Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Trending
    • مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
    • قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
    • سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
    • مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
    • آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
    • معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
    • صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
    • گوگل ماہرین کی ’زیرو-ڈے‘ ایکسپلائٹ سے متعلق تشویشناک رپورٹ پیش
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • سنڈے میگزین
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Khabrain Group Pakistan
    Home»سائنس و ٹیکنالوجی»سورج کی روشنی سے دھکیلا جانے والا اسپیس کرافٹ
    سائنس و ٹیکنالوجی

    سورج کی روشنی سے دھکیلا جانے والا اسپیس کرافٹ

    Khabrain NewsBy Khabrain Newsستمبر 10, 2024Updated:ستمبر 11, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    واشنگٹن ڈی سی: رواں ہفتے کے آخر میں ناظرین کو سورج کی روشنی سے چلنے والا ایک جدید خلائی جہاز  کو خلاء میں تیرتے ہوئے دیکھنے کا ایک شاندار نظارہ ملے گا۔

    ناسا کے انجینئرز ایڈوانسڈ کمپوزٹ سولر سیل سسٹم ٹیکنالوجی کی آزمائش کر رہے ہیں جس کا مقصد مستقبل کے خلائی مشنز کی لاگت کو کم کرنے کے طریقوں کی تلاش ہے۔

    اس مقصد میں ایندھن کے استعمال میں کٹوتی بھی شامل ہے۔ جس طرح ایک بادبانی کشتی کو ہوا کے ذریعے دھکیلا جاتا ہے ، اسی طرح اے سی ایس 3 سیل سورج کی روشنی کے دباؤ پر منحصر ہے۔جیسے ہی روشنی کے ذرات اس کی سطح سے ٹکراتے ہیں ، وہ رفتار منتقل کرتے ہیں اور خلائی جہاز کو تیز کرتے ہیں۔

    اس کا تھرسٹ چھوٹا ہوسکتا ہے ، لیکن یہ طویل مدت کے لیے موثر ثابت ہوا ہے۔

    جاپانی خلائی ایجنسی جیکسا نے پہلی بار 2010 میں اسی طرح کا ایک اسپیس کرافٹ خلاء میں بھیج کر آزمائش کی تھی۔

    اب ناسا کو امید ہے کہ تجرباتی ٹیکنالوجی کو آزمائش میں لایا جائے گا، جس میں ایک ہلکا پھلکا اور پائیدار بوم اس اسپیس کرافٹ کو تیرنےمیں سپورٹ کرے گا۔

    بوم کو کیوب سیٹ سے نصب کیا گیا ہے ، جو ایک بکس کی شکل کا چھوٹا مصنوعی سیارہ ہے جس کا وزن تقریبا ایک کلوگرام ہے۔

     

     

    لہرانے والا اسپیس کرافٹ خود ایک طرف سے تقریبا 9 میٹر یا 30 فٹ لمبا ہے۔

    اے سی ایس 3 لچکدار کمپوزٹ مواد کا استعمال کرتا ہے اور سیارچوں پر اترنے جیسے مشنز کے لئے ایک مناسب اضافہ ہوگا جس میں کم زور پروپلژن کی ضرورت ہوتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Khabrain News

    Related Posts

    گوگل ماہرین کی ’زیرو-ڈے‘ ایکسپلائٹ سے متعلق تشویشناک رپورٹ پیش

    مئی 27, 2026

    موسم گرما کے دوران اے سی کو کس نمبر پر چلانا چاہیے؟ ماہرین کی رائے جانیں

    مئی 26, 2026

    لیتھیم اخذ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی تیار

    مئی 25, 2026

    Comments are closed.




    Facebook X (Twitter) Instagram Pinterest
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 ThemeSphere. Designed by ThemeSphere.

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.