح وزیراعلیٰ ہاﺅسز کے اخراجات میں بھی کمی کی جائے گی۔ جس جس طریقے سے بھی پاکستان کا پیسہ بچ سکا وہ بچائیں گے۔ تیسری اور سب سے ضروری چیز اگر یہی تقریر ہمارے ماضی کے کوئی دیگر حکمران جو اچھے یا برے، خامیاں تھیں خوبیاں تھیں اگر وہ یہی سب کچھ کہہ رہے ہوتے تو شاید اس تقریر کا امپیکٹ پاکستانی قوم پر، پاکستان کے عام شہری پر جس نے یہ تقریر سنی وہ نہ ہوتا۔چونکہ عمران خان نے یہ بات کی ہے اور عمران کی کریڈیبلٹی ہے۔ یہ وہ آدمی کہہ رہا ہے جس کے پیچھے 22 سال کی جدوجہد ہے یہ وہ آدمی کہہ رہا ہے جس نے 22 سال میں 2 ہسپتال، ایک یونیورسٹی، ایک ایم این اے اور 33 ایم پی ایز کے ساتھ دو اسمبلیوں میں رہ کر بنا کر دکھائی۔ وہ کیسے بنا کر دکھائی چونکہ عام آدمی نے عمران خان کی ذات پر اعتماد کیا۔ وہ اعتماد یہ تھا کہ اس نے عوام سے جو پیسہ لیا وہ کام کر کے دکھائے۔ یہ فرق ہے عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد اپنے پہلے قوم سے پہلے خطاب میں کی ہے عمران بہ نسبت ماضی کے حکمران مختلف اوقات میں کرتے رہے ہیں۔ وہ وعدے ضرور کرتے رہے مگر عمل نہیں کروا سکے۔ وہ وعدے تو کرتے رہے جنوبی پنجاب صوبہ پچھلی دو حکومتوں میں نہیں بنا۔ وہ وعدے ضرور کرتے رہے مگر ہسپتالوں کی حالت زیر وہی رہی ہے۔ وہ وعدہ ضرور کرتے رہے پولیس کا نظام درست نہ کر سکے۔ وہ وعدے ضرور کرتے رہے مگر ایوان صدر، وزیراعظم ہاﺅس کے اخراجات میں کبھی کمی نہیں آئی۔ تو یہ وہ فرق ہے جو آج کے بعد سے پاکستانی قوم کو میں پرامید ہوں وہ دکھائی دے گا۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں وزیراعظم عمران خان کے مشکل ترین وقت ہے ان فیصلوں کے جس کا اعلان انہوں نے کیا ہے اگر ہماری ملک کی بیورو کریسی، اسی وجہ سے انہوں نے خاص کر میں نے کئی وزراءاعظم کی تقاریر سنی ہیں اور ان کی پالیسی سٹیٹ منٹ سنی لیکن سب سے ضروری بات جو انہوں نے کہا کہ ہم پالیسی بناتے رہیں گے اگر اس پر عملدرآمد کرنے کے لئے ہماری بیورو کریسی مدد نہیں کرے گی جس کا مجھے سب سے زیادہ خدشہ ہے۔ لیکن امید ہے عمران خان کے آنے کے بعد پاکستان کی بیورو کریسی کو عملدرآمدکرنا پڑے گا۔کیونکہ بیورو کریسی کو پتہ ہے کہ اگر انہوں نے حکومتی پالیسی پر عملدرآمد نہ کیا تو وہ اپنی موجودہ پوزیشن پر نہیں رہیں گے۔ ایسا ہونے والا ہے ہو سکتا ہے تھوڑا ٹائم لگ جائے، وزیراعظم نے اشارہ دے دیا ہے۔ وزیراعظم نے اپنی ایک گھنٹہ 45 منٹ کی تقریر میں ایک گھنٹہ 38 منٹ پاکستان کے ڈومیسٹک و اندرونی ایشوز پر کی ہے، اس انفراسٹرکچر پر کی ہے جس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر عمران خان کے خیالات 22 سال پہلے والے ہی ہیں تو میرے خیال میں وہ یہ کر گزریں گے کیونکہ اگر نہ کیا تو ماضی کے حکمرانوں کی طرح کٹہرے میں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمران خان 2 ملازم اور 2 گاڑیاں رکھتے ہیں تو باقی ملازموں کی تنخواہیں اور گاڑیوں سے ماہانہ کروڑوں روپے کی بچت آتی ہے۔ میری معلومات کے مطابق وزیراعظم میں ہونے والی کسی ایک تقریب کے اخراجات 6 سے 7 کروڑ روپے ہوتے ہیں اگر سو سے زائد افراد ہوں۔ ماضی میں حکمرانوں کا طرززندگی شاہانہ رہا ہے۔ اور وہ وہی پیسہ تھا جو لوگوں پر لگنا چاہئے تھا۔ میرا نہیں خیال تھا کہ وہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی خاص خیال رکھیں گے۔ بڑے اعلانات کی توقع تھی۔ وزیراعظم ہاﺅس میں یونیورسٹی بنانے کا مجھے معلوم تھا، 3 بڑے ہوٹلز سے بھی ان کی بات ہوئی ہے اگر وہ اس کو یونیورسٹی کے بجائے ہوٹل میں تبدیل کرنا چاہیں۔ برطانیہ میں 2 یونیورسٹیوں کے کیمپس سے بھی بات ہوئی ہے کہ کیا وہ یہاں اپنا کیمپس بنانا چاہتے ہیں۔ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس یونیورسٹی بنے گی یا ہوٹل بہرحال اگر وہ پیسہ وہاں کی بجائے ملکی خدمت میں لگے گا تو وہ عوام کا پیسہ ہے اس کی طرف جائے گا۔

 

قوم تیار ہوجائے یا تو ملک بچے گا یا کرپٹ افراد، عمران خان

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنے مشکل مالی حالات نہیں تھے جیسے کے اب ہیں۔عمران خان نے گزشتہ روز وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا اور آج وہ قوم سے اپنا پہلا خطاب کررہے ہیں۔قوم سے اپنے خطاب میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت 28 ہزار ارب روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 10 سال قبل پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب روپے تھا جو کہ 2013 میں بڑھ کر 15 ہزار ارب اور اب یہ 28 ہزار ارب روپے ہوچکا ہے۔ایک طرف قوم مقروض ہے دوسری طرف صاحب اقتدار اس ملک میں ایسے رہتے ہیں جیسے انگریز یہاں رہتے تھے جب ہم ان کے غلام تھے۔وزیراعظم کے پاس 80 گاڑیاں ہیں جن میں سے 33 بلٹ پروف ہیں، گزشتہ دور حکومت میں 75 کروڑ روپیہ بیرونی دوروں پر خرچ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ بہت سنگین ہے، پاکستان دنیا کا ساتواں سب سے متاثر ہونے والا ملک ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ سوا دو کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، ا?بادی بھی بڑھ رہی ہے اور اگر انہیں تعلیم نہ دی گئی تو ان بچوں کا کیا ہوگا۔مدینے کی ریاست کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے قانون کی بالادستی قائم کی، انہوں نے کہا قانون کے سامنے تمام انسان برابر ہیں۔انہوں نے زکٰو? کا نظام قائم کیا، اسے پروگریسیو ٹیکسیشن کہتے ہیں، ا?ج مغرب اس پر عمل کررہا ہے، سوئیڈن، ناروے وغیرہ میں ایسا ہی نظام قائم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج وقت ہے کہ ہم اپنی حالت بدلیں، ہمیں دل میں رحم پیدا کرنا ہوگا،45 فیصد بچوں کو صحیح غذا نہیں ملتی، ہمیں سوچ اور رہن سہن بدلنا ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ وہ اپنے استعمال کے لیے صرف دو ملازم دو گاڑیاں رکھیں گے، باقی تمام گاڑیاں نیلام کی جائیں گی اور ان سے ہونے والی ا?مدنی قومی خزانے میں شامل کی جائے گی۔ عمران خان نے کہا کہ جو قرضہ دیتا وہ ا?پ کی ا?زادی چھین لیتا ہے، قرضہ مختصر مدت کے لیے لیا جاتا ہے، جرمنی اور جاپان نے بھی قرضے لیے لیکن مختصر مدت کے لیے۔
کفایت شعاری کیلئے ٹاسک فورس بنائی جائے گی
عمران خان نے کہا کہ کفایت شعاری کیلئے ٹاسک فورس بنائی جائے گی جس کی سربراہی ڈاکٹر عشرت حسین کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس ٹاسک فورس کا کام حکومت کے ہر شعبے میں بچت کی حکمت عملی بنانا ہوگا۔’بچت سے حاصل ہونے والی رقم غریب اور نظر انداز کیے گئے طبقے پر خرچ کی جائے گی تاکہ وہ بھی معاشرے کے دوسرے شہریوں کی طرح اوپر آسکیں اور ملکی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرسکیں۔‘
’قوم کو اپنے پیر پر کھڑا کروں گا‘
عمران خان نے کہا کہ قوم کو اپنے پیر پر کھڑا کروں گا، 20 کروڑ کی آبادی میں پاکستان میں صرف 8 لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں، ایسے ملک نہیں چلے گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں سب سے پہلے ایف بی آر کو ٹھیک کروں گا، لوگوں کو اس پر اعتماد نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد میں عوام کو یہ اعتماد دوں گا کہ آپ کے ٹیکس کی حفاظت میں خود کروں گا۔ روز عوام کو بتائیں گے کہ ہم کتنا عوام کا پیسہ بچارہے ہیں لیکن شہریوں کا فرض ہے کہ وہ بھی ٹیکس ادا کریں، قوم کی عزت کی خاطر ٹیکس ضرور ادا کریں۔ جب پیسے والے لوگ ٹیکس دیتے ہیں تو اس سے نچلے طبقے کو اوپر اٹھایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ٹیکس کا نظام ٹھیک کرلیا تو معاشی مسائل حل ہوجائیں گے اور اپنے خرچے اپنے وسائل سے پورے کریں گے۔
پیسہ واپس لانے کیلئے ٹاسک فورس بنانے کا اعلان
عمران خان نے کہا کہ وہ بیرون ملک موجود پاکستان کا پیسہ واپس لانے کے لیے ٹاسک فورس قائم کریں گے۔ ہر سال ایک ارب ڈالر بیرون ملک منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر چلا جاتا ہے۔عمران خان نے قوم سے اپیل کی کہ کسی ایسے لیڈر کو ووٹ نہ دیں جس کا سرمایہ بیرون ملک موجود ہے۔ جب اس کا پیسہ باہر ہوگا تو وہ ملک کا مخلص نہیں ہوسکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ غیر ملکی پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کریں گے، ہم چاہیں گے ا?پ اپنا پیسہ یہاں لائیں یا پاکستانی بینکوں میں پیسے رکھیں، ہمیں ڈالرز کی سخت ضرورت ہے۔
’سرمایہ کاری اور برآمدات بڑھائیں گے‘
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرکے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھائیں گے جبکہ ساتھ ہی ملکی برآمدات میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپنا پیسہ پاکستان لانے کی اپیل
عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے خاص طور پر مخاطب ہوتے ہوئے اپیل کی کہ وہ اپنا پیسہ پاکستان واپس لائیں، اپنا پیسہ پاکستان میں لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان پر مشکل وقت ہے، جو بھی پیسہ پاکستان بھیجتے ہیں بینکوں کے ذریعے بھیجیں، ملک کو مشکل سے نکالنے کے لیے ہمیں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مدد کی ضرورت ہے۔
کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو انعام دینے کا اعلان
عمران خان نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے وہ ایک قانون سازی کریں گے جسے ‘وسل بلوو¿ر ایکٹ’ کا نام دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے تحت سرکاری محکموں میں جو بھی شخص کرپشن کی نشاندہی کرے گا اس کے نتیجے میں کرپشن کرنے والے شخص سے برآمد ہونے والی رقم کا 20 فیصد بطور انعام دیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جیل اور پولیس کا نظام بھی درست کریں گے۔
عدالتی نظام میں اصلاحات کریں گے
عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ مشاورت کریں گے اور کوشش کی جائے گی کہ کوئی بھی کیس ایک سال سے زائد نہ چلے۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ کئی بیوہ خواتین کے کیسز کافی عرصے سے عدالت میں زیر التوائ ہیں،انہیں جلد از جلد نمٹایا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جیل اور پولیس کا نظام بھی درست کریں گے۔